جو آرزو ہو دلوں میں تو آرزوئے رسول
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
فزوں ز شمس فروزاں ہے آبروئے رسول
ہوا کی طرح پریشان ہے عدوئے رسول
کوئی ہے سنگ بہ دست اور کوئی دعا گو ہے
ادھر ہے غیر کی فطرت ادھر ہے خوئے رسول
کوئی بھی ڈوب کے نکلا نہ اس سمندر سے
تمام خیر کے دریا رواں ہیں سوئے رسول
اندھیرے پھر اسی خورشید رو کے طالب ہیں
تمام خلق ہے مصروف جستجوئے رسول
ورق ورق پڑھے دیوان میر و غالب بھی
ملی نہیں کوئی تشبیہ گفتگوئے رسول
مہک اٹھے در و دیوار دل محبت سے
کبھی فضا کو میسر ہوئی جو بوئے رسول
دل سیاہ میں کوثر کی پیاس بھی ہوگی
تو کیسے سر کو اٹھائے گا رو بہ روئے رسول
نظر میں ہو تو مدینے کا شوخ منظر ہو
جو آرزو ہو دلوں میں تو آرزوئے رسول
الہی! کاش ہو منظر نظر میں طیبہ کا
رخ رسول، دیار رسول، کوئے رسول
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





