حدیث پڑھتا ہوں لگتا ہے روبرو ہیں آپ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
الٰہی تو نے جو صدیق کو عطا کی تھی
مرے وجود میں آقا سے وہ محبت ہو
مجھے حضور جو دیکھیں تو مسکرا کے کہیں
گناہ گار اگرچہ ہو میری امت ہو
جھکیں نہ شرم سے آنکھیں مری بروز حشر
جھکیں تو جھکنے کا باعث مری عقیدت ہو
حدیث پڑھتا ہوں لگتا ہے روبرو ہیں آپ
تصورات میں اے کاش کچھ صداقت ہو
یہ نعت گوئی کچھ اس طرح ہو قبول مری
فرشتے کہہ اٹھیں کاشف! تجھے بشارت ہو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





