جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

تعزیت، اہل حدیثیت اور اہل بدعت

تحریر: دکتور کلیم یوسف مدنی24 اپریل، 20211,740قارئین5 تبصرےمطالعے کا وقت: ۸ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تعزیت، اہل حدیثیت اور اہل بدعت
فل اسکرین دیکھیں

کیا آپ کی اہل حدیثیت یا سلفیت اتنی کمزور ہے کہ کسی کی موت پر تعزیت کرنے سے وہ ختم ہو جاتی ہے؟


در اصل یہ سوال منہج سلف سے ناواقفیت کی دلیل ہے،اگر سوال کرنے والے نے سلف کے بارے میں اہل بدعت کے تعلق سے کچھ بھی پڑھا ہوتا تو وہ ایسا سوال نہیں کرتے۔

امام الانبیاء خاتم النبیین،سید المرسلین اپنے سجدے میں بکثرت یہ دعا کرتے: یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک وطاعتك(اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو تو اپنے دین وبندگی پر ثابت رکھنا) اور یہ دعا اس خوف سے کرتے کہ کہیں رب العالمین ان کے دل کو حق سے گمراہی کی طرف نہ پھیر دے۔

کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ (نعوذ باللہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان اتنا کمزور تھا کہ وہ دل کے پھیرے جانے سے ڈرتے تھے؟

عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ توریت کا نسخہ ہاتھ میں لیے پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر غصہ سے لال ہو گئے،عمر رضی اللہ عنہ فورا سنبھل گئے۔

کیا یہ کہا جا سکتا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا ایمان اتنا کمزور تھا کہ توریت پڑھ لینے سے وہ بدل جاتے؟

ایوب السختیانی رحمہ اللہ بڑے جلیل القدر امام ہیں ان سے ایک بدعتی نے کہا کہ آپ سے ایک بات پوچھنی ہے،امام ایوب السختیانی رحمہ اللہ نے کہا کہ میں تمھیں آدھی بات بھی پوچھنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

کیا ان کا ایمان بھی اتنا کمزور تھا کہ بدعتی کے سوال پوچھنے پر ختم ہو جاتا؟

بات در اصل یہ ہے کہ شبہات دل میں کب گھر کر جائیں یہ کسی کو پتہ نہیں چلتا،اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من اتقی الشبہات فقد استبرأ لدینہ وعرضہ(جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کرلی)

اگر کوئی اپنی اہل حدیثیت اور اپنی سلفیت سے بے فکر ہے کہ اسے کچھ نہیں ہوگا تو وہ خواب غفلت میں ہے،کیوں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر وقت اپنے ایمان کا خوف ستاتا تھا تو پھر ہما شما چین کی نیند کیسے سو سکتے ہیں؟

حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: انسان کا دل کمزور واقع ہوا ہے وہ شبہات کے حملے کو سہنے کا متحمل نہیں۔

اس لیے شبہات سے دور رہنا چاہیے نہ کہ اس کے قریب جانا چاہیے،اور اگر کوئی ان شبہات کی دعوت دے اور اسے عین حق بتلائے،اور پھر مضبوط اہل حدیثیت کے بعض دعویدار اس بدعتی کے افکار کو پڑھنے کی دعوت دیں،ان کی تعریف کرکے لوگوں کی نگاہ میں عظمت ورفعت بڑھانے کی کوشش کریں تو پھر ایسی اہل حدیثیت سے تو اللہ ہی بچائے۔

محترم قارئین! ذیل میں دو واقعہ ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں کہ ایک چھوٹی سی غلطی نے کیسے بڑے بڑوں کے منہج کو غارت کرکے رکھ دیا۔

عمران بن حطان اہل سنت والجماعت کے بڑے علماء میں سے تھے،صحابہ کرام کے شاگرد تھے،انھیں ایک لڑکی پسند آئی جو خوارج کے منہج پر تھی،عمران بن حطان نے کہا کہ میں اس سے شادی کرکے اسے اہل سنت میں تبدیل کردوں گا،لیکن شادی کے بعد عمران بن حطان کو اس خارجی عورت نے غالی قسم کا خارجی بنا دیا اور وہ ایسا خارجی بنا کہ علی رضی اللہ عنہ کے قاتل کی تعریف میں قصیدے پڑھنے لگا۔

اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ منہج تبدیل ہونے میں وقت نہیں لگتا،ایمان،عقیدہ اور منہج کے سلسلے میں خود اعتمادی بڑی گھاتک ہو سکتی ہے۔

اسی طرح امام دارقطنی ایک مرتبہ اشاعرہ کے امام باقلانی سے بازار میں ملے اور ان کے سر پر ایک بوسہ دیا،یہی ایک بوسہ پورے ملک مغرب میں اشعریت کے پھیلنے کا سبب بن گیا،کیوں کہ لوگوں نے یہ سمجھا کہ امام دارقطنی جیسے عالم جب باقلانی کو بوسہ دے رہے ہیں اس کا مطلب باقلانی کا عقیدہ ومنہج درست ہے اور اس طرح حسن ظن کی بنیاد پر لوگوں نے اشعری مذہب کو گلے لگا لیا۔

کیا یہاں پر بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کی سلفیت اور اہل حدیثیت اتنی کمزور تھی کہ ایک بوسہ بھی نہیں سہہ سکی؟

سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ کس کی اہل حدیثیت اور سلفیت مضبوط ہے اور کس کی کمزور یہ رب کے سوا کوئی نہیں جانتا،خود اپنا تزکیہ کرنا فرمان الہی کے مخالف ہے:

لا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی

دوسری بات:بعض اہل حدیث علماء اور طلاب علم مولانا وحید الدین خان کی وفات پر ان کی تعریف میں رطب اللسان رہے،خال خال ہی کسی نے ان کے گمراہ کن نظریات کی طرف اشارہ کرکے امت کو یہ پیغام دیا کہ ان کی وفات پر تعزیت کے چند کلمات کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حق پر تھے،بلکہ وہ باطل عقائد ونظریات کے حامل تھے،بعض نظریات تو ایسے تھے جو نواقض اسلام کے زمرے میں آتے ہیں۔

لیکن اس کے برعکس بعض اہل حدیث طلاب علم اور بعض علماء انھیں مجدد اور مفکر ملت باور کرانے میں لگے رہے اور ان کے افکار کو پڑھنے کی دعوت بھی دیتے نظر آئے۔

قارئین کرام! جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان پر خوف کھاتے ہوں،عمران بن حطان کی سلفیت صرف خارجی عورت سے شادی کی وجہ سے داؤ پر لگ جاتی ہو،ایوب السختیانی رحمہ اللہ بدعتی کے شبہات سے اپنی سلفیت پر خوف کھاتے ہوں اور اس کا سوال سننے کو بھی تیار نہ ہوتے ہوں اور امام دار قطنی رحمہ اللہ کا صرف ایک بوسہ لوگوں کی سلفیت کے لیے قاتل بن جاتا ہو تو ایسے میں بعض اہل حدیث علماء وطلاب علم کا مولانا وحید الدین خان کی تعریف کرنا کیا اہل حدیث عوام کی اہل حدیثیت کے لیے خطر ناک نہیں؟

اہل حدیث علماء کرام اور طلبہ علم سے ادبا سوال ہے کہ: جب عوام مولانا وحید الدین خان کے افکار مسمومہ کو ’رسالہ‘ میں پڑھے گی تو کیا آپ ہر عام آدمی کے پاس جاکر انھیں کہیں گے کہ فلاں مہینے کے فلاں شمارے میں مولانا وحید الدین خان نے فلاں عقدی یا منہجی غلطی کی ہے اس لیے آپ لوگ ہوشیار رہیں؟

اور بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ آپ فردا فردا ہر شخص کو منع کریں گے تو کیا ضروری ہے کہ وہ آپ کے منع کرنے سے باز ہی آجائیں،یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ مولانا کی باطل فکر آپ کی بات سے زیادہ انھیں اچھی لگے اور پھر وہ اسی میں بہہ جائیں،کیوں کہ عوام تو یہ دیکھے گی کہ مولانا وحید الدین خان کے مقابلے میں تو یہ کچھ بھی نہیں،اور یہ خود مولانا کی تعریف کرتا ہے،آج کے اس کے من کے خلاف کوئی بات ہوئی تو مولانا جیسی ہستی پر یہ انگشت نمائی کر رہا ہے!

اب یہ بتائیں کہ کس کی اہل حدیثیت کمزور ہے اور کس کی مضبوط ہے؟

معزز قارئین! یہاں صرف تعزیت کرنے کی بات نہیں ہے،یہاں آپ ایک ایسے شخص کی تعریف میں رطب اللسان ہیں جس نے بعض اسلامی مسلمات کا انکار کیا ہے،جس نے دین نصاری کے بعض اجزاء کو دین اسلام کے مقابلے بہتر سمجھا ہے،اس نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لائق ہی نہیں سمجھا کہ عالم انسانیت کے لیے کامل اسوہ ہوں،جب آپ ایسے شخص کی تعریف فرمائیں گے تو آپ کے سامعین،ناظرین،مشاہدین،مقتدین اور متبعین آپ کے اس عمل کو ملاحظہ بھی کریں گے،اور وہاں سے یہی پیغام لے کر جائیں گے کہ اگر مولانا وحید الدین خان غلط ہوتے تو فلاں اہل حدیث عالم ان کی تعریف نہیں کر رہے ہوتے؟

اور پھر آپ کی اگلی نسل شاتم رسول کے دفاع میں کھڑی نظر آئے گی اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کی پیٹھ تھپتھپاتی نظر آئے گی۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (5)

س
سعد
25 اپریل، 2021
محمد اشرف سنابلی، شکریہ نوٹ کے لئےم اور شکریہ ریسرچ سے متعلق لزومیات کو یہاں ذکر کرنے کے لئے۔
أ
أبو أحمد کلیم الدین یوسف
25 اپریل، 2021
اگر زبانی دعوی ہوتا تو آپ نیچے کتاب اور شیخ عبد الحسیب المدنی حفظہ اللہ کی تقریر کا حوالہ نہ دیتے، الحمد للہ وہ حکیم اجمل خان رحمہ اللہ کی کتاب بھی میرے پاس موجود ہے اور میں نے شیخ عبد الحسیب المدنی حفظہ اللہ کی تقریر بھی سنی ہے، حافظ زبیر کی کتاب بھی پڑھی ہے، اس کے علاوہ بھی ان پر بعض ردود پڑھے ہیں. مثال کے طور پر اگر میں سلمان ندوی پر یا مولانا مودودی پر رد کروں اور کہوں کہ مذکورہ دونوں حضرات نے بعض صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کی ہے تو اس کا مطلب یہ بلکل بھی نہیں ہوتا کہ میں نے ان کی کتاب نہیں پڑھی اور میرے پاس ان کی کتاب سے دلائل موجود نہیں، اور نہ ہی اس کا مطلب یہ مذکورہ دونوں اشخاص نے صحابہ کی شان میں گستاخی نہیں کی ہے، عمدا ان کے دلائل کو میں نے ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ مشہور ہیں. اور پھر یہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ یہ زبانی دعوی نہیں ہے، کیوں کہ اگر زبانی دعوی ہوتا تو آپ یوں حوالے نہ پیش کرتے. شکرہہ
ع
عبد الكريم سنابلي
25 اپریل، 2021
ماشاءالله، بارك الله فيكم ولكم وجزاكم الله خيرا
M
MOHD ASHRAF
25 اپریل، 2021
پورے مضمون میں زبانی دعوے تو خوب کیے گئے ہیں جیسے(1) "مولانا کا بعض مسلمات سے انکار"؟ وہ مسلمات کون کون سے ہیں؟؟؟ ان کی تفصیل اور حوالہ ندارد؟؟؟ (2) "مولانا دینِ نصاریٰ کے کن اجزاء کو اسلام سے بہتر جانتے تھے"؟؟؟ تفصیل ندارد؟؟؟ (3) "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل اسوہ نہ سمجھنا"؟؟؟ تفصیل یا حوالہ/ اشارہ تک بھی درج نہیں؟؟؟ کاش کہ فاضل مضمون نگار اپنی بات کو دلائل سے ثابت کرنے کے لیے مولانا وحیدالدین خان کی فکری اور منہجی غلطیوں کو اُن کی کتابوں سے مع حوالہ یہاں نقل کردیتے تو مضمون کی اہمیت دو چند ہوجاتی۔ (نوٹ: مجلہ محدث کے ایڈیٹر حکیم اجمل خان رحمتہ اللّٰہ علیہ نے اس موضوع پر بہت تفصیل سے ایک مکمل کتاب لکھی ہے، اور فضیلۃ الشیخ عبد الحسیب عمری نے بھی کئی ویڈیوز میں اس موضوع پر مدلل گفتگو کی ہے۔ میرے خیال سے اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے قارئین/ ناظرین کے لیے یہ مواد مفید ہوں گے۔) راقم السطور: محمد اشرف سنابلی 9667425085
س
سعد
24 اپریل، 2021
بہت عالمانہ، ماشاء اللہ۔اللہ برکت دے۔مضمون جامع ہے، اس موضوع پر مزید پڑھنے کی خواہش ہے اور آپ سے مزید لکھنے کی درخواست ہے۔

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

تعزیت، اہل حدیثیت اور اہل بدعت - دی فری لانسر | دی فری لانسر