جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

شکر ہے، دیکھ لی ہر رنگ کی دنیا ہم نے

کلام: عبدالکریم شاد20 مارچ، 20211,714قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہر طرف جال سرابوں کا ہی پایا ہم نے
قیس کی آنکھ سے دیکھا نہیں صحرا ہم نے
زندگی! راہ محبت میں تھے وہ پیچ و خم
بڑی مشکل سے ترا بوجھ سنبھالا ہم نے
آج تو پھولوں پہ اترا کے چلا جاتا ہے
راستے سے ترے کانٹوں کو ہٹایا ہم نے
کبھی شاخوں میں ہم الجھے تو کبھی پتوں میں
جب کسی پیڑ سے پھل توڑنا چاہا ہم نے
ایک تعبیر سے خائف تھیں ہماری آنکھیں
’’ایک مدت سے کوئی خواب نہ دیکھا ہم نے‘‘
کہیں بے کار نہ ہو جائیں ہماری آنکھیں
’’ایک مدت سے کوئی خواب نہ دیکھا ہم نے‘‘
ہم تو آ جاتے ہیں ہر بار تری باتوں میں
لڑکھڑا کر بھی سنبھلنا نہیں سیکھا ہم نے
شہر میں جب بھی ہوا ریپ کسی لڑکی کا
اپنی بیٹی کو کلیجے سے لگایا ہم نے
خوب چھینٹے پڑے عینک پہ ہماری اے شاد!
شکر ہے، دیکھ لی ہر رنگ کی دنیا ہم نے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

شکر ہے، دیکھ لی ہر رنگ کی دنیا ہم نے - دی فری لانسر | دی فری لانسر