آٹھویں صدی عیسوی میں سر زمین مصر پر ایک ایسے نحوی عالم کا ظہور ہوا جس نے پوری زندگی عربی زبان کی خدمت میں وقف کردی،
نحو وصرف پر پوری زندگی وقف کر دینے والی اس ہستی نے جب اپنی زندگی کی آخری کتاب لکھنے کا ارادہ کیا تو اس کے لیے دنیا کی سب سے بہترین جگہ مکہ مکرمہ کا انتخاب کیا،
ابن ہشام انصاری (ت۷۶۱ھ) کا شمار چوٹی کے ان نحویوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی تصنیفات میں نئے فوائد بیان کرنے،
ابن ہشام اپنی باتوں کو مختصر ومطول دونوں طریقوں سے بیان کرنے پر قدرت رکھتے تھے،
ما زلنا ونحن بالمغرب نسمع أنه ظهر بمصر عالم بالعربية يقال له ابن هشام أنحى من سيبويه(دیکھیں: بغیۃ الوعاۃ از السیوطی:۲/۶۹) یعنی ہم مغرب میں رہتے ہوئے سن رہے ہیں کہ مصر میں عربی قواعد کے ایک عالم کا ظہور ہوا ہے جن کا نام ابن ہشام ہے اور جو سیبویہ سے بھی بڑے نحوی ہیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ان کی تالیفات میں معلومات کی کثرت بھی ہوتی ہے اور انھیں اچھی عبارت اوراچھے اسلوب میں بیان کرنا بھی خوب جانتے ہیں۔
ان کی زندگی کی آخری کتاب ’مغنی اللبیب‘ کا پورا نام ’مغنی اللبیب عن کتب الأعاریب‘ ہے جس کے معنی ہیں: یہ کتاب عقلمندوں کو دوسری اعراب کی کتابوں سے بے نیاز کر دے گی،
یہ کتاب علم نحو بالخصوص علم اعراب میں انسائیکلو پیڈیا ہے جس میں تمام مسائل کو شواہد اورمثالوں کے ساتھ مفصل انداز میں بیان کیا گیا ہے،
یہ کتاب نحو میں اہم مرجع ومصدر کی حیثیت رکھتی ہے چنانچہ اس کتاب کا حوالہ فن نحو میں دیا جاتا رہا ہے اور قیامت تک دیا جاتا رہے گا،
مغنی اللبیب ان گنی چنی چند کتابوں میں سے ایک ہے جن کے مؤلف نے فن نحو میں ایک نیا منہج پیش کیا ہے اور اس طرح کی کتابوں میں سب سے پہلا نام سیبویہ کی الکتاب ہے،
یہ کتاب احکام الحروف یعنی حروف کے تعلق سے تمام نحوی مسائل کو یکجا بیان کرنے میں سب سے اچھی کتاب ہے،
إن شئت أن تنظر في تعدد المعاني الوظيفية للأداة فارجع إلى كتاب مغني اللبيب،
یہ کتاب اچھی تحقیق کے ساتھ کئی بار منظر عام پر آچکی ہے۔اس میں سب سے اچھی تحقیق استاذ محی الدین عبد الحمید کی ہے جو مصر قاہرہ سے چھپی ہے۔پھر مازن مبارک اور محمد علی کی تحقیق ہے،
یہ کتاب نحوی مسائل پر تفصیلی گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ بلاغی وصوتی مسائل کو بھی بیان کرتی ہے،
کسی بھی کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ بعد کے لوگوں نے اس پر کتنی توجہ دی ہے اور اس کو کس نظریہ سے دیکھا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے نحویوں نے نہ صرف اس پر توجہ دی ہے بلکہ ہر ناحیہ سے اس کتاب پر دراسہ (ریسرچ) کیا گیا ہے؛
(۱)بدر الدین الدمامینی کی شرح اور تعلیق ( تحفۃ الغریب فی حاشیۃ مغنی اللبیب)
(۲)المنصف من الکلام علی مغنی ابن ہشام از تقی الدین الشمنی
(۳)الفتح القریب علی مغنی اللبیب از السیوطی
(۴)منتہی امل الأریب فی الکلام علی مغنی اللبیب از احمد بن محمد الحلبی
(۵)مواھب الأدیب از محمد بن محمد
اور جن علماء نے اس کے شواہد کی شرح کی ہے ان میں اہم:
(۱)شرح شواہد المغنی از السیوطی ( ت۹۱۱ھ)
(۲)شرح ابیات مغنی اللبیب از عبد القادر البغدادی ( ت۱۰۹۳ھ)
اس پر جو مختصرات لکھی گئی ہیں ان میں اہم:
دیوان الأریب فی مختصر مغنی اللبیب از محمد بن عبد المجید الشافعی (ت۹۶۱ھ)
اور جس نے اس کو نظم کی شکل میں لکھی وہ ہے ابو النجا بن خلف۔
اس کتاب کی تالیف کا مقصد بہت اونچا اور اعلی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ قرآن کریم اور حدیث نبوی کو سمجھا سکتا ہے،
ابن ہشام سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے قرآن کریم یا حدیث نبوی کی کسی کتاب کی شرح کی ہے تو ان کا جواب تھا کہ مغنی اللبیب کی تالیف نے مجھے اس سے بے نیاز کردیا ہے۔مقصد یہ تھا کہ مغنی اللبیب کو سمجھنے کے بعد قرآن کریم اور حدیث کی کتابوں کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔
کتاب کے سبب تالیف پر گفتگو کرتے ہوئے مؤلف نے کہا ہے کہ جب انھوں نے کتاب ’الاعراب عن قواعد الاعراب‘ لکھی تو لوگوں نے اسے بہت پسند کیا حالانکہ اس میں جو کچھ میں نے بیان کیا ہے وہ میرے پاس اعراب کے تعلق سے جو علم ہے اس کے بالمقابل وہ ایک قطرہ کی مانند ہے۔پس جو کچھ علم میرے پاس چھپا ہوا تھا اس کو میں نے اس کتاب میں انڈیل دیا ہے۔(دیکھیں: مغنی اللبیب کا مقدمہ:۱۳)
اگر ہم مغنی اللبیب کے علمی مستوی اور معیار کی بات کریں تو کتاب کی عبارت واسلوب سے اندازہ ہوگا کہ اس کا علمی معیار بہت بلند ہے،
وخطابي به لمن ابتدأ في تعلم الإعراب ولمن استمسك منه بأوسق الأسباب( مغني اللبيب:۱۶)
اس کتاب میں ابن ہشام نے جہاں بہت سی جگہوں پر دوسرے نحویوں پر نقد اور ردکیا ہے وہیں کئی جگہوں پر فقہاء کی نوک پلک بھی سیدھی کی ہے۔ابن ہشام فرماتے ہیں:
وقوله تعالى: للذين يؤلون من نسائهم أي: يمتنعون من وطء نسائهم بالحلف فلهذا عُدِّيَ بمن،
یعنی آیت میں ’مِن‘ کا متعلق ’یؤلون‘ نہیں ہے بلکہ اس کا متعلق فعل محذوف ہے اسی وجہ سے فقہاء کا کہنا ’آلی من امرأتہ‘ غلط ہے۔
اس مختصر سے مضمون میں اس کتاب کی تمام خوبیوں اور مشمولات کو بیان نہیں کیا جا سکتا،
۱۔بغية الوعاة في طبقات اللغويين والنحاة از السيوطي
۲۔مغني اللبيب عن كتب الأعاريب تحقيق: محيي الدين عبد الحميد
۳۔نشأة النحو وتاريخ أشهر النحاة از الشيخ على طنطاوي
۴۔اعتراضات البغدادي على ابن هشام في شرح أبيات مغنى اللبيب: ایم اے کا مقالہ،






