جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اور دین مکمل ہو گیا (شب برأت کے پس منظر میں)

تحریر: ذکی نور عظیم ندوی27 مارچ، 20211,344قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اور دین مکمل ہو گیا (شب برأت کے پس منظر میں)
فل اسکرین دیکھیں

قرآن کریم میں بہت سی آیتوں اور سورتوں کی الگ سے فضیلت اور اہمیت بیان کی گئی ہے۔’آیۃ الکرسی‘ کو سب سے عظیم آیت،’سورۃ الفاتحہ‘ کوسب سے عظیم سورت اور ’سورہ اخلاص‘ یعنی قل ھو اللہ احد کو ’ثلث القرآن‘(ایک تہائی قرآن) کہا گیا،لیکن قرآن کریم میں سورہ مائدہ کی آیت نمبر۳ کے جزء ’الیوم أکملت لکم دینکم و أتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا‘ کے تعلق سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول نہیں ملتا،اس کے باوجود یہود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ قرآن میں ایک آیت ایسی ہے کہ اگر وہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس کو عید اور خوشی کا دن مناتے،اپنے لیے باعث افتخار مانتے اور اس کا اظہار کرتے،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے بھی اس کو مانا اور کہا کہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ وہ آیت کون سی ہے کس جگہ پر کس موقع پر نازل ہوئی۔لیکن ہم پابند ہیں اللہ اور رسول کی اطاعت کے،ہم کوئی ایسا عمل نہیں کریں گے جس کی تائید اللہ کے کلام یا میرے نبی سے نہ ہو۔

لہذا ضرورت ہے کہ اس کی عظمت کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے،اس سلسلے میں مختلف اقوال ملتے ہیں بعض لوگوں نے اس کو قرآن کریم کی آخری آیت قرار دیا،حالانکہ یہ راجح نہیں بلکہ زیادہ تر لوگوں نے سورہ بقرہ کی آیت

وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

کو آخری آیت قرار دیا ہے۔

لیکن اس آیت کے دو پہلو ایسے ہیں جو اس کی عظمت کی دلیل اور نہایت اہم سبب مانے جا سکتے ہیں اور دین کے بہت سے مسائل کو پوری طرح واضح کر دیتے ہیں انھی میں شب برأت،ربیع الاول اور محرم بھی ہیں۔

۱۔جب دین مکمل ہو گیا تو اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے بعد جو واقعات پیش آئے ان کی تاریخی حیثیت جو بھی ہو،اس کی بنیاد پر دین میں کسی شعار کے اضافے کی قطعاً گنجائش نہیں۔

۲۔جو چیزیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں بار بار پیش آئے اگر اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے کسی عمل کا ثبوت نہیں تو وہ کبھی بھی دینی شعار یا دین کا جزء ہو ہی نہیں سکتا۔

لہذا یہ آیت ’الیوم أکملت لکم دینکم و أتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا‘ یعنی دین مکمل ہو گیا،بہت سے مسائل چاہے اس کا تعلق شب برات سے ہو،ربیع الاول،محرم،یا کسی دیگر عبادت و مسائل سے ہو واضح کر رہی ہے کہ دین کے مکمل ہونے کا مطلب یہی ہے کہ جو چیزیں نبی کے زمانے میں نہیں تھیں اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملتا تو وہ دین کا جزء ہو ہی نہیں سکتے۔اسی طرح نبی کے بعد کے کسی بڑے سے بڑے تاریخی واقعہ سے بھی دین کے کسی شعار یا عمل کے اضافے کو کسی طرح درست نہیں مانا جاسکتا۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اور دین مکمل ہو گیا (شب برأت کے پس منظر میں) - دی فری لانسر | دی فری لانسر