جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

بھیگی ہوئی پلکوں میں طوفان نہیں کوئی

کلام: کاشف شکیل20 اکتوبر، 20221,249قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وحشت کے سوا دل میں سامان نہیں کوئی
ہمدم تو کجا گھر میں مہمان نہیں کوئی
ہر رات مجھے آنکھیں آنسو ہی پلاتی ہیں
پی پی کے سنبھل جانا آسان نہیں کوئی
خوابوں کا وطن اُجڑا، پھر بھی وہ سمجھتا ہے
بھیگی ہوئی پلکوں میں طوفان نہیں کوئی
جاتے ہوئے کہتے ہو ہر خط کو جَلا دینا
یہ دل ہے مرے پیارے شمشان نہیں کوئی
بس وصل کے قطروں سے کیوں پیاس بجھاتے ہو
کیا ہجر کے آنسو کا ارمان نہیں کوئی
کیوں عشق نہیں پھلتا بن اشک کی بارش کے
یہ دل کا چمن ارضِ ویران نہیں کوئی
آنکھوں کے سمندر سے رخسار کے ساحل تک
ہم ڈوبنے والوں کا پُرسان نہیں کوئی
اِس حسن کی گرمی میں بس زلف ہی سایہ ہے
اس بات سے اے کاشف انجان نہیں کوئی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

M
Moin Sahar
20 اکتوبر، 2022
لا جواب احساسات کی ترجمانی

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

بھیگی ہوئی پلکوں میں طوفان نہیں کوئی - دی فری لانسر | دی فری لانسر