الفیۃ ابن مالک کی تالیف کسی معجزہ سے کم نہ تھی۔ابن مالک(ت۶۷۲ھ) نے نحوی وصرفی مسائل کو ایک خاص ترتیب ومنہج کے ساتھ نظم کی شکل میں ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔یہ تمام نظمیں ان کی کتاب ’الکافیۃ الخلاصۃ‘ کا ملخص ہیں اور بحر الرجز پر مشتمل ہیں۔اگرچہ ان سے پہلے الفیہ کی تالیف میں ابن معط کو سبقت حاصل ہے جس کا اعتراف ابن مالک نے خود کیا ہے تاہم الفیہ ابن مالک کو جو پذیرائی حاصل ہوئی وہ دوسری کتابوں کو کم ہی حاصل ہوئی۔اللہ تعالی نے نحو کی اس کتاب کو ایسی عام قبولیت عطا کی کہ علماء نے نہ صرف اس کی شرح وتوضیح کو اپنے لیے شرف سمجھا بلکہ اس کی شرحوں پر حواشی لگانے اور اس کی شرحوں کے شواہد کو حل کرنے کو اپنے لیے غنیمت جانا۔
متون علمیہ میں اسے وہ اہمیت حاصل ہے جو دوسرے بہت سے متون کو حاصل نہ ہوسکی۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے مدارس اور دینی مراکز میں اسے حرفا حرفا یاد کروا جاتا ہے،
ابن مالک وہی نحوی ہیں جنھوں نے عربی ونحوی شواہد کو ایک نیا اور منظم رخ عطا کیا ہے،
ایسے ایسے اشعار سے استدلال کرتے ہیں جو دوسرے نحویوں کے یہاں معروف نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان پر نحوی شواہد گھڑنے کا الزام بھی لگ چکا ہے جس پر ایک دو ماجستیر کا رسالہ بھی منظر عام پر آگیا ہے۔
اب تک الفیہ کی بہت سی شرحیں وجود میں آچکی ہیں جیسے:شرح ابن الناظم،
ان شروحات میں تین شرحیں بہت اہم ہیں:
(۱)شرح ابن عقیل: یہ شرح اس ناحیہ سے اہم ہے کہ بہت آسان اور واضح اسلوب میں ہے۔اس پر بھی بہت سے علماء نے حواشی چڑھایا ہے جن میں اہم سیوطی اور احمد السجاعی کے حاشیے ہیں۔
(۲)اوضح المسالک الی ألفیۃ بن مالک: یہ الفیہ کی شرح تو ہے مگر ابن عقیل(ت۷۶۹ھ) کی طرح نظموں کی فردا فردا شرح نہیں کی ہے بلکہ جس ترتیب سے نحوی مسائل الفیہ میں ہیں اسی ترتیب سے مسائل کو ابن ہشام(ت۷۶۱ھ) نے بیان کردیا ہے،
(۳)نور الدین الاشمونی(ت۹۰۰ھ) کی شرح ’منہج السالک الی ألفیۃ ابن مالک‘ جو شرح الاشمونی کے نام سے مشہور ہے: بہت سے لوگوں کو اس شرح کے مشکل ہو نے کی شکایت رہی ہے،
ذیل کے سطور میں اسی شرح کی اہمیت و افادیت پر مختصر خاکہ پیش کیا جا رہا ہے:
۱۔یہ شرح علمی مواد کو جمع کرنے،
۲۔یہ شرح بہت سی شرحوں کا جامع ہے،
۳۔اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کے مؤلف دوسرے علماء کے اقوال نسبت کے ساتھ نقل کرتے ہیں جیسے معرب ومبنی کے باب میں امام شاطبی سے اور معرفہ ونکرہ کے باب میں ابن ہشام سے نقل کرتے وقت ان کی طرف نسبت کی ہے۔(نشأۃ النحو از الشیخ علی طنطاوی:۲۲۷)
۴۔مؤلف کبھی کبھی لفظ تنبیہات کے تحت اہم معلومات ذکر کرنے کا اہتمام کرتے ہیں اور یہ تنبیہات پوری کتاب میں مختلف جگہوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔
۵۔اس کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں پرانے شعری و نثری شواہد کے ساتھ بہت سے نئے شواہد کا بھی اضافہ کیا گیا ہے جو دوسری نحو کی کتابوں میں ملنا مشکل ہے۔
۶۔یہ کتاب اپنی اہمیت کی بنا پر بہت سے علماء ومصنفین کی توجہ کا مرکز بنی چنانچہ کئی علماء نے اس پر حواشی لگانے کا کام کیا ہے ان حواشی میں اہم:
(۱)ابو عبد اللہ محمد بن علی بن سعید التونسی (ت۱۱۹۹ھ) کا حاشیہ،
(۲)دوسرا حاشیہ محمد بن علی صبان کا ہے اور اس کا نام ’ حاشیۃ الصبان علی شرح الأشمونی علی الفیہ ابن مالک‘ ہے۔علمی دنیا میں یہ حاشیۃ الصبان کے نام سے معروف ہے۔
یہ کتاب پہلی مرتبہ سنہ۱۲۸۰ھ میں حاشیۃ الصبان کے ساتھ بولاق،
اگر کتاب کے منہج اور مشمولات کی بات کریں تو موٹے طور پر کہہ سکتے ہیں کہ مولف نے الفیہ کی تمام نظموں کو فردا فردا ذکر کیا ہے اور بہترین انداز میں ان کی شرح کی ہے۔دوران شرح قرآن وحدیث اور عربی اشعار سے مختلف نحوی شواہد کا ذکر کیا ہے،
نظم نمبر۳۰۳:
الظرف وقت أو مكان ضمنا
’في‘ باطراد كهنا امكث أزمنا
کے تحت لکھتے ہیں:
"الظرف" لغة الوعاء،
والاحتراز بقيد "ضمنا في"،
پھر مؤلف نے کہا: مذکورہ تعریف میں " ضمنا فی" کے قید سے ’يخافون يوما‘ اور ’الله يعلم حيث يجعل رسالته‘ جیسے شواہد نکل گئے،
اس کتاب میں قرآن وحدیث کے شواہد کے علاوہ ۱۲۶۲ عربی شعری شواہد ہیں جن کی موقع اور ضرورت کے تحت تفصیل وتوضیح بھی کی گئی ہے۔
اس کتاب میں ایک جامع اور مانع مختصر مقدمہ بھی ہے جس میں یہ اہم ادبی عبارت درج ہے:
فهذا شرح لطيف بديع على ألفية ابن مالك،
مؤلف کی یہ عبارت جہاں ان کی شرح کی قدر و منزلت کو واضح کرتی ہے وہیں عربی زبان کے مختلف اسالیب پر ان کی مضبوط گرفت کو بھی عیاں کرتی ہے۔






