منزل بدل گئی ہے کہ رستہ بدل گیا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اتنے قلیل وقت میں کتنا بدل گیا
جاناں! تمھارے شہر کا نقشہ بدل گیا
اس کا پتا میں ڈھونڈ رہا ہوں گلی گلی
منزل بدل گئی ہے کہ رستہ بدل گیا
آنکھوں میں میں نے اشک چھپا تو لیے مگر
رخصت کے وقت میرا جو لہجہ بدل گیا
کیا جانے یاد آگیا کیا دفعتًا اسے
مجھ پر نگاہ پڑتے ہی چہرہ بدل گیا
اوروں کے واسطے جو سمجھتے تھے وہ حرام
جب خود پہ بات آئی نظریہ بدل گیا
کہتا ہے خود زمانہ کہ بدلے ہوئے ہیں لوگ
لوگوں کا ہے خیال زمانہ بدل گیا
منظر بدلتے دیکھے ہیں آنکھوں نے یوں سحؔر
اب یاد بھی نہیں ہے کہ کیا کیا بدل گیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
ز
زبیر فیضی
6 مارچ، 2021ماشاء اللہ عمدہ غزل





