جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

استعارہ لکھا ہوا تھا

کلام: محمد وسیم مخلصؔ11 مئی، 20211,710قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
خبر نہیں کچھ، بھلا ہوا تھا، برا ہوا تھا
’’نہ اس نے سمجھا، نہ میں نے سمجھا کہ کیا ہوا تھا‘‘
مجھے کسی کے بچھڑنے ملنے سے کیا غرض تھی
کہ میں تو وحشت سے اندروں تک بھرا ہوا تھا
جہاں جہاں پر بھی ذکر اس کا تھا داستاں میں
وہاں محبت کا استعارہ لکھا ہوا تھا
تمام شب ہم نے جس کو مل کر کیا تھا روشن
سحر ہوئی تو وہی ستارہ بجھا ہوا تھا
یونہی نہیں جشن فتح برپا تھا اس کے رخ پر
میں اس کے آگے یقین بن کر کھڑا ہوا تھا
شجر محبت کا خشک ہونے میں وقت لے گا
تری توجہ کی اوس پی کر ہرا ہوا تھا
وہ میری آنکھوں سے قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے
نفس نفس جو کبھی مرا مبتلا ہوا تھا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

استعارہ لکھا ہوا تھا - دی فری لانسر | دی فری لانسر