جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اشک ہے کچھ اور، پانی اور ہے

کلام: محمد وسیم مخلصؔ22 مئی، 20211,256قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تو نے جی، وہ زندگانی اور ہے
ہم نشیں! میری کہانی اور ہے
زندگی جینا ہے اک کار دگر
زندگی کی ترجمانی اور ہے
بے رخی طے پائی تھی جس کا صلہ
وہ محبت کی نشانی اور ہے
خوف سے جس کے لرز اٹھتا ہے دل
ہجر کی وہ بے کرانی اور ہے
میں ہوں اس کوشش میں اک دن تو ملے
اور تیری لن ترانی اور ہے
گو کہ ہے برباد تو بھی عشق میں
یار! میری رائیگانی اور ہے
رنگ تجھ پر سب ہی جچتے ہیں مگر
دیکھ! رنگ مہربانی اور ہے
ہیں بظاہر ایک سے، لیکن وسیمؔ
اشک ہے کچھ اور، پانی اور ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اشک ہے کچھ اور، پانی اور ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر