تیری نظر کے اجالے بھلا کہاں ڈھونڈیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
فنا کے بعد میری باقیات جاں ڈھونڈیں
پس حیات مجھے اہل دوجہاں ڈھونڈیں
بھلا دیا ہو خود اپنی ضرورتوں نے جنھیں
تو اے امید! بتا وہ تجھے کہاں ڈھونڈیں
کہاں وہ لوگ جو اب داد دیں شجاعت کی
کہ چڑھ کے دار پہ اک اور امتحاں ڈھونڈیں
الٰہی خیر تیرے ناشناس بندوں کی
تیرے حضور پہنچ کر بھی یہ اماں ڈھونڈیں
نظر نے حشر سی وہ بے قراریاں دیکھیں
مکیں زمین کے سارے ہی آسماں ڈھونڈیں
نہ تیرگی میں، نہ ظلمت کدے میں، نہ دل میں
تیری نظر کے اجالے بھلا کہاں ڈھونڈیں
دلوں کا زہر فضاؤں میں گھل گیا مخلصؔ
ہمارے بچے خیابان لامکاں ڈھونڈیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





