جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

جن کو اپنا میں سمجھتا تھا پرائے نکلے

کلام: م . ع . اسعد26 مئی، 20211,732قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کیوں نہ اب بھی دل مغموم سے ہائے نکلے
جن کو اپنا میں سمجھتا تھا پرائے نکلے
وہ جو لوگوں کے مسیحا بنے پھرتے تھے کبھی
پھول بچوں کے لہو میں وہ نہائے نکلے
میرا دل ہے یہ نہیں کوئی مسافر خانہ
جس کی مرضی ہو کسی وقت بھی آئے نکلے
اونچے محلوں پہ بڑا فخر تھا جن کو کل تک
آج ملبے میں انھی لوگوں کے سائے نکلے
زخم اتنے ہیں اگر کھودے کوئی دل کی زمیں
تو لہو آنکھ سے اشکوں کے بجائے نکلے
چائے سے عشق کا مطلب ہی یہی ہے اسعد
جب کٹے رگ تو سوا خون کے چائے نکلے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

جن کو اپنا میں سمجھتا تھا پرائے نکلے - دی فری لانسر | دی فری لانسر