ذکر ان کا ہوتے ہی دل مرا ہُمکتا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ذکر ان کا ہوتے ہی دل مرا ہُمکتا ہے
لب پہ نعت آتے ہی نور سا چمکتا ہے
ریشمی بدن پر تھا خوشبوؤں کا پیراہن
کیوں نہ دیکھ پایا میں، جی مرا سسکتا ہے
مصطفی کی باتیں ہوں، مجتبی کی نعتیں ہوں
ماہ جب نکلتا ہے، مہر جب ڈھلکتا ہے
میں درود پڑھتا ہوں، روح گنگناتی ہے
دل مرا منور ہے، تن بدن مہکتا ہے
ذکر کو "رفعنا لکْ" جب خدا نے کہہ ڈالا
کیسے مدح ممکن ہو من مرا ہچکتا ہے
آپ کی محبت میں، آپ کی اطاعت میں
جاں مری چہکتی ہے، دل مرا دھڑکتا ہے
نعمتیں تو جنت میں ہیں بہت مگر کاشف
آپ کو جو سوچوں میں، رخ مرا دمکتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
Z
ZAHID masood
4 دسمبر، 2022ماشاءاللہ بہت عمدہ
ج
جنید
4 دسمبر، 2022بہت خوب





