ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے صدقۂ فطر میں صرف غلہ نکالنے کی بات ہی ثابت ہے،
ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے وہ تمام اقوال جو ”زکاۃ میں قیمت“نکالنے سے متعلق ہیں درج ذیل ہیں:
وَيَجُوزُ إخْرَاجُ الْقِيمَةِ فِي الزَّكَاةِ لِعَدَمِ الْعُدُولِ عَنْ الْحَاجَةِ وَالْمَصْلَحَةِ مِثْلُ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَةَ بُسْتَانِهِ أَوْ زَرْعَهُ فَهُنَا إخْرَاجُ عُشْرِ الدَّرَاهِمِ يُجْزِئُهُ وَلَا يُكَلَّفُ أَنْ يَشْتَرِيَ تَمْرًا أَوْ حِنْطَةً[الفتاوى الكبرى لابن تيمية:۵/۳۷۲]اگر حاجت و مصلحت نظر انداز نہ ہو رہی ہو تو زکاۃ میں قیمت نکالنی جائز ہے،
ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں کہ:
وَالثَّالِثُ: أَنَّهُ لَا يُجْزِئُ إِلَّا عِنْدَ الْحَاجَةِ،
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بطور مثال جن امور کو ذکر کیا ہے ان سے صاف واضح ہے کہ وہ اس زکاۃ کی بات کر رہے ہیں جو سالانہ طور پر نکالی جاتی ہے،
اسی طرح اونٹ میں جس زکاۃ کا وجوب ہے وہ مال کی زکاۃ ہے،
یہی وجہ ہے کہ جب انھوں نے صدقۂ فطر کے مسئلہ پر بات کی تو قیمت نکالنے کا کہیں بھی کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ غلہ نکالنے کو ہی واجب کہا ہے۔
ملاحظہ کریں صدقۂ فطر کے سلسلے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اقوال:
وَلِهَذَا أَوْجَبَ اللَّهُ طَعَامًا كَمَا أَوْجَبَ الْكَفَّارَةَ طَعَامًا[الفتاوى الكبرى لابن تيمية:۲/۴۹۱]اور اسی لیے اللہ رب العالمین نے (صدقۂ فطر میں) غلہ واجب کیا ہے جس طرح سے کفارہ کی ادائیگی میں غلہ واجب کیا ہے۔
(واضح رہے کہ یہ بات ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صدقۂ فطر کے باب میں کہی ہے)
ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
جَعَلَهَا طُعْمَةً لَهُمْ يَوْمَ الْعِيدِ يَسْتَغْنُونَ بِهَا،
اسے بھی ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صدقۂ فطر کے باب میں بیان کیا ہے۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس قول سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک ’طعمۃ‘ سے مراد غلہ ہے،
بلکہ انھوں نے اگلى سطر میں اس کو اور بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ:
حفنة من الحنطة( مٹھی بھر گیہوں)
ایک تیسرے مقام پر فرماتے ہیں:
وَصَدَقَةُ الْفِطْرِ وَجَبَتْ طَعَامًا لِلْأَكْلِ لَا لِلِاسْتِنْمَاءِ،
ان تمام امور سے یہی واضح ہوتا ہے کہ صدقۂ فطر کے مسئلے میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول بھی جمہور کے قول کے موافق ہے۔واللہ اعلم
یہی تحقیق دکتور محمود ابراہیم الخطیب رحمہ اللہ کی بھی ہے۔[ مجلة الجامعة الإسلامية: العدد،






