الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى وبعد!
ماہ شعبان ہجری تقویم کا آٹھواں مہینہ اور نیکیوں کا خاص موسم ہے۔اس ماہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت نفلی روزے رکھتے تھے۔ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم،
عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے:
لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يصوم شهرا أكثر من شعبان،
اس حدیث میں ’پورے ماہ‘ سے اکثر ایام مراد ہیں نہ کہ مکمل مہینہ اگر چہ بعض اہل علم نے ’اکثر روزے‘ اور ’کل روزے‘ والی حدیثوں کے درمیان یہ تطبیق دی ہے کہ کسی سال اکثر ایام کے روزے رکھتے اور کسی سال پورا مہینہ ہى روزہ سے ہوا کرتے تھے۔پہلی بات زیادہ صحیح ہے،
ولا صام رسول الله صلى الله عليه وسلم شهرا كاملا منذ قدم المدينة غیر رمضان(صحیح مسلم:۱۱۵۶،
شعبان میں بکثرت روزہ رکھنے کی کئی وجوہات اہل علم نے بیان کی ہیں لیکن سب سے زیادہ قوی بات وہی ہے جس کا بیان خود زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بروایت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ صا در ہوا ہے:
ذلِكَ شَهْرٌ يَغفُلُ النَّاسُ عنهُ بينَ رجبٍ ورمضانَ،
ماہ شعبان سے لوگوں کی غفلت کا مطلب یہ ہے کہ ماہ رجب حرمت والا مہینہ ہے اور ماہ رمضان ماہ صیام و نزول قرآن ہے۔عام طور پر لوگ ماہ حرام اور ماہ صیام کا خاص اہتمام کرتے ہیں اور شعبان سے غفلت برتتے ہیں اور ماہ رجب میں روزہ رکھنے کو افضل جانتے ہیں جب كہ ماہ رجب میں خصوصی طور پر روزہ رکھنا ثابت نہیں ہے۔شعبان کے روزے دیگر تمام مہینوں کے نفلی روزوں سے افضل ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھار غیر مشہور واقعات اور جگہیں بلکہ افراد بھی مشہور کے مقابلہ میں افضل ہوتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ غفلت کے اوقات میں بندگی کی بجا آوری افضل عمل ہے اور اطاعت کرنے والا ریا سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
علاوہ ازیں بندوں کے اعمال کی رب العالمین کے حضور پیشی یومیہ،
علامہ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ نے ماہ شعبان کے روزوں کی افضلیت کی ایک علت یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ روزے ٹھیک ماہ رمضان کے فرض روزوں سے پہلے رکھے جاتے ہیں تو گویا ان کی حیثیت نماز فرض سے قبل ادا کی جانے والی سنت مؤکدہ کی ہے،
یہاں اس تعارض کا دفعیہ بھی مناسب ہے کہ ایک طرف تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ماہ شعبان میں بکثرت روزہ رکھنے کا تھا اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
افضل الصیام بعد رمضان شهر الله المحرم (صحیح مسلم:۱۱۶۳عن ابی ھریرہ)
ماہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم الحرام-جسےبطور تکریم شہر اللہ (اللہ کا مہینہ) کہا گیا ہے-کے روزے ہیں۔اہل علم نے یہ تطبیق دی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یا تو محرم الحرام کے روزے کی افضلیت کا علم اخیر عمر میں ہوا ہوگا جس کے سبب آپ اس کو عملی جامہ نہ پہنا سکے یا پھر آپ سفر اور بیماری کے سبب محرم کے بکثرت روزہ رکھنے سے معذور رہے ہوں یا پھر اس کو نفل مطلق پر محمول کیا جائے۔
دوسری ایک حدیث جو نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے کی ممانعت پر دلالت کرتی ہے اور محققین کی ایک جماعت نے اس کی تصحیح فرمائی ہے:
اذا انتصف شعبان فلا تصوموا حتی یکون رمضان(اخرجہ اھل السنن عن ابی ھریرہ،
اس روایت کے تعلق سے امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ آدمی ماہ شعبان کے نصف اول میں روزہ سے نہ ہو اور جب نصف آخر آ جائے تو رمضان کے پیش نظر روزے رکھنا شروع کر دے،
لہذا شعبان کی ۱۶تاریخ سے آخر ماہ تک آدمی اپنے فرض روزوں کی قضا کر سکتا ہے،
لا يتقدمن أحدكم رمضان بصيام يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصمه(صحيح بخاری:۱۹۱۴،
یعنی کوئی شخص احتیاطی طور پر شعبان کے آخری ایک دو دنوں کا روزہ نہ رکھے کیونکہ رمضان کا روزہ رویت ہلال پر موقوف ہے۔لہذا احتیاط کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ہاں اگر کوئی اپنی عادت کے مطابق سوموار یا جمعرات کا دن ہونے کی وجہ سے رکھے تو اور بات ہے،
أصمت من سرر شعبان .........إلی آخرالحديث (صحیح بخاری:۱۹۸۳،
کیا تم نے شعبان کے آخری ایام میں (جن میں چاند روپوش ہوتا ہے ) کے روزے رکھے؟ کہا نہیں آپ نے فرمایا جب رمضان گزر جائے تو دو دن روزہ رکھ لینا۔
عمر ان بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ یا کوئی دوسرے صحابی رضی اللہ تعالی عنہ اخیر ماہ میں عادتا روزہ رکھا کرتے تھے یا نذر کا روزہ رہا ہو جسے انھوں نے ماہ رمضان کی آمد کے انديشہ سے یا ایک دو دن قبل روزہ رکھنے کی ممانعت کی وجہ سے نہ رکھا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اندیشہ کودور فرمایا کہ صوم معتاد ممانعت کے اندر داخل نہیں ہے۔
پندرہویں شعبان کا ایک روزہ
پندرہویں شعبان کے ایک روزہ کی حدیث حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے سنن ابن ماجہ میں مروی ہے:
إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها".... إلخ (سنن ابن ماجہ:۱۳۸۸)
یعنی جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو رات میں قیام کرو اور دن کا روزہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٍ غروب آفتاب سے طلوع فجر تک نچلے آسمان پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ: ہےکوئی مغفرت کا طالب کہ میں اسے بخش دوں،
واضح ہو کہ اس روایت کی سند میں ابن ابی سبرہ-ابو بکر بن عبد اللہ بن محمد بن سبرہ-ہے جسے امام احمد اور یحیٰ ابن معین رحمہما اللہ نے حدیث گھڑنے والا بتایا ہے،
لہٰذا اس روایت سے استدلال جائز نہیں ہے۔
ماہ شعبان میں ایام بیض کے روزوں کا حکم:
ایام بیض سے ہر قمری مہینہ کی تیرہویں،
یقینا سنن و نوافل پر مداومت کرنا افضل ہے،






