ماہ رمضان کے اختتام پر صدقۂ فطر کی ادائیگی مشروع ہے۔نبی اکرم ﷺ نے اسے فرض کیا ہے اور جس چیز کو آپ ﷺ نے فرض کیا ہو یا جس کی ادائیگی کا حکم دیا ہو وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرض کردہ عمل کے حکم میں ہے۔باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ومن يطع الرسول فقد أطاع الله (النساء:۸۰)رسول اللہﷺ کی جو اطاعت کرے اس نے يقینا اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کی۔
بعض سلف صالحین ’’قد أفلح من تزكى وذكر اسم ربه فصلى‘‘ (الاعلی:۱۴)کی تفسیر میں’تزکی‘ سے مراد صدقۂ فطر اور ذکرو صلاۃ سے تکبیرات عید اور نماز عید مراد لیتے ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیحین میں مروی ہے:
فرض رسول الله ﷺ زکاۃ الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعیر علی العبد والحر والذکر والأنثی والصغیر والکبیر من المسلمین(رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر کھجور یا جو سے ایک صاع نکالنا ہر غلام،
حدیث مذکور کی روشنی میں ہر غلہ سے ایک صاع نکالنا ہی متعین اور لازم ہے۔بعض اہل علم نے گیہوں سے آدھا صاع نکالنے کو جائز کہا ہے مگر اس سلسلہ میں صحیح اور مرفوع حدیث نہیں ہے۔بلکہ صحیحین میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ہم لوگ عہد نبوی میں ہر قسم کے غلہ سے ایک صاع صدقۂ فطر نکالتے تھے اور سنن ابی داؤد میں اس قدر اضافہ بھی وارد ہے’’لا أخرج أبدا إلا صاعا‘‘ یعنی میں ہمیشہ ایک صاع ہی ادا کروں گا۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اجتہاد بسلسلہ نصف صاع گندم پر رد فرماتے ہوئے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بات بیان فرمائی۔
حدیث میں ’طعام‘ سے مراد بعض لوگوں کے نزدیک گندم ہے اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ یہ لفظ عام اور مجمل ہے جس کا بیان حدیث کے اگلے فقروں میں ہے یعنی کھجور،
معلوم ہوا کہ غلوں کی قیمتوں کے درمیان موازنہ کرنے کا عمل ہی صحیح نہیں ہے۔ایک صاع متعین ہے وہی نکالنا چاہیے۔صاع کی مقدار بعض علماء کے نزدیک ڈھائی کلو گرام ہے۔امام العصر علامہ ابن باز رحمہ اللہ نے تین کلو گرام کہا ہے۔
صدقۂ فطر کی ادائیگی کا وقت:
صدقۂ فطر کا معنی ہے: رمضان المبارک کے روزوں سے افطار کرنے یعنی ماہ صیام کے اختتام پر نکالا جانے والا صدقہ،
ان دنوں عام طورپر لوگ ابتدائی رمضان ہی سے صدقۂ فطر کی وصولی شروع کر دیتے ہیں جو سنت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ صدقۂ فطر نکالنے کی مصلحت یعنی عیدکے دن فقراء و مساکین کو دست سوال دراز کرنے سے بچانے اور انھیں لوگوں سے مستغنیٰ کرنے کی حکمت کے بھی منافی ہے۔
اگر اجتماعی طور پر صدقۂ فطر ایک جگہ جمع کیا جاتا ہو تو بھی اس کی تقسیم عید سے دو دن قبل کی جانی چاہیے تاکہ فقراء اس صدقہ کو عید کے دن کی ضرورتوں کے لیے استعمال کریں۔
گویا اس صدقہ کی ادائیگی کا وقت وجوب عید کی شب غروب آفتاب کا وقت ہے۔لہٰذا جو غروب آفتاب تک زندہ رہا پھر چند منٹوں کے بعد وفات پاگیااس کے ذمہ صدقۂ فطر واجب ہوگیا،
گھر کے گارجین پر اپنی جانب سے اور ان تمام لوگوں کی جانب سے صدقۂ فطر ادا کرنا لازم ہے جن کے نان و نفقہ اور دیگر اخراجات کا وہ شرعاً مکلف ہے،
جس مقام پر اس نے رمضان کے روزے پورے کیے ہوں وہاں کے فقراء کو اپنا اور اپنے ماتحتوں کا صدقۂ فطر ادا کرنا چاہیے۔اگر وہاں فقراء و مساکین نہ پائے جاتے ہوں تو دوسری جگہ کے فقراء و مساکین کو صدقہ دیا جاسکتا ہے اور اگر چاہے تو جہاں اس کے اہل و عیال آباد ہیں وہیں اپنے گھر کے کسی فرد کو پورے اہل خانہ کے صدقات فطر ادا کرنے کا پابند کردے۔
صدقۂ فطر کی حکمت:
صدقۂ فطر کی حکمت نبی ﷺ نے خود ہی بیان فرمادی ہے چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
فرض رسول الله ﷺ زکاۃ الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساکین (سنن ابی داؤد و ابن ماجہ ) رسول اللہ ﷺ نے روزہ دار کے نفس کو لغو اور فحش باتوں کے گناہ سے پاک کرنے اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کی غرض سے صدقۂ فطرفرض کیا۔
اس حدیث سے بعض اہل علم نے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسکین ہی صدقۂ فطر کا اکیلا مستحق ہے اور بعض اہل علم نے صدقۂ فطر کا مصرف،
صدقۂ فطر میں غلہ کے عوض نقد کی ادائیگی:
صدقۂ فطر کی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی جو غلہ کھاتا ہے اور جو اس کی غالب خوراک ہے اس میں سے فی کس ایک صاع نکالے۔کسی بھی حدیث میں ایک صاع غلہ کی قیمت ادا کرنے کی بابت منقول نہیں ہے،
والحمد لله رب العالمين






