جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ان سے سیکھا ہے بیاں

کلام: کاشف شکیل17 ستمبر، 20221,610قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
میری جاں ہے میری ماں
میرے ابو میری شاں
دین و دنیا ان سے ہی
ان پہ قرباں کل جہاں
ماں کا آنچل کیا کہوں
جو ہوا رشکِ جِناں
ماں کی آنکھیں مامتا
اور دل ہے مہرباں
وہ خلوص و اُنس کا
ایک بحر بیکراں
چھاپ ہوں ابو کی میں
رب کا ہیں وہ ارمغاں
خاک‌ کا اک ڈھیر ہے
ان کے بِن یہ کن فکاں
لفظ ان سے سیکھے ہیں
ان سے سیکھا ہے بیاں
رب سے کاشف نے کہا
رکھ تو ان کو شادماں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ان سے سیکھا ہے بیاں - دی فری لانسر | دی فری لانسر