آج جب ”منہج سلف“ کی بات کی جاتی ہے تو بعض حضرات بڑی خوبصورتی سے یہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے بر صغیر کے اکابر علماے اہل حدیث کے یہاں بھی تصوف اور اسما وصفات وغیرہ کے ابواب میں خلل موجود ہے،
سب سے پہلے تو ایسے حضرات سے یہ کہنا چاہوں گا کہ پہلے آپ یہ فیصلہ کریں کہ اسما وصفات اور دیگر ابواب میں حق کیا ہے اور باطل کیا۔حق وباطل کی صحیح تمیز کے بعد ہی آپ کے لیے اس پر عمل کرنا ممکن ہوگا،
اللہ تعالی نے صرف انبیا کو معصوم بنایا ہے،
اس مقدمہ کو سمجھنے کے بعد اب بر صغیر کے اکابر اہل حدیث کی طرف آئیں۔آپ پہلے یہ فیصلہ کریں کہ جن مسائل میں آپ اکابرین کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں خود آپ کے نزدیک ان کا موقف ان مسائل میں صحیح ہے یا غلط؟
اگر آپ بھی مانتے ہیں کہ ان کا موقف صحیح نہیں تھا تو کیا یہ انصاف ہے کہ ان مسائل میں بھی ان کا دفاع کیا جائے؟ یا ان کو اپنی ڈھال بنائی جائے؟
کیا اسی زمانے میں جب بعض سے ایسی غلطیاں سرزد ہوئیں تو دیگر اکابرین نے ان پر اعتراض نہیں کیا؟
اب یہ سوال کہ ”اگر آج ان مسائل کی وجہ سے کسی کی سلفیت اور منہج پر کلام کیا جاتا ہے تو ان اکابرین کی سلفیت پر کوئی کلام کیوں نہیں کرتا؟“
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل حق ہر زمانے میں اہل باطل سے ممتاز رہے ہیں،
اسی وجہ سے بعض ایسے مسائل بھی ہمیں کتب عقائد میں نظر آتے ہیں جو خالص فقہی ہیں،
اسی طرح آج کے بر صغیر کے ماحول میں مقلدین اور سلفیوں کے مابین تمیز کے لیے رفع یدین،
جہاں تک بارہویں وتیرہوں صدی ہجری کے ہندوستان کی بات ہے تو اس وقت کے اکابر علمائے اہل حدیث کی خدمات ”احیاءِ سنت اور ترک تقلید“ کے لیے معروف ہیں نہ کہ اسما وصفات وغیرہ ابواب میں منہج سلف کی تنقیح اور ترویج و اشاعت کے لیے۔
ولی اللہی خاندان نے جس طور سے خطے میں شرک و بدعت پر کام کیا جماعت اہل حدیث ان کا احسان مند ہے،
لہذا اہل علم نے ان کی خدمات کے اعتراف کے باوجود ان کے مذکورہ موقف پر تنقید کی ہے،
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ سے استواء علی العرش کے مسئلہ میں چوک ہونے پر انھی کے معاصر مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ نے مستقل کتاب تصنیف کی۔اس طرح اس دور کے علما نے بھی اپنا کردار نبھایا۔
اگر دو صدی پہلے تقلیدی انحراف سے مقابلہ کے لیے سلفی وغیر سلفی کے مابین تقلید کا مسئلہ امتیازی حیثیت رکھتا تھا تو آج کے ماحول میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ اخوانی فکر سے سلفیت کا مقابلہ ہے۔آج کے زمانے میں سلفی علما اس فکر اور اس کے حاملین سے امت کو آگاہ کر رہے ہیں۔
لہذا آج کے ماحول میں عالم اسلام میں اخوانی فرقے کے فتنہ وفساد کے ظہور کے بعد کوئی ان کے باطل افکار کی نشر واشاعت کرنا چاہے اور ان کے منہج پر اعتراض ہونے پر بارہویں وتیرہوں صدی ہجری کے اکابر اہل حدیث پر اپنا قیاس کرے اور ان کے دامن میں اپنا جرم چھپانا چاہے تو انھیں نہ اس کی اجازت مل سکتی ہے،






