حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی تصنیفات میں ایک اہم خوبی مجھے یہ نظر آئی کہ ضخیم سے ضخیم کتاب میں انھوں نے شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی طریقہ اور اسلوب اختیار کیا ہے۔ایسا نہیں کہ شروع میں بہت زیادہ کسی چیز پر زور ہو اور بعد میں وہ چیز مفقود ہوگئی ہو۔
بطور مثال فتح الباری کو ہی لیں۔یہ ان کی سب سے اہم اور ضخیم کتاب ہے۔اس کی تالیف میں (مقدمہ اور شرح ملا کر) انھوں نے تقریبا 38 سال کا طویل عرصہ لگایا ہے۔لیکن اتنی طویل مدت تک کام کرنے کے باوجود شروع سے لے کر آخر تک تقریبا منہج ایک ہی ہے۔بلکہ پہلے پہل انھوں نے بہت مفصل انداز میں اس کی شرح شروع کی تھی،
اسی زمانہ میں علامہ عینی بھی بخاری کی شرح لکھ رہے تھے۔عمدۃ القاری کے نام سے 25 جلدوں میں ان کی شرح مطبوع ہے۔اس میں انھوں نے شروع کی تقریبا دو جلدوں میں لغوی اور بلاغی مباحث کا بہت زیادہ اہتمام کیا ہے۔لیکن بعد کی جلدوں میں یہ چیز مفقود ہے۔
کہا جاتا ہے کہ حافظ ابن حجر سے کسی نے بیان کیا کہ علامہ عینی لغوی مباحث کا بہت مفصل انداز میں ذکر کر رہے ہیں،
اور ہوا بھی یہی ہے۔جہاں تک علامہ رکن الدین نے شرح کی تھی وہاں تک تو علامہ عینی نے خوب لغوی اور بلاغی مباحث پر بحث کی ہے،
علامہ قسطلانی فرماتے ہیں: "لم يتكلم البدر العيني بعد تلك القطعة بشيءٍ من ذلك"۔(ارشاد الساری: 1/43)
اور علامہ سخاوی فرماتے ہیں: "إنه بعدها لم يتكلم بكلمة واحدة في ذلك"۔(لضوء اللامع لأهل القرن التاسع: 10/134)
اور شیخ عبد الکریم الخضیر اپنے ایک درس میں فرماتے ہیں: "ما يتعلق بغرائب اللغة من النقول وما يتعلق به البيان والبديع وغير ذلك لما انتهى شرح ركن الدين انتهى العيني من ذلك".
حافظ ابن حجر کی شرح کی یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ انھوں نے شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی اسلوب کی پابندی کی ہے۔اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔
جنھوں نے تفسیر بیضاوی پڑھی ہے انھیں اندازہ ہوگا کہ کیسے علامہ بیضاوی نے شروع میں انتہائی تفصیل سے کام لیا ہے اور جیسے جیسے کتاب آگے بڑھی ہے اسلوب میں تبدیلی آتی چلی گئی ہے۔یہاں تک کہ شروع اور آخر کے اسلوب میں بہت زیادہ فرق نظر آتا ہے۔
تفسیر جلالین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسلوب میں عدم توازن اور سستی کے ڈر سے علامہ جلال الدین محلی نے جب اس کی تفسیر شروع کی تو سورہ فاتحہ سے نہ شروع کرکے سورہ کہف سے اس کی ابتدا کی۔کیونکہ اس وقت میرے کام کی چونکہ یہ شروعات ہوگی اس لیے میرے اندر نشاط ہوگا،
لیکن قدر اللہ وما شاء فعل،
تو پوری کتاب میں اسلوب کا یکساں ہونا اس کی بہت بڑی خوبی ہے۔اور حافظ ابن حجر کی تصنیفات میں یہ خوبی بدرجۂ اتم موجود ہے۔اس لیے آج کل کے مصنفین اور باحثین کو بھی اس کا خیال رکھنا چاہیے۔اللہ ہمیں توفیق دے۔






