جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کاشف غزلیں کیوں لکھتے ہو

کلام: کاشف شکیل24 نومبر، 20222,054قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وصل کی شب تھی درہم برہم
روزِ ہجر تھا لشتم پشتم
میری حالت زخمی زخمی
تیرا سراپا مرہم مرہم
صحرا صحرا تیری طلب میں
مثل مجنوں گشتم گشتم
تو ہے شگفتہ گل کی صورت
میں بلبل سا رقصم رقصم
میرے اندر تو رہتا ہے
میں بھی تجھ میں ہستم ہستم
پل پل ہجر میں رونا کیسا
ہر حالت میں مستم مستم
میرا عشق بدلنے والا
ساعت ساعت موسم‌ موسم
کاشف غزلیں کیوں لکھتے ہو
اس کی یاد میں ہر دم ہر دم
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کاشف غزلیں کیوں لکھتے ہو - دی فری لانسر | دی فری لانسر