جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

بنجارے

کلام: کاشف شکیل8 مارچ، 20251,893قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دل کی بازی ہر میداں میں ہارے ہیں
عشق میں خود کے جوتے سر پر مارے ہیں
اس کے ستم نے سینہ چھلنی کر ڈالا
سانسیں ہیں یا خون کے یہ پھوّارے ہیں
روح کی گٹھری جسم پہ بھاری پڑتی ہے
اس پر شاہد بہتے اشک ہمارے ہیں
اس کی پیشانی تو روشن ہے لیکن
قسمت میں مایوسی کے اندھیارے ہیں
جس کی زباں سے ہر پل جھوٹ نکلتا ہے
اس سے سچ کی آس میں کچھ بیچارے ہیں
اس‌‌ کے ہونٹ تو پہلی شب کے چاند سے ہیں
مسکائے تو دانت چمکتے تارے ہیں
وہ محلوں کی آوارہ شہزادی ہے
کاشف ہم فرہاد صفت بنجارے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

بنجارے - دی فری لانسر | دی فری لانسر