جانے کس شانے پر دھرا ہوا ہوں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کن تضادات سے بھرا ہوا ہوں
جی رہا ہوں مگر مرا ہوا ہوں
سامنا اب کسی کا کرتا نہیں
خود سے میں اس قدر ڈرا ہوا ہوں
میرے سائے پہ بس ترا حق ہے
میں تجھے دیکھ کر ہرا ہوا ہوں
خود سماعت بیان کرتی ہے
ایسا دلچسپ ماجرا ہوا ہوں
اک چراگاہ ہوں میں رشتوں کی
اور اطراف سے چرا ہوا ہوں
وقت کے ساتھ سیکھ جاؤگے
کیسے کھوٹے سے میں کھرا ہوا ہوں
پیال ہوں پر کوئی جلا نہ سکے
اس سلیقے سے میں ’بَرا‘ ہوا ہوں
جانے کس شانے کا ہوں سر مخلصؔ
جانے کس شانے پر دھرا ہوا ہوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





