ہم فقط اجداد کی میراث پر مغرور ہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مصلحت آئین ہے اور خواہشیں دستور ہیں
پھر بھی کہتے ہیں کہ ہم ایمان سے معمور ہیں
وہ علوم و آگہی میں ہیں ترقی یافتہ
ہم فقط اجداد کی میراث پر مغرور ہیں
زندگی وہ جرم ہے جس کی سزا بس موت ہے
چند گھڑیاں کاٹ کر مرنے پہ سب مجبور ہیں
بے حمیّت، فتنہ ساز و سخت گو، شعلہ مزاج
عصرِ حاضر میں جنابِ شیخ یوں مشہور ہیں
فیسبک پر فالتو بحثیں ہیں ان کا مشغلہ
داعیانِ دین اب اس کام پر مامور ہیں
خارجی حملوں سے کیا ڈرنا کہ اب یہ حال ہے
ملّت احمد کے سینے کا ہمی ناسور ہیں
جنت و دوزخ کو ہم تقسیم کرتے رہ گئے
دعوتِ اسلام سے ہم آج بھی کیوں دور ہیں
کچھ ریاکاروں سے دوری ٹھیک ہے کاشف مگر
مخلصوں کی کاوشوں پر دل سے ہم مشکور ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
S
Shafiqur Rahman Abdul Karim Salafi
17 اگست، 2024ماشاءاللہ بہترین غزل اور حکمت سے بھر پور





