انسان فطری طور پر مال اور روپئے پیسے سے بہت محبت کرتا ہے،
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لَا تَزُولُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: ... و عَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ(سنن الترمذي:۲۴۱۶)آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ لیا جائے:ان میں سے ایک سوال اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا۔
*چونکہ جانے انجانے میں کمائی کا ایک حرام ذریعہ ہمارے سماج اور سوسائٹی میں بھی پھیل رہا ہے۔جسے ہم اور آپ فکس ڈپازٹ (Fix Deposit)یا رکرنگ ڈپازٹ (Recurring Deposit) وغیرہ کے نام سے جانتے ہیں۔
فکس ڈپوزٹ کیا ہے؟
لوگوں کی نظروں میں ’کمائی‘ کا ایک بہترین ذریعہ ہے لیکن شریعت کی نگاہ میں ’ایک سودی عمل‘ہے۔
اس کی بہت ساری شکلیں ہیں:
مثلا:
۱۔ٹی آر ڈی (TRD) یعنی TERM DEPOSIT RECEIPT
اس میں آپ اپنے انٹرسٹ (interest) کو monthly- quarterly- half yearly- یا-yearly لے سکتے ہیں۔
۲۔ایس ٹی پی آر (STPR) یعنیSpecial Term Deposit Receipt
اس میں آپ اپنے انٹرسٹ کو پرنسپل اماونٹ (Principle Amount) کے ساتھ ہی لے سکتے ہیں۔
۳۔فلیکسی ایف ڈی (Flexi FD) یہ سیونگ اکاونٹ (Saving Account) کے ساتھ لنک ہوتی ہے۔
۴۔کارپوریٹ ایف ڈی (Corporate FD) یہ عموماً کمپنیوں میں ہوتا ہے۔
۵۔سینئر سٹیزن ایف ڈی (Senior Citizens FD) یہ ساٹھ سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لےل ہوتا ہے
۶۔ریگولر ایف ڈی (Regular FD)
۷۔این آر ای ایف ڈی (NRE FD)
۸۔این آر اوایف ڈی (NRO FD) وغیرہ۔
*فکس ڈپازٹ ہی کی طرح رکرنگ ڈپازٹ (Recurring Deposit) ہوتا ہے۔
دونوں میں فرق یہ ہے کہ فکس ڈپازٹ میں مکمل اماونٹ ایک ساتھ جمع کرنا ہوتا ہے جبکہ رکرنگ ڈپازٹ میں آپ اپنے مقرر اماونٹ کو تھوڑا تھوڑا کرکے قسطوں میں جمع کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ بھی کچھ ایسی اسکیمیں ہیں جن میں آپ یک بارگی یا قسطوں میں متعین روپئے جمع کر کے مقررہ وقت میں اس سے زیادہ حاصل کر سکتے ہیں۔
شریعت میں ان کا حکم کیا ہے؟
فکس ڈپازٹ،
مثلا:اگر آپ کسی بینک میں ایک لاکھ روپیہ جمع کرتے ہیں اس کے ایک یا تین یا پانچ یا دس سال کے بعد آپ کو ایک لاکھ سے زائد رقم ملتی ہو تو آپ کے پرنسپل (اصل)اماونٹ سے جس قدر زائد روپیہ ملے گا اس کا شمار سود میں ہو گا۔خواہ وہ زائد روپیہ ہر مہینے ملے یا ہر سال یا پھر پرنسپل اماونٹ کے ساتھ ملے۔
نیز چاہے آپ یہ کام تجارت،
۱۔اگر آپ لین دین اور بیع وشراء کے طور پر یہ کام کرتے ہیں تو اس کے سود ہونے کی دلیل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ،
صحیح مسلم میں اتنا اضافہ ہے:
فمَن زادَ أوِ استَزادَ فقد أربَى،
چونکہ لین دین میں کرنسی اور روپیہ پیسہ کا حکم وہی ہے جو سونے اور چاندی کا ہے۔
گرچہ جنس مختلف ہے مگر تینوں (سونے،
مطلب یہ کہ اگر آپ روپیہ دے کر روپیہ لینا چاہتے ہیں،
۱۔کسی بھی طرف سے ادھار نہ ہو۔
اگر کسی بھی طرف سے ادھار ہوا تو اس کا شمار سود میں ہوگا۔
۲۔کسی بھی طرف سے کمی یا زیادتی نہ ہو۔
مثلا:اگر میں نے کسی بینک میں دس ہزار روپیہ دیا اور کچھ دنوں کے بعد مجھے اس دس ہزار کے بدلے دس ہزار دو سو روپیہ(۱۰۲۰۰)ملا تو دو سو روپیہ ’سود‘ہوگا۔
لہذا جو رقم ہم بینک کے اندر فکس ڈپازٹ (Fix Deposit)،
بلکہ سود کی دونوں قسمیں ’ربا الفضل‘ اور ’ربا النسية ‘اس میں پائی جاتی ہیں۔
ربا الفضل اور ربا النسية کسے کہتے ہیں؟
ربا الفضل،
یہاں پر یہ بات یاد رہے کہ ہر قسم کے لین دین اور بیع وشراء میں کمی وزیادتی یا کسی طرف سے ادھار سود نہیں ہے بلکہ صرف چھ چیزوں (سونا،
جیسے کرنسی جو کہ اصلا ’اموال ربویۃ ‘تو نہیں ہے مگر اموال ربویہ میں سے ’سونے اور چاندی‘ کی علت موجود ہے جیسا کہ اوپر بات گزر چکی ہے۔لہذا کرنسی کے لین دین کا حکم بالکل وہی ہوگا جو حکم سونے اور چاندی کے لین دین کا ہوگا۔
یہاں پر’اموال ربویۃ‘کے تعامل کے ضوابط کو ذکر کرنا فائدے سے خالی نہیں ہوگا۔
(۱)اگر پیسے کا لین دین اور بیع پیسے سے یا سونے کا لین دین سونے سے،
۱۔دونوں طرف سے برابر ہو:
اگر ایک روپیہ بھی کم یا زیادہ ہوا تو اس کا شمار سود میں ہوگا۔
مثلا:اگر دس ہزار بینک میں جمع کیا ہے تو صرف دس ہزار ہی لے سکتے ہیں،
۲۔دونوں طرف سے نقد یعنی ہاتھوں ہاتھ ہو:
لہذا اگر کسی ایک طرف سے ادھار ہوا تو اس بیع کا شمار سودی لین دین میں ہوگا۔
نوٹ:قرض کا مسئلہ اس ضابطے میں داخل نہیں ہے۔کیونکہ قرض بیع نہیں ہے۔
(۲)اگر سونے اور چاندی کا لین دین پیسے سے ہو،
اگر کسی بھی طرف سے ادھار ہوا تو اس کا شمار سود میں ہوگا۔
(۳)گیہوں کی بیع اور خرید وفروخت گیہوں سے ہو تو دو شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے:
۱۔برابر ہو
۲۔نقد ہو
ادھار یا کمی بیشی کی صورت میں سود ہو جائے گا۔
(۴)گیہوں کی خرید و فروخت کھجور،
(۵)اگر گیہوں،
مزید وضاحت کے لےد ہم یہ جان لیتے ہیں کہ:
سونے،
لہذا اگر جنس اور علت دونوں ایک ہوں جیسے روپیہ سے روپیہ یا سونے سے سونا تو دو شرط ضروری ہے:
۱۔برابر ہونا
۲۔نقد ہونا
اگر علت ایک ہے مگر جنس الگ الگ ہے جیسے سونے سے چاندی یا پیسے سے چاندی اور سونا تو ایک شرط ضروری ہے کہ وہ نقد ہو ادھار نہ ہو۔
اور اگر جنس اور علت دونوں مختلف ہوں جیسے روپیہ سے گیہوں یا دیگر اشیاء تو ایک بھی شرط نہیں ہے۔
۲۔اگر آپ قرض کے طور پر یہ کام کرتے ہیں یا بینک کو دیتے ہیں تو اس کے سود ہونے کی دلیل یہ مسلمہ ضابطہ اور قاعدہ ہے:
كل قرض جر نفعًا مشروطًا فهو ربا(آثار الشيخ العلامة عبد الرحمن بن يحيي المعلمي اليماني:۱۸/۴۶۴،
اس ضابطہ اور قاعدہ کے کئی ایک دلائل ہیں جن میں سے ایک صحیح بخاری کے اندر موجود ہے۔
چنانچہ ابو بردۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور وہاں عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو انوہں نے کہا:
أَلَا تَجِيءُ فَأُطْعِمَكَ سَوِيقًا،
چونکہ بینک میں جو رقم ہم جمع کرتے ہیں وہ ’قرض‘کے قبیل سے ہے چاہے فکس ڈپازٹ کے طور پر ہو،
لہذا جمع کردہ رقم سے جتنا بھی زیادہ ملتا ہے وہ واضح طور پر ’سود ‘ہے۔
کیونکہ اس میں پہلے ہی سے فکس ہوتا ہے کہ آپ کو چار یا پانچ یا چھ یا سات پرسنٹ بیاج اور انٹرسٹ ملے گا۔
سوال:
فکس ڈپازٹ،
جواب:
سب سے پہلی بات یہ کہ فکس ڈپازٹ،
چونکہ معامات میں سود کی تین قسمیں ہیں:
۱۔ربا الدین:قرض میں سود
۲۔ربا البيوع:بیع میں سود
۳۔ربا الشفاعة:شفاعت میں سود
لہذا فکس ڈپازٹ،
دوسرے لفظوں میں بینک سے ملنے والا اضافی رقم اور زیادتی کا شمار’ربا الدین‘سے ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ فکس ڈپازٹ،
ساتھ ہی بینک اس زائد رقم کو بیاض اور انٹرسٹ (Interest) ہی کا نام دیتا ہے جس سے مسئلہ اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔
لہذا اس سے بچنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کا انجام بہت ہی المناک ہو سکتا ہے۔
یہاں پر سود خوروں کے لے صرف چند وعیدوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے:
(۱)دنیا کے اندر سود خور سے اللہ رب العزت جنگ کا اعلان کرتا ہے۔
جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوۡا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ . فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ(البقرة:۱۷۸-۱۷۹)اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر واقعی تم مومن ہو تو جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو۔اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے تمھارے خلاف اعلان جنگ ہے۔
نیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا ظهرَ الزِّنا والرِّبا في قَريةٍ؛
(۲)سود خور مرنے کے بعد انتہائی دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے۔
جیسا کہ سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُقَدَّسَةٍ،
اسی حدیث کے دوسرے طرق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عذاب برزخ یعنی قبر میں ہوگا۔
جیسا کہ حدیث کے الفاظ ہیں:
يُفْعَلُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (صحيح البخاري:۱۳۸۶)اس کے ساتھ عذاب کا یہ معاملہ قیامت تک چلتا رہے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
(۳)سود کی حرمت معلوم ہونے کے بعد اگر کوئی شخص سود خوری کو ترک نہیں کرتا ہے تو اس کے لےع جہنم کی وعید ہے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:
اَلَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِىۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ فَانۡتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِؕ وَمَنۡ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ (البقرۃ:۲۷۵) جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ ( قیامت کے دن) اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جسے شیطان نے چھو کر بدحواس کر دیا ہو،






