جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اپنی ہی ذات کے گوشے میں کہیں مَیں گم ہوں

کلام: کاشف شکیل14 نومبر، 20211,874قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کارِ دنیا سے مری جان مجھے فرصت نیں
تیرے غم میں رہوں ہلکان مجھے فرصت نیں
ایک ظالم کو گناہوں کی سزا دے کر میں
آخرش کیوں ہوں پشیمان، مجھے فرصت نیں
غم دنیا ہی کہاں کم ہے کہ میں ہو‌ جاؤں
ہجر کے غم میں پریشان، مجھے فرصت نیں
ایک کمرہ ہو جہاں عشق ہو، میں ہوں تم ہو
اور رہے بیچ میں شیطان مجھے فرصت نیں
اپنی ہی ذات کے گوشے میں کہیں مَیں گم ہوں
میں بنوں کیوں ترا عنوان مجھے فرصت نیں
اک جفا کار کی خاطر میں بنوں صحرائی
اور دل کو کروں ویران مجھے‌ فرصت نیں
زندگی زندہ دلی سے ہے عبارت کاشف
کیوں بلا وجہ کا خلجان مجھے فرصت نیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اپنی ہی ذات کے گوشے میں کہیں مَیں گم ہوں - دی فری لانسر | دی فری لانسر