بر صغیر کے اکثر طلبہ بلکہ بعض کبار مشایخ بھی عربی املا میں بعض امور کی طرف دھیان نہیں دیتے،
(۱)ہمزہ وصل اور ہمزہ قطع کے درمیان فرق نہ کرنا۔
(۲)حالت نصب میں تنوین کو الف کے اوپر لکھنا۔مثلًا ”زيدًا“ لکھنا ہو تو تنوین دال کے اوپر نہ لکھ کر الف کے اوپر لکھتے ہیں۔اسے بعض مشایخ غلط کہتے ہیں جب کہ بعض تجوزًا جائز کہتے ہیں۔بہر حال یہ خلاف اولی ضرور ہے۔
واضح رہے کہ قاعدے کی رو سے عربی میں الف کوئی حرکت قبول نہیں کرتا اور اس کا ماقبل ہمیشہ مفتوح ہوتا ہے جیسے ”قال“ میں قاف اور لام کے درمیان واقع حرف۔
(۳)کلمہ کے آخر میں یا اور الف مقصورہ کے لکھنے میں فرق نہ کرنا۔مثلا:عَلِي اور عَلَى کے املا میں فرق نہ کرنا۔
الف مقصورہ ہو تو اس یا کے نیچے دو نقطے نہیں ہوتے،
اور یا ہو تو اس کے نیچے دو نقطے ہوتے ہیں،
بعض لوگ یہ فرق نہیں کرتے اس لےے پتہ نہیں چلتا کہ عَلِي لکھا ہے یا عَلَى،
ان میں سے ہمزہ وصل اور ہمزہ قطع کے درمیان فرق نہ کرنا کچھ زیادہ ہی کَھلتا ہے۔
ہمزہ وصل اور قطع یہ دونوں کلمے کے شروع میں واقع ہوتے ہیں،
ہمزہ وصل الف کی شکل میں لکھا جاتا ہے اور اس کے اوپر یا نیچے چھوٹا ہمزہ نہیں رکھا جاتا،
اور پڑھتے وقت ہمزہ قطع ہمیشہ متحرک ہوتا ہے،
یہاں پر ’اسم‘ اور ’ایمان‘ میں ہمزہ موجود ہے۔’اسم‘ کا ہمزہ ہمزۂِ وصلی ہے،
اس کا صحیح تلفظ جاننے اور سننے کے لےئ آپ شیخ حذیفی یا دوسرے معروف قرا کی زبانی اسے سن سکتے ہیں۔
قدیم مخطوطات میں ان چیزوں کے مابین فرق نہیں کیا جاتا تھا لیکن دور حاضر میں عرب علما کے نزدیک یہ فروق معروف ومتداول ہیں،
کہاں ہمزہ وصلی ہوگا اور کہاں ہمزہ قطعی اسے جاننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ دیکھا جائے وہ کلمہ اسم ہے یا فعل یا حرف۔
اگر اسم ہے تو اس کا ہمزہ ہمزۂِ قطعی ہوگا سوائے دس اسما کے،
اسم،
(نوٹ:کلمہ اثنان حالت نصب وجر میں اثنین ہو جائےگا،
ان دس اسما میں ہمزہ وصلی ہے،
جہاں تک معرف باللام کا مسئلہ ہے تو لام سے پہلے جو ہمزہ ہے وہ ہمزہ وصلی ہے،
اگر اس معرف باللام کے بعد ہمزہ وصلی آئے تو اجتماع ساکنین سے بچنے کے لے،
اور اگر وہ کلمہ فعل ہے تو اس کا اصل یہ ہے کہ اس میں ہمزہ وصلی ہوگا سوائے چند جگہوں کے:
۱۔فعل ثلاثی کا ماضی اور مصدر،
۲۔مضارع کا صیغہ واحد متکلم،
۳۔باب افعال کا ماضی،
ان جگہوں میں ہمزہ قطعی ہوگا،
اور اگر وہ کلمہ حرف ہے تو اس کا ہمزہ قطعی ہوگا۔جیسے: إلَى،
ان تمام قواعد کی رعایت عربی عبارت لکھتے وقت کی جائےگی۔اگر کوئی عربی لفظ اردو تحریر میں استعمال ہو تو اس وقت الف کے اوپر چھوٹا ہمزہ لکھنا مناسب نہیں۔مثلا کوئی اس طرح لکھے:’إمام أحمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں‘،
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ان قواعد کی رعایت کرنے اور عربی زبان کو صحیح صحیح لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔






