پچھلی دو قسطوں(اسلام کا وقتی بیانیہ:ایک جائزہ قسط اول/ قسط دوم) میں وقتی بیانیہ سے متعلق کئی ایک بنیادی باتوں کا تذکرہ ہوچکا ہے۔گفتگو کو گزشتہ سے پیوست کرکے آگے بڑھاتے ہیں اور ایک اور بیانیہ دیکھتے ہیں،
عقلی بیانیہ۔
انسانی عقل اللہ کی دی ہوئی بہت بڑی اور غیر معمولی نعمت ہے۔قرآن وسنت میں جابجا اس کے استعمال کی ترغیب ملتی ہے۔’’آیات لقوم یعقلون‘‘ اور ’’ أفلا یتدبرون القرآن‘‘اور ’’کتاب أنزلناہ إلیک مبارک لیدبروا آیاتہ‘‘ جیسی تعلیمات قرآن کے محکم اور لازوال پیغام کا اٹوٹ حصہ ہیں اورعقل پر پردہ ڈال لینے والوں کی یا اسے پس پشت ڈلال دینے والوں کی سخت الفاظ میں سرزنش بھی کرتی ہیں۔
قرآن وسنت اسی رب حکیم کی طرف سے اتارے گئے ہیں جو اس عقل کا خالق ہے۔اوراسی خالق ومالک کی طرف سے انسانی عقل کو یہ دعوت ہے کہ وہ خالق کی طرف سے نازل کردہ قرآن وسنت کے مقصود ومنشا تک پہنچے،
عقلی بیانیہ کیا ہے؟
عقل انسانی کے سلسلے میں اس بنیادی حقیقت اور حیثیت کو تسلیم کرلینے کے بعد ہم آتے ہیں اس طرز عمل کی طرف جسے عقلی بیانیہ کا نام دیا ہے،
ہمارے عہد کے مفکرین اور قلمکاروں کے درمیان یہ مانا جاتا ہے کہ عصر حاضر سائنٹفک دور ہے لہذا عقل ِانسانی ہر معاملے میں اپنی تسلی چاہتی ہے اور بنا اس تسلی کے کسی چیز کو تسلیم کرلے جانا اس کے لیے ایک ناقابل قبول عمل ہے۔لہذا اسلام کواور اس کی ہر ایک تعلیم کو معقول ثابت کرنا عصرحاضر کا چیلنج ہے بلکہ بعض حضرات کے نزدیک یہ عصر حاضر میں کار ِتجدید کا سب سے اہم باب ہے۔
قطع نظر اس سے کہ کیا واقعتا انسان ہر چیز کو مشاہدہ او رمحسوس کے درجہ میں دیکھے تبھی مانتا ہے؟ کیا انسانی زندگی کے سبھی معاملات اس پیمانے پر کھرے اترتے ہیں؟ یا انسان اپنی روز مرہ کی زندگی میں روح کی حقیقت جیسی بہت ساری باتوں کو ’’معقولیت‘‘ کے درجہ سے پرے بھی تسلیم کرتا ہے؟ ہم اس مسئلہ کی طرف بڑھتے ہیں کہ کیا اسلام’’سائنٹفک‘‘ ہے؟ کیا اسلام کی ہر تعلیم ’’معقول‘‘ ہے؟
اس سوال کا جواب کچھ یوں ہوگا کہ اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ اسلام اپنے آپ میں ایک معقول دین ہے کیونکہ عقل رب کائنات کی تخلیق کا شاہکارہے تو دین اسلام اس رب کی تشریع کا‘{ألا لہ الخلق والأمر تبارک اللہ رب العالمین} سن لو! تخلیق بھی اسی کی ہے اور حکم (تشریع)بھی اسی کا،
اس بنیادی مسئلہ پر غور وخوض کے بعد اس کو سمجھ لیا جائے تو یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت بن جاتی ہے کہ اسلام ایک انتہائی معقول دین ہے جس کی ہر تعلیم حکمتوں بھری ہے۔تاہم یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ اس کی معقولیت کا ادراک کرنا اپنے آپ میں ایک مستقل کام ہے،
یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہر حکم کی معقولیت کا ادراک ہر شخص کے بس میں ہواور یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک چیز ایک شخص کی نظر میں معقول ہو تو وہ دوسرے کی نظر میں بھی معقول ہی ٹھہرے یا اس کے بالکل برعکس ایک چیز ایک شخص کی نظر میں غیر معقول ٹھہرے تو سدا وہ غیر معقول ہی رہے۔یہ عقلوں کا تفاوت ہے جودین یا شریعت کے ایک ہی مسئلہ سے متعلق مختلف عقلی مظاہر کو جنم دیتا ہے۔
اس پر مستزاد یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عقلوں کا یہ تفاوت بسا اوقات ایک ٹکراؤ کو بھی جنم دیتا ہے جس کے نتیجے میں معقولیت کی تحدید میں یہ عقلیں باہم متصادم بھی ہوجاتی ہیں۔ظاہر ہے ایسے میں دین کو ایسی مضطرب عقل سے جوڑنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ یہ دین معقولیت کے باب میں ایک مضطرب دین ہوگا،
دین اسلام نے تو متضاد اور متفاوت عقلوں کو دین کی بنیاد فراہم کرکے یکجا کیا تھا {وألف بین قلوبھم لوأنفقت ما في الأرض جمیعا ما ألفت بین قلوبہم ولکن اللہ ألف بینہم} اور ان کے دل ایک دوسرے سے جوڑدیے،
اسی لیے شریعت نے عقل کو مدار تکلیف تو قراردیا تاہم نصوص کی معقولیت کو قبول ورد کا معیار نہیں قراردیا۔اسی لیے یہ بات سمجھنی چاہیے کہ قرآن وسنت سے ثابت شدہ حقائق کی حتی المقدور تعلیل وتوجیہ کرنا ایک مستحسن عمل ہے لیکن اسی تعلیل وتوجیہ کو قبول ورد کا معیار قراردینا نصوص کے ساتھ سراسر ظلم وزیادتی ہے۔مدعا ثابت شدہ حقائق کی معقول توجیہ کرنے یا نہ کرنے کا ہے ہی نہیں،
یہ بھی ضروری نہیں کہ اسلامی احکام کی معقولیت کا ادراک ہر فردِبشر کی عقل کے بس کی بات ہوبالفاظ دیگرکسی حکم کی معقولیت کی دعویدار ہر عقل کادعوی محض اس لیے مقبول نہیں ہوگا کہ وہ معقولیت کی بات کرتی ہے،
واقعہ یہ ہے کہ اسلامی عقائد،
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اسلام کی ہر تعلیم کی معقولیت واضح کرنے کا یہ چکر غیر مسلموں کو مطمئن کرنے کے نام پر شروع ہوتا ہے تاہم اس کا اختتام وانجام خود مسلمان کے اپنے اندر’’بزعم خویش‘‘ ’’غیر معقول‘‘ احکام ِ اسلام کے تئیں شک وشبہ سے لے کر استغراب وانکارتک جاپہنچتا ہے۔حالانکہ ایسے مسائل و احکام میں مسلم وغیر مسلم ہر دو ذہن کو یہ مسلّمہ حقیقت یاد دلانی کافی ہے کہ ضروری نہیں کہ کسی کی عقل جس حقیقت کو نہ سمجھ پائے وہ حقیقت ہی نہ ہو خاص طور پر اس وقت جب یہ احکام اس حقیقت کا مظہر ہوں{وإنہ لکتاب عزیز لایأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید}یہ ایک زبردست کتاب ہے جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا،
یہاں بات بہت آسان ہے کہ احکام اسلام کی معقولیت پر سوال اٹھانے کے بجائے انسانی عقل کے عجز کا اعتراف کیا جائے یا یہ بھی ممکن ہے کہ انسانی عقل سے خود دریافت کیا جائے کہ جس شارع کی تشریع میں جابجاتم نے خود انتہا درجہ کی معقولیت پائی ہے اسی شارع کے بعض احکام کی علت یا حکمت یا اس کی معقولیت تمھار ے ادراک سے پرے ہو تو اس کے بارے میں صحیح موقف کیا ہونا چاہیے؟ اس بات کو تسلیم کرلینا کہ دیگر احکام کہ طرح یہ حکم بھی انتہائی معقول ہی ہوگا گرچہ میں اس کے ادراک سے قاصر ہوں یا پھر یہ کہ جب تک میں اس حکم کو اپنی ناقص عقل کے معیار پر تول نہ لوں اور یہ میری اپنی عقل کے پیمانے پر کھرا نہ اترے تسلیم نہیں کروں گا؟
ظاہر ہے کہ انسانی عقل خود کہتی ہے کہ ایسی صورت میں انسانی عقل کے عجز کا اعتراف ہی ایک معقول موقف ہے یا انسانی عقل کو یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ یہ احکام بھی دیگر احکام کی طرح معقول ہی ہیں گرچہ اس کی معقولیت میری پہنچ سے باہر نظر آتی ہے۔
شیخ الإسلام ابن تیمیہ او ر ان کے شاگرد رشیدعلامہ ابن قیم رحمہما اللہ نے عقل ونقل کی معرکہ آرائی کے اس عقدہ کو بڑے آسان الفاظ میں سلجھادیا ہے اوربعض احکام اسلام کی معقولیت کے ادراک کے سلسلے میں انسانی عقل کو درپیش اس مشکل کو سادہ الفاظ میں سمجھا دیا ہے۔وہ فرماتے ہیں(الشریعۃ ما أتت بما تحیلہ العقول ولکن أتت بما تحار فیہ العقول) یعنی شریعت میں ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں جو عقلا محال ہو ہاں ایسی باتیں ضرور ہیں جن کے سمجھنے کے سلسلے میں عقلیں حیران رہ جائیں۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی درج ذیل عبارتیں دیکھیں،
(ونحن نعلم قطعا أن الرسل لایخبرون بمحال العقول وإن أخبروا بمحارات العقول فلا یخبرون بمایحیلہ العقل وإن أخبروا بما یحار فیہ العقل ولایستقل بمعرفتہ)ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ رسول ایسی کوئی بات نہیں بتلاتے جو عقلا محال ہو،
ایک مقام پر فرماتے ہیں:
(فالأنبیاء لم تأت بما یخالف صریح العقل البتۃ وإنما جاء ت بما لایدرکہ العقل فما جاء ت بہ الرسل مع العقل ثلاثۃ أقسام لا رابع لھا البتۃ قسم شہدبہ العقل والفطرۃ وقسم یشہد بجملتہ ولایھتدي لتفصیلہ وقسم لیس في العقل قوۃ إدراکہ وأما القسم الرابع وھو ما یحیلہ العقل الصریح ویشھد ببطلانہ فالرسل بریئون منہ وإن ظن کثیر من الجھال المدعین للعلم والمعرفۃ أن بعض ما جاء ت بہ الرسل یکون من ھذا القسم فھذا إما لجھلہ بما جاء ت بہ وإما لجھلہ بحکم العقل أو لھما۔)
انبیاء کی لائی ہوئی باتوں میں ہرگزایسا کچھ نہیں ہے جو عقل کے صریح خلاف ہو،
عقل ونقل کا باہم رشتہ سمع وطاعت کا ہے جبکہ تاریخ اسلام میں اسے بہت سارے لوگوں نے باہمی ٹکراؤ اور تضاد کا بنادیا اور عقل ونقل کے درمیان معرکہ آرائی کے نام پر علم وثقافت کے باب میں خوب خامہ فرسائی کی ہے۔قصور نہ عقل کا ہے نہ کمی نقل میں ہے،
یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا
میں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
علامہ ابن قیم عقلانی بیانیہ کے ان موجدین کے مرض کی تشخیص کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان سے غلطی کہاں سرزد ہوئی ہے؟ وہ فرماتے ہیں:
(فھذہ أربعۃ أمور أوجبت لہم ظن التعارض بین السمع والعقل۔أحدھا کون القضیۃ لیست من قضایا العقول۔الثاني کون ذلک السمع لیس من السمع الصحیح المقبول۔الثالث عدم فھم مراد المتکلم بہ۔الرابع:عدم التمییز بین ما یحیلہ العقل وما لایدرکہ)مجموعی طور پر ان کی چارغلطیاں ہیں جن کی وجہ سے وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ نصوص اور عقل کے درمیان تعارض اور ٹکراؤ ہے (یعنی وہ ٹکراؤ جس کو دور کرنے کے نام پر عقلانی بیانیہ وجود میں آتا ہے)
۱۔پہلی غلطی یہ ہوتی ہے کہ جو مسئلہ عقل کے ادراک کے دائرے سے باہر ہے اسے عقل کے دائرے کا مسئلہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔
۲۔دوسری غلطی یہ ہے کہ جس بات کو وہ شریعت کا حصہ سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ حقیقت میں صحیح سندسے ثابت شدہ مسئلہ نہیں ہوتا۔
۳۔تیسری غلطی یہ ہے کہ وہ شارع کی مراد اور اس کے مقصود کو سمجھ نہیں پاتے۔(نتیجتا اپنی سمجھ کو نصوص کا مفہوم سمجھ بیٹھتے ہیں اور اسے عقل سے متعارض اور متصادم بتلاتے ہیں)
۴۔اور چوتھی غلطی یہ ہے کہ وہ عقلا محال اور عقل کے دائرے سے پرے معاملات میں فرق نہیں کرپاتے ہیں۔(الصواعق المرسلۃ في الرد علی الجھمیۃ ۲:۴۵۹)
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا متعددعبارتیں اس حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہیں کہ تفہیم اسلام کے نام پر یا تقریب إلی الأفہام کے نام پر یا دفاع عن الإسلام کے نام پر جس طرح اسلام اور احکام اسلام کو عقلانی بیانیہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر کبھی بعض چیزوں کا انکار کیا جاتا اور بعض کی تاویل کی جاتی ہے اور بعض کو بالکل ہی ایک نیا معنی دینے کی کوشش کی جاتی ہے وہ دراصل حکمتوں والی شریعت اور اس کی گہرائی وگیرائی ناپتے ہوئے انسانی عقل کا چکرا جانا ہے۔یہاں عقل کو سنبھالنے اور سہارا دینے کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہوتا یہ ہے کہ لوگ اس حیرت کو ہی اپنی عقل کی دریافت سمجھ بیٹھتے ہیں اور پھر تار عنکبوت کی طرح عقلی تانے بانے بننے لگ جاتے ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنے بُنے اس جال اورالٹی چال سے اسلام کے دفاع میں کامیاب ہوجائیں گے یا اسلام کی صحیح اور حقیقی ترجمانی کا حق ادا کرلے جائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ عقلی بیانیہ دراصل اسلام کی ترجمانی کم اپنی عقل کی تسکین کا وہ سودا زیادہ ہے جس میں سرمایہ گنوا کر نفع کمانے کی بات کی جاتی ہے۔
اسلامی تعلیمات کی معقولیت کوسمجھنے کے لیے اس عقلی بیانیہ یا عقل کی طغیانی کی راہ پر چلنے کے بجائے مفسرین کرام یا شارحین حدیث کی مساعی کا جائزہ لیں تو بہت حد تک یہ بات کھل کرسامنے آئے گی کہ ان عقلانیین کے مقابلے مفسرین اور محدثین کاطرز نصوص کے تئیں تعظیم کا ہے اور وہ نصوص کے تقدس کو بحال رکھتے ہوئے بھی احکام اسلام کی معقولیت کے مختلف پہلؤوں کو اجاگر کرتے چلے جاتے ہیں۔گویا یوں سمجھیں کہ ان دونوں طبقات میں فرق اتباع اور ابتداع کا ہے۔
مفسرین ومحدثین نے شریعت کی اس نزاکت کو سمجھا جسے حضرت علی نے یوں بیان کیا(لو کان الدین بالرأي لکان أسفل الخف أولی بالمسح من أعلاہ ولکني رأیت رسول اللہ ﷺ یمسح علی ظاھر خفیہ) اگر دین قیاس آرائی یا رائے کی موافقت ہی کا نام ہوتا تو موزے کا نچلا حصہ اس کے اوپری حصہ سے زیادہ مسح کے لائق ہوتا لیکن میں نے رسول اللہﷺ کو اس کے اوپری حصہ پر ہی مسح کرتے دیکھا ہے۔(أبوداود:۱۶۲)یعنی دین کے سبھی مسائل رائے اور عقل کے تابع نہیں ہیں،
مفسرین ومحدثین نے اس نزاکت کو ملحوظ رکھا اور اپنے آپ کو معقول حدتک ہی معقولیت کے پیچھے لگایا جبکہ عقلانیین نے یہاں ایک طرز جنوں اور ہی ایجاد کی،
عقلانیت دراصل عقل کے استعمال میں افراط کامظہر ہے،
عقل اور عقلانیت کے سلسلے میں شریعت کا طے کردہ ضابطہ بہت آسان اورقابل فہم ہے،
عقل کے سلسلے میں معتدل موقف کیا ہونا چاہیے اسے بیان کرتے ہوئے علامہ ابن تیمیہ رقمطراز ہیں:
(العقل شرط فی معرفۃ العلوم و کمال و صلاح الأعمال و بہ یکمل العلم و العمل،
ابن تیمیہ کے اس اقتباس کی روشنی میں جو بات مقصود ہے وہ یہ کہ عقل بذات خود تمام حقائق کے ادراک کی طاقت نہیں رکھتی بلکہ اسے دیگر سہاروں کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔کامل بینائی کے باوجود آنکھوں کے سامنے چھایا اندھیرا جس طرح آدمی کو اندھا کردیتا ہے بالکل اسی طرح عقل انسانی بھی نقل کی مدد کے بنا بہت سارے حقائق کے ادراک سے قاصر ہے،






