روایتی دین،
روایتی دین،
تجدد پسندی:
عصر حاضر میں دین کی خدمت کے نام پر ایک طبقہ ظاہر ہوا جس کا منہج تجدد پسندی ہے،
وإني وإن کنت الأخیر زمانہ
لآت بما لم تستطعہ الأوائل
(میں زمانی اعتبار سے بعد میں آیا ہوں تاہم جو میں پیش کرسکتا ہوں وہ مجھ سے پہلے کسی کے بس کا نہیں تھا)
تجدد پسندی کا یہ رجحان کبھی دین کو نئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے نام پر اور کبھی نئی نسل کے ذہنوں میں پائے جانے والے شبہات کے ازالہ کی کوشش کے نام پر تو کبھی اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے جواب اور اسلام کے دفاع کے نام پر امت کے اندر اپنے وجود کے لیے اخلاقی جواز پیدا کرتا رہا ہے۔سونے پر سہاگہ یہ بھی ہوا کہ عصر حاضر میں احیاء ملت کے نام پر اٹھنے والی بہت ساری تنظیموں نے اپنے افراد کی تربیت کی بنیاد علم پر نہیں رکھی۔کچھ تنظیموں نے دین کی بعض منتخب باتوں کو اپنی کل دعوت کا محور بنایا تو بعض تحریکوں نے نوجوانوں میں جذباتیت اور دین پسندی کا ایک عمومی مزاج پیدا کیا،
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ادراک ملت اسلامیہ کی دینی تاریخ پر نظر رکھنے والاہر صاحب بصیرت بخوبی کرسکتا ہے۔اسی لیے عصر حاضر کے تجدد پسندوں کی پوری فہرست دیکھ لیجیے ان کے پیروکاروں میں مضبوط علمی بنیاد رکھنے والے مستند علماء خال خال ہی نظر آئیں گے اورجو نظر آئیں گے وہ بھی ان تجدد پسندوں کی کسی اور ادا کے مارے ہوں گے۔کوئی کسی کی زبان سے تو کوئی کسی کے اسلوب بیان سے متاثر نظر آئے گا یا پھر چڑھتے سورج کے پجاریوں کی طرح کسی کی شہرت انھیں ان کا گرویدہ بنائے ہوئے ہوگی۔
ان تجدد پسندوں کے سامنے ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ تجدد پسندی کے نام پر ان نت نئے افکارکوجو ایک پہلو سے بظاہردین سے جڑے نظر آتے ہیں مگرساتھ ہی ’روایتی دین‘ سے جدابھی ہوتے ہیں کیسے سند جوازفراہم کریں؟ یہ کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا،
ایسی صورت میں ان حضرات کواپنے افکار کو اسلامیانے کے لیے اوران پر دین کا رنگ چڑھانے کے لیے ایک ہی پناہ گاہ نظر آتی ہے اور وہ ہے ’تجدید دین‘ کا سائبان یعنی تجدید دین کا یہ غلط مفہوم لیا جائے کہ دین میں جدت کی گنجائش ہے۔حالانکہ تجدد پسندی اپنی حقیقت اور اثرات کے اعتبار سے تجدید کی عین ضد ہے۔تجدید اسی قدیم روایتی دین کی طرف لوٹنے اور لوٹانے کا نام ہے تو تجدد پسندی جدت کے نام پر فکری بدعت کا۔
یوں لگتا ہے کہ ’تجدید‘ کے اصل کلمات ’جدد‘یا لفظ ’جدید‘سے ان حضرات نے یہ معنی لیا ہے کہ ہر دورمیں اسلام کی ایک نئی تعبیراور تفسیر ہوگی۔حالانکہ تجدید اپنے لغوی اور شرعی دونوں معنوں میں قدیم کو بحال کرنے اور فعال بنانے ہی کا نام ہے۔
دوسری طرف وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے افکار کو علمی وشرعی اصولوں کی روشنی میں تولاجائے تو پھر ان افکار کا کھوٹا پن کھل کر سامنے آجائے گا اس لیے اس دین کو اور اس کے طے کردہ اصولوں کو ’روایتی‘ قراردے کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ نئے دور کے تقاضوں میں پرانے دور کے یہ اصول مفید اورکارگر نہیں ہیں۔اسی لیے تجدید کے دعویدار ان تجدد پسندوں کی پوری فہرست دیکھ لیجیے وہ سب کے سب اس روایتی دین کے تئیں اس بنیادی مسئلہ اور سوچ میں متفق نظر آئیں گے کہ دین کی یہ روایتی تفسیر جدید دور کے لیے ناکافی ہے یا جدید دور سے ہم آہنگ نہیں ہے گرچہ اس نفی کے بعد جونئی تعبیر یا تفسیر وہ کریں گے خود ان کی اپنی ان فکری جدتوں کو دیکھیے تو وہ خود باہم مختلف اور بسا اوقات متضاد نظر آئیں گی۔
تجدد پسندوں نے ایک طرف تو یہ کیا کہ اپنی تجدد پسندی کو تجدیدکا نام دے کر سند جواز فراہم کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف دین اسلام کے بیان کردہ وہ حقائق جن کے خلاف جاکر ان تجدد پسندوں نے نئی تعبیر اور نئی تفسیر ایجاد کی ان حقائق کے وزن کو گھٹانے کے لیے دین اسلام کو ’ روایتی دین‘ اور اس کے اس حقیقی مفہوم وتفسیر کو جو سلف صالحین کے پاس تھی ’روایتی فکر‘ کا نام دیا۔
’روایتی فکر‘ کی اس تعبیر میں دراصل ایک قسم کاطنز پوشیدہ ہے،
دین اسلام اور علماء اسلام کے لیے ’روایتی دین‘اور’روایتی فکر کے حاملین‘کی یہ اصطلاحات استعمال کرنے والے عصر حاضر کے ان تجدُّد پسندوں یا تجدید کے دعویدار وں کی جانب سے معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ روایتی دین کے ان دونوں مفاہیم کو باہم خلط ملط کردیتے ہیں جن کا تذکرہ مضمون کے آغاز میں ہوا یا پھر ان کی نظر میں روایتی دین اپنے پہلے مفہوم میں بھی وہی حیثیت رکھتا ہے جو حیثیت دوسرے مفہوم کی ہے قابل تنقیح ‘قابل تنقید‘ یعنی چونکہ یہ روایتی ہے اس لیے نئے زمانے میں،
تجدد پسندوں کے دین اسلام کو بالعموم ’روایتی دین‘ کا نام دینے کے پیچھے ایک اور حقیقت بھی مضمر ہے،
مذہب اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان باہم ایک عظیم فرق ہے۔اور وہ یہ ہے کہ دین اسلام کے بنیادی مصادر قرآن و سنت کی شکل میں جوں کے توں محفوظ ہیں۔اور وہ اپنے معانی و مفہوم کے ساتھ بلا انقطاع تسلسل کے ساتھ امت میں نسل در نسل منتقل ہوتے چلے آئے ہیں۔جبکہ دیگر مذاہب اپنی اصل کتابیں اور مراجع محفوظ نہ رکھ سکے۔جس کے نتیجے میں آج جو کچھ ان کے پاس مذہب کے نام پر محفوظ ہے وہ یاتو غیر مستند ہے یا پھر ان مذاہب کے نام لیوا و پیشوا حضرات کے فرمودات کا مجموعہ ہے حتی کہ بسا اوقات ہر اس شخص کی رائے ان کے دین کے معاملہ میں اہمیت اختیار کرجاتی ہے جو اس دین کا حامل نہ بھی ہو مگر اس نے اس دین پر ریسرچ اور تحقیق کی ہو۔اس طرح مذہب اسلام اور دیگر مذاہب میں یہ بنیادی فرق ہے کہ اسلام ابھی بھی دین ہے جبکہ دیگر مذاہب امتیوں کے مذہبی افکار کا مجموعہ۔مذاہب کے درمیان کا یہ فرق اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ ان دونوں قسم کے ادیان کے ساتھ تعامل کا طرز بھی جداگانہ ہو۔
ظاہر بات ہے شخصی افکار ہمیشہ قابل مناقشہ ہوتے ہیں،
مغربی مفکرین ہوں کہ خود بر صغیر کے تجدد پسند جب ان سب کے نزدیک مذہب اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان پایا جانے والا یہ بنیادی فرق ہی غیر معتبر ہواور وہ سبھی مذاہب کو ایک ہی کسوٹی پر پرکھنے کے عادی ہوں تو ظاہر بات ہے یہ ایک ایسی بھیانک اوربنیادی غلطی ہے جس کا اثر نتائج پر ضرورمرتب ہوگا۔مذہب اسلام کی وحی الہی کے ساتھ بھی یہ لوگ وہی روش روا رکھیں گے جو دیگر مذاہب میں پائے جانے والے شخصی افکار سے متعلق اپناتے ہیں،
بدقسمتی یہ ہے کہ اس بنیادی حقیقت کو مغربی مصنفین جس طرح نظر انداز کرتے ہیں بالکل اسی طرح یہ تجدد پسند بھی ان مراجع ومصادر اور ان کی اصل سلفی تفسیر وتشریح کو ’روایتی دین‘ اور ’روایتی فکر‘ کا نام دے کرنظر انداز کرتے ہیں اور اپنی ہی ایک نئی دنیا بسانے کے درپے رہتے ہیں۔اور اسلامی عقائد سے لے کر احکام و مسائل سب کے بارے میں اپنی رائے دینا اپنا حق اورفرض سمجھتے ہیں،
یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ مذہب اسلام کے ساتھ معاملہ سراپا تسلیم ورضا کا ہے،
تجدد پسندی کے علمبردار حضرات کا اصل معاملہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ دین کے اس بنیادی مفہوم سے ناآشنا ہوتے ہیں جو قرآن و سنت اور فہم سلف کی روشنی میں منقح ہوکر سامنے آتا ہے۔ان میں کی اکثریت محض قرآن کریم کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔قرآن کی سلفی تفسیر کے ساتھ حدیث فہمی کے لیے درکار محنت کرنے سے وہ قاصر ہوتے ہیں،
(أصحاب الرأی أعداء السنن أعیتہم الأحادیث أن یحفظوہا وتفلتت منہم أن یعوہا واستحیوا حین سُئلوا أن یقولوا لا نعلم فعارضوا السنن برأیہم.. )عقل پرست لوگ سنت کے دشمن ہوتے ہیں،
یہی وجہ ہے کہ آ پ جتنے بھی تجدد پسند وں کو دیکھیں ان کے اندر یہ بات قدر مشترک کے طور پر پائی جائے گی کہ ان میں سے اکثر کے اندرحدیث و سنت کا علم سطحی درجہ کا ہوگا۔بعض تو اس سطحی علم سے بھی کورے ہوں گے۔الٹا وہ یہ باور کرائیں گے کہ ان کو حدیث کی روایت سے آگے کی چیزیعنی درایت (تجدد پسندی) حاصل ہے اس لیے ان سے روایت حدیث کی بابت سوال کرنا دراصل خود کی کم فہمی یا کج فہمی کی دلیل ہے۔
اورساتھ ہی یہ بھی باور کرائیں گے کہ علماء کا طبقہ اس شعور و آگہی سے محروم ہے جس کے ہم حامل ہیں۔حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔علماء ان وادیوں سے بخوبی واقف ہیں جن وادیوں کے رہرو یہ تجدد پسند ہیں اور اس سفر کے انجام سے بھی باخبر ہیں اسی لیے وہ اس راہ نہیں چلتے جو تجدد پسندوں کی نظر میں شاہراہ ہے۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تجدد پسند جس چیز کو جدت سمجھتے ہیں شرعا وہ اکثر بدعت یا آزاد خیالی ہوتی ہے۔اسی لیے وہ ان جیسی نہیں کہتے۔ورنہ ایسی کوئی بات نہیں کہ وہ ان تجدد پسندوں کی طرح اٹکلیں لگانے سے قاصر ہوں۔عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ اسی حقیقت کو یاد دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:
(قف حیث وقف القوم،
تم (دین کے معاملہ میں)خود کو وہاں روک لو جہاں وہ (سلف صالحین)رک گئے،
اور امام اوزاعی فرماتے ہیں:
(اصبر علی السنۃ وقف حیث وقف القوم وقل فیما قالواوکف عما کفواواسلک سبیل سلفک الصالح فإنہ یسعک ما وسعہم)تم اپنے آپ کو سلف صالحین کے راستے کا پابند بناکے رکھو،
متقدمین اہل علم،






