جمعہ پڑھا کر مصلی پر ہی بیٹھا ہوا تھا کہ ہمارے ایک شناسا حسبِ معمول ملاقات کے لیے مصلی تک آئے۔خلاف معمول رنجیدہ نظر آرہے تھے،
یہ کہتے کہتے آبدیدہ ہوگئے!
میں نے آبدیدہ ہونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے: جس جگہ کی مسجد کی ذمہ داری لی ہے اس قصبہ کے لوگ نادار ہیں،
میں نے انھیں تسلی دی،
بدگمانوں کی مہربانی سے
پاکدامن بچے نہ دامن چاک
ان کو دلاسہ دینے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان صاحب کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ خود اہل ثروت میں سے ہیں،
بات ختم ہوئی اور وہ بھی رخصت ہوگئے۔لیکن اپنے پیچھے میرے ذہن میں بہت سارے سوال چھوڑ گئے،
سوال یہ تھا کہ کیا واقعتًا امت کے اخلاقی دیوالیہ پن کا یہ حال ہے کہ اب ہمارے درمیان کوئی امانت دار نہیں رہا؟ اور قرب قیامت کی وہ علامت ہم اپنی چشم سر سے دیکھ رہے ہیں جس کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ قرب قیامت امانتداری اٹھالی جائے گی یہاں تک کہ لوگ آپس میں کہیں گے: سنتے ہیں کہ فلاں قبیلے میں ایک امانتدار ہے۔(مسلم)
یا پھر یہ ہمارے مزاج کی بے اعتدالی اور غلوپسندی کا مظہر ہے کہ ایک ہی رنگ کے چشمے سے سب کو دیکھتے ہیں۔
یا یہ ہمارے اپنے نفس کی کمزوری اور ہماری اپنی طبیعتوں کے خبث اور حسد کی کرشمہ سازی ہے جو ہمیں دوسروں سے صرف بدگمان ہونا سکھلاتی ہے۔
یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں،
تاہم اپنے طور پر آپ قارئین سے یہ گزارش ضرور کروں گا کہ سماج میں غلط عناصر کا وجود تو درکنار ان کا غلبہ بھی ہوجائے تب بھی اس قدر زیادہ مایوس نہ ہوجائیں کہ یہ سمجھنے لگیں کہ اب خیر باقی نہیں ہے۔
ہم خیر امت ہیں اور ہم اہل سنت کا یہ ماننا ہے کہ قرب قیامت تک امت میں خیر باقی رہے گا،
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا تھا (لاتزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق) میری امت کا ایک طبقہ برابر حق پر رہے گا،
لہذا ہماری طرف سے یہ زیادتی ہوگی کہ ہم قوم و ملت کے صرف خائنوں کو دیکھیں اور ان کی وجہ سے بدگمانی کی دوسری انتہا پر جا پہنچیں اور یہ مان لیں کہ جس نے بھی کوئی قومی و ملی ذمہ داری اپنے سر لی وہ "کرپٹ" ہی ہے۔
قوم و ملت کی خدمت کے میدان کو اتنی گھٹن سے نہ بھردیں کہ سانس لینا دوبھر ہوجائے،
یاد رکھیں اگر ایسے عدم اعتماد کا ماحول رہے گا تو آئندہ اچھے لوگ کبھی میدان عمل کا رخ نہیں کریں گے،
شرافت دست بستہ عرض کررہی ہے "أتهلكنا بما فعل السفهاء منا"کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے؟ (الأعراف:١٥٥) کیا میرا بھی کوئی وزن ہے؟ اعتبار ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ اوقاف سے لے کر عمومی عطیہ جات اور چندوں تک قومی و ملی سرمایہ کے ساتھ بہت کچھ ایسا ہورہا ہے جو شرعا قانونا اور اخلاقا ناقابل قبول ہے تاہم اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امت خیر سے کلی طور پر نہ کبھی خالی رہی نہ رہے گی۔
ان اخلاقی رویوں میں افراط و تفریط سے پاک میانہ روی اختیار کی جائے کہ یہی عین دین داری ہے۔
عليك بأوساط الأمور فإنّها
طريق إلى نهج الصّواب قويم
ولا تك فيها مفرطا أو مفرّطا
كلا طرفي قصد الأمور ذميم






