جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

نعت کہہ پایا نہ جو وہ بے سخن رہ جائے گا

کلام: کاشف شکیل29 جنوری، 20231,416قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
شعر کے سینے میں اک درد کہن رہ جائے گا
کیسے کہہ دوں نعت کے بِن میرا فن رہ جائے گا
نعت احمد سے قلم کو اذن گویائی ملی
نعت کہہ پایا نہ جو وہ بے سخن رہ جائے گا
مصطفی کے نام کی تاثیر ہے اشعار میں
ورنہ لفظوں میں کہاں وہ بانکپن رہ جائے گا
تم سے پوچھا جائے گا نام نبی جب قبر میں
اسم احمد کے بنا سارا جتن رہ جائے گا
دیکھو اصحابِ نبی کا حب نبوی میں کمال
لاکھوں درجہ دور ان سے کوہ کن رہ جائے گا
شرک و بدعت سے تو اپنی روح کو آزاد کر
قبر کے پنجرے میں سب کا تن بدن رہ جائے گا
مصطفی کے ذکر میں جو منہمک ہو دم بدم
نار سے محفوظ وہ قلب و دہن رہ جائے گا
کاشفِ بے مایہ کی یہ نعت اگر مقبول ہو
پھر مقام اس کا تو بس باغ عدن رہ جائے گا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

نعت کہہ پایا نہ جو وہ بے سخن رہ جائے گا - دی فری لانسر | دی فری لانسر