بدعت کی تعریف
بدعت لغت عرب میں بدع سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کا ایسے طریقے پر ایجاد کرنا جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو۔اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:
بَدِیْعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ (البقرہ: ۱۱۷)یعنی اللہ نے آسمان وزمین کو بغیر کسی کے نمونے کے بنایا ہے۔
موجودہ دور میں ہم اس کی مثال جہاز یا بجلی وغیرہ کے ایجاد سے دے سکتے ہیں۔(النہایہ،
اسی معنی کی طرف ابن فارس نے بھی (معجم مقاییس اللغۃ: ص۱۰۱) میں اشارہ کیا ہے۔
شریعت کی اصطلاح میں بدعت کہتے ہیں: دین میں کسی ایسے کام کا ایجاد کرنا جس کی کوئی مثال موجود نہ ہو،
من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد(متفق علیہ)جس نے دین کے نام پر کوئی نیا کام ایجاد کیا،
بدعت کی قسمیں
بدعت کی متعدد قسمیں ہیں:
پہلی قسم:
ایسی بدعت جن کا تعلق قول واعتقاد سے ہے،
دوسری قسم:
عبادتوں میں بدعت،
۱۔نفس عبادت ہی بدعت ہو،
۲۔مشروع عبادت میں زیادتی،
۳۔مشروع عبادت میں کمی،
۴۔عبادت کی ادائیگی کا طریقہ بدل دیا جائے،
۵۔کسی عبادت کو کسی ایسے وقت میں خاص کرنا جس میں شریعت نے خاص نہیں کیا ہے،
بدعت مکفرہ وغیر مکفرہ میں فرق کرنے کا ضابطہ:
بدعت کی مذکورہ تقسیم سے ہم نے یہ بات واضح طور سے جان لیا کہ ہر بدعت اس کے مرتکب کو کافر نہیں بناتی ہے،
چنانچہ اس میں فرق کرنے کا ضابطہ یہ ہے کہ جو بدعت ان امور شرعیہ کے انکار اور روگردانی کا نتیجہ ہوں جو دین میں معروف اور معلوم بالضرورہیں تو یہ بدعت مکفرہ ہے اور جو بدعت کسی تاویل یا جہالت کا نتیجہ ہو وہ مکفرہ نہیں ہے۔(الاعتصام،
بدعت کا حکم
مختصر طور سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں دین میں ہر بدعت حرام ہے اور گمراہی کا سبب ہے،
إیاکم ومحدثات الأمور،
من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد (متفق علیہ)جس نے دین میں کوئی نئی بات ایجاد کی تو وہ مردود ہے۔( الإرشاد إلی صحیح الاعتقاد،
اس اجمال کی تفصیل اس طرح ہے کہ دین میں بدعت کا ایجاد کرنا حرام ہے،
مثال کے طور پر بعض بدعتیں حرام ہیں اور ان کا ارتکاب کفر ہے اور ان کا کرنے والا کافر ہے،
بعض بدعتیں بذات خود شرک نہیں بلکہ وہ شرک کا وسیلہ ہیں جیسے قبروں پر عمارتیں تعمیرکرنا،
بعض بدعتیں اعتقادی فسق ہیں،
اور بعض بدعتیں نافرمانی کے کاموں میں سے ہیں جیسے دھوپ میں کھڑے ہوکر روزہ رکھنا،
بدعتوں کے ظہور کے اسباب،
بدعت میں پڑنے کے مختلف اسباب ہیں اور کوئی ضروری نہیں کہ ہر انسان ایک ہی وجہ سے بدعت میں پڑے بلکہ اس کی متعدد وجہیں بھی ہو سکتی ہیں،
۱۔دینی احکام سے لا علمی اور جہالت
۲۔خواہشات نفس کی پیروی
۳۔مخصوص لوگوں کی رائے کے لیے تعصب برتنا
۴۔کافروں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور ان سے مشابہت اختیار کرنا۔(حقیقۃ البدعۃ وأحکامھا،
عموما بدعتیں عراق اور ایران کی سر زمین سے پیدا ہوئی ہیں،
مکہ اور مدینہ (یعنی حرمین شریفین) سے کسی قسم کی بدعت کا ایجاد نہیں ہوا ہے،
ان بدعتوں میں پہلے پہل خوارج اورشیعیت وغیرہ کی بدعتیں پیدا ہوئیں اور یہ خلفاء راشدین کا آخری دور تھا،
پھر اعتزال کی بدعت اور نئے نئے فتنے رونما ہوئے،
قرآن وحدیث میں بدعت کو نہایت مذموم شیٔ قرار دیا گیا ہے،
(۱)عیسائیوں نے رہبانیت کی بدعت ایجاد کی تھی،
وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَآتَیْنَاہُ الْإِنجِیْلَ وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُ رَأْفَۃً وَرَحْمَۃً وَرَہْبَانِیَّۃً ابْتَدَعُوہَا مَا کَتَبْنَاہَا عَلَیْہِمْ(الحدید:۲۷)اور ان کے بعد عیسی بن مریم کو بھیجا اور انھیں انجیل عطا فرمائی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کردیا،
(۲)ہر بدعت گمراہی ہے،
کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ (صحیح مسلم) ہر بدعت گمراہی ہے۔
(۳)ہر بدعت جہنم میں لے جانے کا راستہ ہے،
کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ،
اب ہم نے جب یہ جان لیا کہ دین کے نام پر کوئی بھی نیا کام جو نبیﷺ اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں نہیں تھا اس کا کرنا یا اس کو دین سمجھنا بدعت ہے۔تو ہم نے یہ بھی جان لیا کہ کسی بھی وقت موسم دن اور مہینے کے ساتھ کسی عمل کو خاص کرنا بھی شریعت کا ہی کام ہے۔اگر شریعت نے کسی مخصوص عمل (عبادت) کو کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں کیا ہے تو ہم میں سے کسی کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے،
اللہ تعالی ہر قسم کی بدعات وخرافات سے ہمیں محفوظ رکھے اور اپنے نبی کی سنت کا سچاپکا متبع بنائے۔آمین
وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم تسلیما مزیدا






