جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کون کہتا ہے ترے ساتھ نے رونے نہ دیا

کلام: کاشف شکیل21 اگست، 20241,920قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اک تری یادوں کی بارات نے رونے نہ دیا
کچھ تری ذات تھی جس ذات نے رونے نہ دیا
دل کے ٹکڑے بھی سمیٹے گئے ہنستے ہنستے
قلب کو صبر کی آیات نے رونے نہ دیا
دیکھ کر تجھ کو گنوا بیٹھے تھے ہم ہوش و حواس
سو ترے حسن کی شہ مات نے رونے نہ دیا
سنگ کے سنگ برستا رہا خوں آنکھوں سے
کون کہتا ہے ترے ساتھ نے رونے نہ دیا
دن میں ڈر ہے کہ ترا راز نہ کھل جائے کہیں
مر ہی جائیں گے اگر رات نے رونے نہ دیا
اشک میں ڈوب ہی جانے کا‌ ارادہ تھا مگر
ہم کو مجنوں کی حکایات نے رونے نہ دیا
ہجر تو ایک قیامت تھا مگر کاشف کو
وصل کے لمحوں کی خیرات نے رونے نہ دیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

ج
جنید مدنی
21 اگست، 2024
Mubarak ho
ج
جنید مدنی
21 اگست، 2024
السلام علیکم و رحمۃ اللہ بہت خوب کاشف صاحب نیا انداز مبارک ہو۔ کہاں رونے کا کچھ چانس تھا وہاں سے فری لانسر والوں نے کمال ہوشیاری سے نہ غائب کردیا ہے۔متنبہ رہیں

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کون کہتا ہے ترے ساتھ نے رونے نہ دیا - دی فری لانسر | دی فری لانسر