اپنی تقدیر کا لکھا پڑھیے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سوچنا کیسا کہ اب کیا پڑھیے
نام کا اس کے وظیفہ پڑھیے
کچھ زباں سے میں نہیں کہہ سکتا
میری آنکھیں، مرا چہرہ پڑھیے
تشنگی بڑھتی چلی جائے گی
علم کے شوق میں جتنا پڑھیے
آپ بھی دیدۂ عبرت سے کبھی
اپنی تقدیر کا لکھا پڑھیے
یہ طریقہ ہے کتب بینی کا
متن اور شرح، حوالہ پڑھیے
قدرداں کوئی نہیں جذبوں کا
مرثیہ کہیے کہ سہرا پڑھیے
مصلحت کوشی نہیں ہے اس میں
ایک ہی شخص کا کلمہ پڑھیے
لوگ معیوب سمجھتے ہیں سحر
دیر تک آپ نہ چہرہ پڑھیے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
س
سعد
23 اپریل، 2021زبردست، متن اور شرح، حوالہ پڑھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیر تک نہ چہرہ پڑھئے۔ ماشاء اللہ





