قربانی ایک مشروع عبادت ہے۔قرآن وحدیث میں اس کی مشروعیت کے دلائل موجود ہیں۔سورة الكوثر کی آیت 2،
قربانی کے شرعی حکم میں علمائے اسلام کا اختلاف ہے۔بعض اہل علم قربانی کو واجب قرار دیتے ہیں جبکہ جمہور علماء کے نزدیک قربانی سنت موکدہ ہے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے وجوب کے قول کو راجح قرار دیتے ہوئے سنت موکدہ کے دلائل کا تفصیل سے جواب دیا ہے۔جس کے لیے آپ علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ کی کتاب "أحكام الأضحية والذكاة" کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
قربانی اذن ربانی ہے۔قربانی کا مقصد اظہار عبودیت،
ہم میں کا ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی قربانی کو اللہ تعالی قبول فرما لے تاکہ رب کے حضور اس کا مقام ومرتبہ بڑھ جائے،
چنانچہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ قربانی کی قبولیت کے لیے چار شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے،
١) قربانی کا جانور چوپائے جانوروں (بھیڑ بکری بیل اور اونٹ) میں سے ہو۔اگر کوئی شخص جنگلی جانوروں یا پرندوں کو قربانی کے نام پر ذبح کرے تو اس پر قربانی کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔سورة الحج والی آیت میں قربانی کے لیے چوپائے کی قید موجود ہے۔
٢) قربانی کے جانور کا ان عیوب سے پاک ہونا ضروری ہے جن کا ذکر حدیث میں موجود ہے۔
چار طرح کے ایسے عیوب ہیں جن کی موجودگی میں جانور کی قربانی بالکل درست نہیں ہے:
ایسا کانا جانور جس کا کانا پن بالکل ہی عیاں ہو۔
ایسا بیمار جانور جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو۔
ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن بالکل صاف ہو۔
ایسا دبلا اور لاغر جانور جس کے جسم میں گوشت نہ ہو۔
کسی جانور میں ان عیوب سے بڑے عیوب ہوں تو بدرجہ اولی اس جانور کی قربانی نہیں ہوسکتی جیسے کہ کسی جانور کا کوئی پاؤں ہی نہ ہو۔کسی جانور کی ایک آنکھ ہی خراب ہو۔کوئی جانور بیماری کی وجہ سے موت کے دہانے پر ہو۔کسی جانور کے جسم میں ہڈی ہی ہڈی ہو گوشت کا نام ونشان نہ ہو۔
ان عیوب کے علاوہ بھی حدیثوں میں دیگر عیوب کا تذکرہ ہے حالانکہ ان میں سے بعض حدیثوں پر اہل علم نے کلام بھی کیا ہے جیسے کہ جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا نہ ہو۔اس کا کان کسی بھی جانب سے کٹا ہوا نہ ہو۔اس کا دُم کٹا نہ ہو۔یہ عیوب ایسے نہیں ہیں جن کی وجہ سے قربانی صحیح قرار نہ پائے لیکن بچنا ممکن ہو تو ضرور بچنا چاہیے اور قربانی کے لیے تندرست اور صحت مند اور ظاہری عیوب سے پاک صاف جانور کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ اجر وثواب میں کسی طرح کی کمی واقع نہ ہو۔
٣) دانتے ہوئے جانور کی قربانی کی جائے: قربانی کے لیے ایسے جانور کا انتخاب ضروری ہے جو شرعی اعتبار سے اس عمر کو پہنچ چکا ہو،
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم لوگ مسنہ(دانتے) ہوئے جانور کے علاوہ کی قربانی مت کرو"۔(صحیح مسلم) جب چوپائے ایک متعین عمر کو پہنچ جاتے ہیں تو وہ اپنے اگلے دو یا چار پیدائشی دانتوں کو گرا کر نئے دانت اگاتے ہیں۔جب چوپائے کا پرانا دانت گر کر نیا دانت اگ جاتا ہے تو اسے عربی زبان میں مسنہ(دانتا ہوا) کہا جاتا ہے۔
قربانی کے جانور کو پہچاننے کے لیے ماہ وسال کی قید وبند نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ظاہری علامات قرار دیئمے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی ان علامات کو دیکھ کر جان لے کہ یہ جانور قربانی کی عمر کو پہنچا ہے یا نہیں،
٤) قربانی کے جانور کو قربانی کے دنوں میں ذبح کرنا: جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کیا،
قربانی کے گوشت کے استعمال کے بارے میں لوگوں کے الگ الگ نظریات پائے جاتے ہیں۔لیکن اس حوالے سے صحیح بات یہ ہے کہ قربانی کا گوشت بذات خود کھانا کھلانا اور ذخیرہ اندوزی کرنا درست ہے۔لیکن مقدار کی کوئی تحدید موجود نہیں تاہم بعض آثار سے ایک ثلث کھانے ایک ثلث کھلانے اور ایک ثلث اپنے پاس رکھنے کی دلیل ملتی ہے بعض فقہا اور ان کے متبعین کا اس پر عمل بھی رہا ہے۔اس مقدار کے مطابق اگر قربانی کے گوشت کی تقسیم ہوجاتی ہے تو زیادہ بہتر ہے۔اس امر کی وضاحت کے لیے سورة الحج کی آیت 28 کو دیکھا جاسکتا ہے جس میں اللہ تعالی نے قربانی کا گوشت خود کھانے اور بھوکے فقیروں کے کھلانے کا حکم دیا ہے۔افسوس ان حضرات پر جو بذات خود قربانی کا سارا گوشت ہضم کر جاتے ہیں اور فقیروں کو خوشبو بھی لگنے نہیں دیتے۔
جانور چاہے قربانی کا ہو یا یونہی آدمی اپنے کھانے کے لیے ذبح کرے،
خشکی پر رہنے والے حلال جانور کو نحر کرنا،
جانور کے ذبح کے ذریعہ حلال ہونے کے چند شرائط ہیں جن کا پایا جانا ضروری ہے:
١) ذبح کرنے والا ایسا شخص ہو جو ذبح کا قصد کرسکتا ہو؛
٢) ذبح کرنے والا مسلمان یا اہل کتاب ہو۔اس لیے کہ دونوں اللہ کے نام سے جانور کو ذبح کیا کرتے ہیں۔قرآن کریم میں واضح طور پر اہل کتاب کے ذبیحہ کو کھانے کی اجازت دی گئی ہے،
٣) باضابطہ جانور کے ذبح کرنے کا ارادہ ہو،
٤) جانور کو غیر اللہ کے لیے ذبح نہ کیا جائے۔اگر جانور کو کسی بت اور قبر والے کے لیے ذبح کیا جائے تو وہ ذبیحہ حلال نہ ہوگا۔غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے سے اللہ تعالى نے منع فرمایا ہے۔(سورة المائده: 3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جس نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا"۔(صحیح مسلم،
٥) جانور کو غیر اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا جائے۔جیسے اگر کوئی نبی کا نام لے کر،
٦) جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھا جائے۔قرآن وحدیث سے سختی سے ایسے جانور کو کھانے سے منع کیا گیا ہے جس کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو۔(الأنعام: 118/121) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس سے خون نکل جائے اور اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کو کھاؤ"۔(صحیح بخاری،
٧) جانور کو تیز دھار دار چیز سے ذبح کیا جائے جس سے جانور کے جسم سے خون نکلے۔لیکن یہ دھار والی چیز دانت اور ناخن نہ ہو۔دانت ہڈی ہے اور ناخن اہل حبشہ کی چھری ہے۔معلوم ہوا کہ اگر جانور دم گھٹنے سے مرجائے،
جانور کو ذبح کرتے وقت یہ خیال رکھنا چاہیے کہ گردن سے جڑی چار رگیں کٹیں۔'حلق' جس سے جانور سانس لیتا ہے۔'مری' جہاں سے جانور کھاتا پیتا ہے۔'ودجان' گردن کی وہ دونوں رگیں جو حلق اور مری سے منسلک ہوتی ہیں اور غصہ کے وقت پھول جاتی ہیں۔اگر یہ چاروں چیزیں کٹ جائیں تو بہت بہتر ورنہ بیشتر چیزیں کٹ جائیں اور یہ یقین ہوجائے کہ اب جانور زندہ نہیں رہے گا تو بھی ذبیحہ حلال ہوگا۔
٨) جانور کو ذبح کرنے والوں کو شرعی طور پر ذبح کرنے کی اجازت حاصل ہو۔اگر شرعی لحاظ سے ذبح کرنا اس کے لیے جائز نہ ہو تو وہ ذبیحہ حلال نہ ہوگا۔مثلا کوئی شخص حرم میں شکار کرے،
جانور کو ذبح کرنے کے کچھ آداب ہیں جن کا جانور کو ذبح کرتے وقت ضرور خیال رکھنا چاہیے۔قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت بھی ان کا خیال رکھا جانا ضروری ہے:
١۔جانور کو قبلہ رو لٹا کر ذبح کرنا۔
٢. ذبح کرتے وقت جانور کے ساتھ بہتر سلوک کرنا۔
٣۔اونٹ کو کھڑا کرکے اور اس کے بائیں پاؤں کو باندھ کر ذبح کرنا۔
٤۔اونٹ کے علاوہ بقیہ جانوروں کو پہلو پر لٹا کر اور اس کی گردن پر پاؤں رکھ کر ذبح کرنا،
٥۔حلق،
٦۔ذبح کرنے سے قبل چھری کو جانور سے چھپا کر رکھنا۔
٧۔بسم اللہ واللہ اکبر کہہ کر ذبح کرنا۔
٨۔جس کے نام سے قربانی ہورہی ہے اس کا نام لینا۔
٩۔ذبح کے بعد قربانی کی قبولیت کے لیے دعا کرنا۔
اللہ پاک ہم سب کی قربانی کو قبول فرمائے۔






