ہر خیال کا شان نزول تو ٹھہرا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جو بام دل پہ ترا حسن رنگ و بو ٹھہرا
تو ہر خیال کا شان نزول تو ٹھہرا
یہ کائنات فقط ایک جنبش لب تھی
مگر یہ تو جو قیامت کے دوبدو ٹھہرا
مہک اٹھے تیری خلوت میں جاکے خواب مرے
ہر ایک لمس نظر قرب کا، وضو ٹھہرا
یہ سلسلہ کسی آفت کا پیش خیمہ نہ ہو
کہ دل میں آکے مرے دل کا ہی عدو ٹھہرا
نظر میں آئے ہیں یوں تو کئی حسیں چہرے
جہاں میں تو ہی مگر سب سے خوبرو ٹھہرا
عجیب ربط ہے مجھ سے مرے جنوں کا وسیمؔ
کہ جا بہ جا یہ رواں، اور میں کو بہ کو ٹھہرا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





