بغیر دانتوں کے سیب کھانا کمال ہے نا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بزرگ ہو کر ٹھرک مٹانا کمال ہے نا
بغیر دانتوں کے سیب کھانا کمال ہے نا
یہ عشق و ایثار و صبر و نرمی مری طرف سے
مگر ترا یوں انا دکھانا کمال ہے نا
بنا بلائے ہمارے دل میں تمھارا آنا
بنا کرائے کا یہ ٹھکانا کمال ہے نا
خطاؤں پر یہ ثبات قدمی اور اتنا غصہ
تمھارا انداز عاشقانہ کمال ہے نا
وفا کے وعدے بھلا کے دل توڑنا اچانک
نہ عذر کوئی نہ کچھ بہانہ کمال ہے نا
زباں کی پاکیزگی سے دل کی کثافتوں تک
جناب کا کبرِ زاہدانہ کمال ہے نا
مغل تو تھے مادر وطن کے عظیم ہیرو
مگر انھی کو ولین بنانا کمال ہے نا
مزاج کاشف نہ پوچھ یارا کہ کام اس کا
زباں کو دل سے قریب لانا کمال ہے نا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
R
Rasheed
7 جون، 2022یہ آپ شاعرانہ کمال کا شاہکار ہے،جھوم جھوم اٹھا۔





