جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ندی نالے سمندر کی طرف باہم نکلتے ہیں

کلام: ابوالمرجان فیضی11 جون، 20211,643قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہنر مشاطگی کا لے کے جب پیہم نکلتے ہیں
تبھی جا کر تری زلفوں کے پیچ و خم نکلتے ہیں
ملن ہوجائے گی ہے شرط تیری طبع موزوں ہو
ندی نالے سمندر کی طرف باہم نکلتے ہیں
جہاں جا کر پرندہ فکر کا مفلوج ہوجائے
وہاں تک سوچنے والے ذرا کم کم نکلتے ہیں
سجاؤ میکدہ لوگو! کرو آباد بت خانہ
حرم کو چھوڑ کر سوئے بتاں اب ہم نکلتے ہیں
پدر کی برکتیں شامل ہیں بیٹے کی ترقی میں
وگرنہ پاؤں گھسنے سے کہاں زمزم نکلتے ہیں
جنھوں نے سانس پر پہرے بٹھائے تھے یہاں ثاقب
مکافات عمل ہے آج وہ بے دم نکلتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ندی نالے سمندر کی طرف باہم نکلتے ہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر