سماج انسان کی ایک ضرورت ہے جس کے سہارے وہ اکثر بنتا بھی ہے اور بگڑتا بھی،
میں جب اس سماج کو ایک درسگاہ کی نظر سے دیکھتا ہوں تو جہاں جہاں تک نظر جاتی ہے کام کی باتیں سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔
موجودہ دور میں ہم اپنے آس پاس کے سماج کو زیادہ تر دو ذرائع سےدیکھتے ہیں:
ایک اپنی کھلی آنکھوں سے،
دوسرا ذریعہ سوشل میڈیا ہے،
میں جب سوشل میڈیا کی بظاہر مختصر اور بباطن وسیع و عریض دنیا کو دیکھتا ہوں،
سوشل میڈیا پر حاصل ہونے والے تجربات و احساسات کو ضبطِ تحریر میں لانا قریب قریب ناممکن ہے۔
تاہم ایک پہلو ایسا ہے جس کا احساس شدت سے ہوتا ہے۔وہ ہے ذہنی کثافت کا،
میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم کبھی گھر سے نکل کر بازار گھوم کر آتے ہیں تو اس قدر جسمانی تھکان اور ذہنی پراگندگی کا شکار نہیں ہوتے جس قدر واٹس اپ کی تحریروں،
آپ محسوس کریں تو ہم نے اپنے ذہن کو ایک قاتل حسینہ کی تحویل میں دے دیا ہے جسے سوشل میڈیاکہا جاتا ہے،
زمانہ جاہلیت کے ایک بدو سے کسی نے پوچھا کہ تم شراب کیوں نہیں پیتے؟ اس نے کہا:
لا أشرب ما يشرب عقلي(میں وہ چیز نہیں پیوں گا جو میری عقل کو پی جائے)
ہم اس بدویانہ فطری سادگی تک کو بچا نہیں سکے ہیں۔
میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ اس کثافت کے نتیجے میں ایک پراگندہ ذہن لیا ہوا کوئی انسان اپنے اندر یکسوئی کیسے برقرار رکھ سکتا ہے،
انسان کو دی گئی عقل اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے،
اس لیے خود کی عقل کا تحفظ ایک شرعی،
شریعت اسلامیہ میں انسانی عقل کو ختم کردینے والی شراب کو ام الخبائث کہا گیا ہے تو ان تمام نشہ آور چیزوں کے استعمال کو حرام قرار دیا گیا ہے جن کے استعمال سے انسان اپنی عقل کھو بیٹھے چاہے وقتی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔
كل مسكر حرام(ہر نشہ آور چیز حرام ہے)[متفق عليه]
ما أسكر كثيره فقليله حرام(جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے)[أحمد:وصححه الألباني]
حفظ الضروريات الخمسة کے نام سے انسان کی جن پانچ بنیادی چیزوں کے تحفظ کو تشریع اسلامی کا مقصد قرار دیا گیا ہے ان میں سے ایک انسانی عقل کا تحفظ بھی ہے۔
انسانی عقل،
ذہن کو ماؤف کردینے والی،
شرعی و سماجی دونوں بنیادوں پر اس کا مضر اور نقصاندہ ہونا ایک مسلّمہ حقیقت ہے۔
ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں %31 فیصد سڑک حادثات کی وجہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل کا استعمال اور اس میں انہماک ہے۔موبائل کی وجہ سے سڑک حادثات کا شکار ہونے والے راہ گیروں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
ہمارے پاس ان ظاہری حوادث کا تو ایک تخمینہ ہے ان کے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے اعداد و شمار کی شکل میں ایک پیمانہ ہے۔تاہم ان چھوٹے بڑے حادثات کو اور متنوع نقصانات کو کیسے ناپا جائے جو اس ذہنی کثافت کے مرہونِ منت ہیں؟
وہ حوادث جو اکثر ایک ہی انسان کے ساتھ بار بار پیش آتے ہیں۔
مطالعہ روح کی غذا ہے اور کتابیں عقل انسانی کی سرسبز وشاداب چراگاہ،
سوشل میڈیا کے حرام اور ناجائز استعمال کو ایک طرف رکھیے کہ اس کاحکمِ شرعی تو واضح ہے۔اس کے مروجہ مباح استعمال کے سلسلے میں ذرا غور کیجیے اور دیکھیے کہ شرعا اس کا حکم کیا ہوسکتا ہے؟
اہل علم کے نزدیک مباحات کا استعمال بھی جب حد اعتدال سے تجاوز کرجائے تو وہ سم قاتل سے کم نہیں اور شرعا حرام یا کم از کم مکروہ ہے۔
کیونکہ مباحات کے استعمال میں حد سے زیادہ پھیل جانا اسراف کی ایک شکل ہے،
اہل علم نے اسی بات کی طرف توجہ دلائی ہے:الإسراف:صرف الشيء فيما ينبغي زائداً على ما ينبغي(اسراف یہ ہے کہ ایک چیز کا استعمال صحیح جگہ پر کیا جائے تاہم حد سے زیادہ کیا جائے)[عمدة القاري شرح صحيح البخاري:۲/۲۴۳]
موبائل کا حد سے زیادہ استعمال اور اس کے نتیجہ میں یہ ذہنی کثافت ہمیں مسلسل کھارہی ہے،
اس حقیقت کو ہم جس قدر سمجھ لیں اسی قدر اچھا ہے کہ سوشل میڈیا سے جڑے ان مباحات میں اس قدر توسع اور حد اعتدال سے تجاوز کے ہم متحمل نہیں ہیں۔
امام ابن جوزی سے کسی نے پوچھا: أيجوز أن أفسح لنفسي في مباح الملاهي
(کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں لہو و لعب کے مباح ذرائع میں زیادہ توسع اختیار کروں؟)
تو ابن جوزی-رحمہ اللہ-نے جواب دیا:عند نفسك من الغفلة ما يكفيها
تمھارے اپنے نفس میں غفلت کا اتنا مادہ ہے جو اس کے لیے کافی ہے (نفس کی اس غفلت کے ساتھ مزید لہو و لعب میں توسع اختیار کرنے اور نفس کو غفلت کی وادیوں میں بھٹکنے دینے کے تم متحمل نہیں ہو سکتے)۔[سلسلة علو الهمة للمقدم:۴/ ۲]






