وگرنہ جرم ہم نے کیا کیا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تمھارے عشق نے رسوا کیا ہے
وگرنہ جرم ہم نے کیا کیا ہے
مرا خط لے تو لیتا ہے کم از کم
صنم سے اچھا اس کا ڈاکیا ہے
تھے جس کی زلف کے سایے کے طالب
اسی بد روح نے سایہ کیا ہے
نکالا دل کی پَسلی سے تو اب میں
بنا آدم اسے حوا کیا ہے
مجھے دے کر وہ اپنی ساری تلخی
بنی شیریں مجھے تیکھا کیا ہے
پھر اشکوں سے وضو کر کر کے میں نے
بچھڑ کر شکر کا سجدہ کیا ہے
وہ دل کا تنگ تھا سو اس نے کاشف
میں پورا تھا مجھے آدھا کیا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
Z
Ziya khan
22 دسمبر، 2022Mashallah bahut zabardast gazal hai





