جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مقلد بنام غیر مقلد: بڑا گمراہ کون؟

تحریر: دکتور فاروق عبداللہ نراین پوری18 ستمبر، 20261,919قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مقلد بنام غیر مقلد: بڑا گمراہ کون؟
فل اسکرین دیکھیں

سلفیت اور اہل حدیثیت کی سب سے بڑی خوبی جو اسے تمام منحرفین اور اہل بدعت سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کتاب وسنت کے نصوص کو صحابہ کرام اور ان کی اتباع کرنے والوں کے فہم کے مطابق سمجھا جائے،ان نصوص کا کوئی ایسا معنی ومفہوم بیان کرنے سے گریز کیا جائے جو سلف صالحین کے فہم سے ٹکراتا ہو۔

صحابہ کرام جس دین پر قائم تھے اسی دین کی اتباع کو سلفیت واہل حدیثیت کہتے ہیں۔اہل حدیثیت وسلفیت دین اسلام کی وہ صاف ستھری شکل ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو سکھایا تھا۔یہ دین اسلام سے الگ کوئی شئی نہیں۔

اس امت میں جتنے فتنے ظاہر ہوئے ان تمام فتنوں کی اصل جڑ منہج سلف اور فہم سلف سے انحراف ہی ہے۔

نصوص کتاب وسنت کا معنی ومفہوم متعین کرنے کے لیے کون سا منہج اختیار کیا جائے اسی نقطے پر اہل حدیثوں کے ساتھ تمام گمراہ فرقوں کا اختلاف ہے۔

چنانچہ اس باب میں منہج سلف سے انحراف کرتے ہوئے دو بڑی گمراہیاں معرضِ وجود میں آئیں۔

پہلی گمراہی: امت کے بعض علما کی تقلید جامد کی شکل میں ظاہر ہوئی۔

بعض لوگوں نے امت کے بعض کبار علما اور ائمہ کی اندھی تقلید کی ایسی راہ اختیار کی کہ ان کے امام جو کہہ دیں وہی حرف آخر ہو،دو دو چار کی طرح ان کی غلطی واضح ہو جانے کے باوجود ان کے قول کو ترک کرنے یا اس سے ادھر ادھر ہونے کی قطعا کوئی اجازت نہ ہو۔

اور دوسری گمراہی: فکری آوارگی اور علمائے سلف سے بیزاری کی شکل میں ظاہر ہوئی۔

پہلی گمراہی میں جہاں بعض علما کے ساتھ احترام وتقدس میں غلو تھا اس کے بالمقابل دوسری گمراہی میں علما بیزاری اور فکری آوارگی تھی۔دونوں جماعتیں گمراہی کی دو الگ الگ انتہا پر پہنچ گئیں۔

دوسرے فریق نے ترک تقلید میں اس قدر غلو کیا کہ کتاب وسنت کے نصوص کو سمجھنے کے لیے سلف صالحین کے فہم کے ہی سرے سے منکر ہو گئے،اور اپنے ذاتی فہم سے نصوص کا معنی متعین کرنے لگے۔

پہلے گروہ کو مقلدین اور دوسرے گروہ کو غیر مقلدین کہتے ہیں۔

اہل حدیثیت اور سلفیت ان دونوں گمراہیوں سے دور رہنے اور ان کے مابین اعتدال کی راہ پر چلنے کا نام ہے۔

ہمیشہ سے گمراہ جماعتوں کی عادت رہی ہے کہ وہ سلفیوں کو مختلف برے القاب سے پکارتے ہیں تاکہ ان کے متعلق لوگوں کو متنفر کیا جا سکے۔

اسی قبیح عادت کے تحت بر صغیر کے دیوبندی وبریلوی حضرات اہل حدیثوں کو ”وہابی“،”وکٹورین“،”انگریزوں کی اولاد“ کہتے ہیں،اور عرب دنیا کے اخوانی حضرات سلفی علما کو ”علماء الحیض والنفاس“،”علماء السلاطین“،”مداخلہ“،”جامیہ“ وغیرہ برے القاب سے پکارتے ہیں۔مقصد صاف ہے،تاکہ عام لوگوں کو سلفیوں سے متنفر کر سکیں۔

روافض سلفیوں کو ناصبی ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔جہمیہ ومعطلہ سلفیوں کو مشبہہ اور مجسمہ کہتے ہیں۔سب کا مقصد صاف ہے،عام لوگوں کے دلوں میں سلفیوں کے متعلق بغض ونفرت بھر دی جائے،اور وہ ان سے دور ہو جائیں۔

ابو اسحاق بن دِرباس الشافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اہل بدعت کے تمام گروہوں کی یہ عادت ہے کہ اہل سنت کو اپنی جانب سے لقب دے دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ القاب ان کے لیے صحیح ہیں،چنانچہ روافض اہل سنت کو ناصبی کہتے ہیں،قدریہ اہل سنت کو "مُجَبِّرَہ" کہتے ہیں،مرجئہ انھیں "شُکَّاک" کہتے ہیں،جہمیہ انھیں "مُشَبَّہَہ" کہتے ہیں اور اہل کلام انھیں "حَشْوِیَّہ"،"نَوابِت"،"غُثاء" اور "غُثَر" کہتے ہیں۔(الفتوی الحمویہ الکبری،ص: 513-515)

امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اہل الاثر کو برے القاب سے بدنام کرنا اہل بدعت کی علامت ہے۔زنادقہ کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل السنہ کو حشویہ کہتے ہیں،جہمیہ کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل السنہ کو مشبہہ کہتے ہیں،قدریہ کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل السنہ کو مجبرہ کہتے ہیں،مرجئہ کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل السنہ کو نقصانیہ کہتے ہیں،رافضہ کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل السنہ کو ناصبہ کہتے ہیں“۔(شرح أصول اعتقاد أهل السنۃ والجماعۃ: 1/ 201)

اسی سلسلے کی ایک کڑی ”غیر مقلد“ کا لقب ہے،جو مقلدین (دیوبندی وبریلوی حضرات) کی طرف سے طنز وتشنیع کے طور پر اہل حدیثوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اہل حدیثوں نے یہ لقب اپنے لیے اختیار نہیں کیا،اور نہ کبھی اسے اپنے لیے پسند کیا،ہمیشہ اسے کراہت کی نظر سے دیکھتے رہے،اور ”مقلد“ ہونے کو جس طرح ضلالت و گمراہی سمجھتے رہے اسی طرح ”غیر مقلد“ ہونے کو بھی۔

مقلدین کی طرف سے اس کثرت سے ”غیر مقلد“ کا لقب اہل حدیثوں کے لیے استعمال کیا گیا کہ بہت سارے بھولے بھالے سادہ لوح اہل حدیث عوام ”غیر مقلد“ کا مطلب ”اہل حدیث ہونا“ سمجھتے رہے۔حالانکہ اہل حدیثوں پر یہ محض ایک جھوٹا الزام اور ان کے خلاف ایک خطرناک پروپیگنڈہ ہے،حقیقت سے اس کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔

مولانا محمد اسماعیل سلفی گوجرانوالہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس وقت عموماً مخالف حلقوں میں اہل حدیث اور غیر مقلد دو ہم معنی لفظ سمجھے جاتے ہیں اور اہلِ حدیث حضرات بھی اسے گوارا کرتے ہیں،لیکن واقعتاً یہ درست نہیں۔“

اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل حدیث ہونے کے لیے ”تقلید“ سے دور رہنا ضروری ہے،لیکن ساتھ ہی فہم سلف کی اتباع بھی ضروری ہے۔اگر کوئی تقلید سے تو دور رہے لیکن فہم سلف کا متبع نہ ہو تو وہ صرف غیر مقلد ہو سکتا ہے،اہل حدیث نہیں۔اور ”غیر مقلد ہونا“ یعنی علما سے کٹ کر اپنے ذاتی فہم کے پیچھے چلنا یہ تقلید سے بھی خطرناک بیماری ہے۔

مولانا محمد اسماعیل سلفی گوجرانوالہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہر غیر مقلد کو اہل حدیث نہیں کہا جاسکتا،البتہ ہر اہل حدیث کے لیے ضروری ہے کہ جمود اور تقلید سے الگ رہے۔“

جمود اور تقلید ایک خطرناک قسم کی گمراہی ہے۔اور اس گمراہی سے نجات کا راستہ فقط ”اتباع کتاب وسنت بفہم سلف امت“ ہے،نہ کہ علمائے سلف سے بیزاری اور فکری آوارگی۔علما بیزاری اور فکری آوارگی محض ترک تقلید ہے،اور محض ترک تقلید کوئی خوبی نہیں جب تک کہ اس کے ساتھ اتباع کتاب وسنت کا وصف نہ جوڑا جائے۔

یہ اسی طرح ہے جیسے کسی کو غیر بیوقوف،غیر پاگل،غیر چور،غیر قاتل،غیر زانی،غیر شرابی،غیر چغل خور،وغیرہ کہا جائے۔آپ اگر کسی معزز شخص کو اسٹیج پر دعوت دیتے ہوئے ان الفاظ میں ان کا تعارف کرائیں کہ ”اب ہم ایک ایسی شخصیت کو آپ کے سامنے بلانا چاہتے ہیں جو بیوقوف اور پاگل نہیں ہیں،چور بھی نہیں ہیں،قاتل بھی نہیں ہیں،زانی بھی نہیں ہیں،شرابی وکبابی بھی نہیں ہیں“ تو ذرا بتائیں کہ یہ ان کی تعظیم ہے یا توہین؟ ان القاب سے آپ کا مہمان خوش ہوگا یا ناراض؟

ٹھیک اسی طرح کسی کو غیر مقلد کہنا بھی ہے۔یہ تعریف نہیں،درحقیقت طنز وتشنیع کا ایک رمز ہے۔مقلدین حضرات اسی معنی میں اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔وہ اسے ایک گالی ہی سمجھتے ہیں۔صراحت کے ساتھ کہتے بھی ہیں کہ غیر مقلدین علما کو نہیں مانتے،علما اور ائمہ کی توہین کرتے ہیں۔

اس کے باوجود بھی اگر کوئی اہل حدیث عالم دین ”غیر مقلد“ کا دفاع کرے،اسے اہل حدیث کے ساتھ جوڑ کر دیکھے،اس پر رد ہو تو اہل حدیث پر رد سمجھے،یا اسے مقلد ہونے سے بھی بڑی گمراہی کہنے پر تکلیف محسوس کرے تو ایسے حضرات کی سادہ لوحی پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔کاش کہ ہمارے یہ اہل حدیث مشایخ اپنے علما کو پڑھے ہوتے تو یہ اعتراض کرنے کی نوبت نہ آتی۔

اگر کسی کو تعجب ہو رہا ہو کہ ”غیر مقلد ہونا“ ”مقلد ہونے“ سے بڑی گمراہی کیسے ہو سکتا ہے تو اسے چاہیے کہ پہلے ”غیر مقلد ہونے کا مطلب کیا ہے؟“ یہ متعین کرے۔اگر وہ غیر مقلد ہونے کا مطلب اہل حدیث ہونا سمجھ رہا ہے تو یہ بہت بڑی جہالت وضلالت ہے۔قطعا غیر مقلد ہونے کا مطلب اہل حدیث ہونا نہیں ہے۔غیر مقلد ہونے کا مطلب علمائے سلف سے بیزاری اور فکری آوارگی ہے،کتاب وسنت کے نصوص کو اپنے ذاتی فہم سے سمجھنا اور اسے شریعت بنا کر پیش کرنا ہے۔پوری اسلامی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ جنھوں نے یہ راستہ اپنایا انھوں نے کیا کیا گمراہیاں پھیلائیں۔

اسی غیر مقلدیت (فکری آوارگی اور علمائے سلف سے بیزاری) کے راستے پر چلتے ہوئے خوارج نے صحابہ کرام کو کافر قرار دیا اور ان کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے۔اسی راستے پر چلتے ہوئے روافض نے سوائے چند صحابہ کے تمام صحابہ کرام کو کافر قرار دیا۔قدریہ نے اسی راستے پر چلتے ہوئے تقدیر کا انکار کیا۔جبریہ اسی راستے پر چلتے ہوئے شریعت کا مذاق اڑاتے رہے کہ بندہ اللہ کے ارادے کے آگے مجبور محض ہے،چاہے وہ نماز پڑھے یا زنا کرے اس میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔جہمیہ اسی فکری آوارگی کے نتیجے میں قرآن کو مخلوق کہتے رہے۔معتزلہ اسی غیر مقلدیت کے راستے پر چلتے ہوئے عقل کو نقل پر فوقیت دیتے رہے،اور شریعت کے بے شمار مسلَّمات کا انکار کر بیٹھے۔

اب ذرا انصاف سے بتائیں کہ ایک بندہ فقہی مسائل میں امام ابو حنیفہ،امام مالک،امام شافعی،یا امام احمد بن حنبل رحمهم اللہ کا مقلد ہے وہ بڑا گمراہ ہے یا وہ جو فکری آوارگی میں علمائے کرام سے کٹ کر اور غیر مقلد ہو کر خوارج،روافض،مرجئہ،قدریہ،جہمیہ،معتزلہ،اشاعرہ وغیرہ کے راستے پر چل رہا ہے؟

اگر ہمیں صرف ان دونوں گمراہیوں کے درمیان موازنہ کرنا ہو تو یقینا یہ کہنا پڑے گا کہ غیر مقلد ہونا مقلد ہونے سے کہیں بڑی گمراہی ہے۔

شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی گوجرانوالہ رحمہ اللہ اسی فرق کو سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس تقلید سے اتنا تو فائدہ ہوا کہ لوگ علمائے بدعت: معتزلہ،جہمیہ،معطلہ،مشبہہ،مجسمہ،خوارج،اور روافض سے بچ گئے،لیکن آپس میں جس محبت کی ضرورت تھی وہ نہ رہی،اَتباعِ ائمہ آخری اَدوار میں اس طرح الجھ گئے ”کأن لم تکن بینھم مودۃ“۔(تحریک آزادئ فکر اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے تجدیدی کارنامے،ص 185،طبعہ مکتبۃ الفہیم)

ہر انصاف پسند عالم دین وہی بات کہے گا جو مولانا محمد اسماعیل سلفی گوجرانوالہ رحمہ اللہ نے کہی ہے۔اگر مذکورہ دونوں گمراہیوں کا موازنہ کیا جائے تو یقینا غیر مقلد ہونا مقلد ہونے سے بڑی گمراہی ہے۔تقلید سے وہ گمراہیاں پیدا نہ ہوئیں جو فکری آوارگی وعلما بیزاری سے ہوئیں۔

آج بھی بہت سارے غیر مقلدین آپ کو مل جائیں گے جو تقلید کے تو خلاف ہیں لیکن فکری آوارگی اور علما بیزاری کے شکار ہیں،تقلید کے خلاف کھل کر بولتے ہیں لیکن سلف صالحین کے فہم سے کتاب وسنت کے نصوص کو نہیں سمجھتے۔ایسے غیر مقلدین کو اہل حدیث سمجھنے کی غلطی منہج سلف سے غافل کوئی بندہ ہی کر سکتا ہے۔جنھیں منہج سلف کی ذرا سی بھی معرفت ہے وہ ایسے غیر مقلدین کو کبھی بھی اہل حدیث نہیں کہہ سکتے۔

ایک مثال سے اس مسئلہ کو مزید واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

انجینئر محمد علی مرزا تقلید کے خلاف سخت ہے۔تقلید کے خلاف کھل کر بولتا ہے۔تو کیا صرف اس کے غیر مقلد ہونے کی وجہ سے اسے اہل حدیث سمجھ لیا جائے؟

نہیں،اور قطعا نہیں!!!

یہ بندہ غیر مقلد ہے،لیکن سلفی یا اہل حدیث قطعا نہیں،کیونکہ یہ صحابہ کرام پر طعن وتشنیع کرتا ہے۔ابو بکر صدیق،عثمان غنی،معاویہ،ابو سفیان،مغیرہ بن شعبہ،عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم پر خصوصا اور دیگر صحابہ کرام پر عموما طعن وتشنیع کرنا اس کا اہم مشن ہے جس پر وہ دن رات محنت کر رہا ہے۔کیا ایسے گمراہ شخص کو اہل حدیث کہنا ممکن ہے؟

افسوس کی بات یہ ہے کہ صرف تقلید کے خلاف بولنے کی وجہ سے ہمارے بعض مشہور اہل حدیث علما اس گمراہ شخص کی تعریف کرتے ہیں،اس کے خلاف لکھنے اور بولنے والوں کو غلط کہتے ہیں،اور اپنے شاگردوں کے واٹس ایپ پر مسلسل اس گمراہ شخص کی ویڈیو بھیجتے رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کی نظر میں کُل اہل حدیثیت وسلفیت صرف تقلید کے خلاف بولنا ہے۔ظاہر ہے جو بھی منہج سلف سے واقف ہے وہ اس منہج کو قطعا قبول نہیں کر سکتا۔وہ کبھی بھی انجینئر محمد علی مرزا کو کسی خالص مقلد (خالص مقلد سے مراد جس کے اندر تقلید کے علاوہ کوئی اعتقادی گمراہی نہیں پائی جاتی) سے چھوٹا گمراہ نہیں کہہ سکتا۔

یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگوں نے صرف تقلید کے خلاف ہونے کو اہل حدیث ہونا سمجھ لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی کے وہ حضرات جو رفع یدین کرتے ہیں،سینے پر ہاتھ باندھتے ہیں،جہرًا آمین کہتے ہیں بہت سارے اہل حدیث حضرات انھیں بھی اہل حدیث کہتے ہیں۔یہاں تک کہ جماعت اسلامی کے امیر سید جلال الدین عمری کی وفات پر ایک اہل حدیث گروپ میں ہمارے بعض مشایخ نے اہل حدیث کہہ کر ان کا تعارف کرایا۔گویا کہ ان کے نزدیک صرف کسی فقہی مذہب کی تقلید نہ کرنا اہل حدیث ہونے کے لیے کافی ہے۔یہ منہجِ سلف سے عدم واقفیت کی بہت بڑی دلیل ہے کہ ایک ایسی جماعت کا امیر بھی صرف تقلید نہ کرنے کی بنا پر آپ کے نزدیک سلفی اور اہل حدیث بن جاتا ہے جس جماعت کی گمراہیوں کی فہرست بڑی طویل ہے۔

اب چاہوں گا اس موضوع پر شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی گوجرانوالہ رحمہ اللہ کے قلم سے ان کی ایک طویل عبارت نقل کروں جو ان شاء اللہ اس مسئلہ کو دو دو چار کی طرح آشکارا کر دے گی۔

شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی گوجرانوالہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"اس وقت عموماً مخالف حلقوں میں اہلِ حدیث اور غیر مقلد دو ہم معنی لفظ سمجھے جاتے ہیں اور اہلِ حدیث حضرات بھی اسے گوارا کرتے ہیں،لیکن واقعتاً یہ درست نہیں۔

اعتقادی بدعات کے دور میں ایسے لوگ ملتے ہیں کہ وہ حنفی بھی ہیں،معتزلی بھی،شافعی،مالکی؛حتی کہ حنابلہ بھی کلام اور فلسفہ سے متاثر ہونے کے باوجود فروع میں اپنے ائمہ سے وابستہ رہے۔اشعریت،ماتریدیت کا بھی ان فرعی مسائل سے بنیادی فرق تھا،لیکن اس وقت بھی اہلِ حدیث مروج تقلید سے انحراف کے باوجود کلام کی جدید راہوں سے چنداں متاثر نہیں ہوئے،بلکہ یہ لوگ ان جدید اعتقادات اور نئی نئی ایجادی تعبیرات سے برسرِ پیکار رہے۔

عقائد اور فروع میں ان کی راہ قدیم اور جدید تشریحات اور تصریحات سے مختلف رہی۔وہ مثبت طور پر اصول اور فروع میں ائمہ سلف کی روش،ان کے ارشادات اور ان کی تصریحات کے پابند رہے،اور منفی طور پر وہ کسی خاص فرد امام یا مجتہد،اس کی آرا کی جامد اور کلی پابندی نہیں فرماتے تھے،اس لیے ہر غیر مقلد کو اہل حدیث نہیں کہا جا سکتا،البتہ ہر اہلِ حدیث کے لیے ضروری ہے کہ جمود اور تقلید سے الگ رہے۔

ہمارے قریبی دور کے کچھ ایسے افراد اور طبقات ہیں جن کو ترکِ تقلید کے باوجود اہلِ حدیث نہیں کہا جا سکتا،بلکہ اہلِ حدیث نے ان کے خلاف تنقید میں قیادت فرمائی،اس لیے کہ ان کا تعلق ائمہ سلف سے قائم نہ رہ سکا اور فہم میں خیر القرون کے طریقے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے،بلکہ اپنی آرا کو بعض دفعہ ترجیح دیتے تھے۔مثلاً:

1۔سر سید احمد خان (بانیِ جامعہ علی گڑھ) بڑے آزاد خیال تھے۔رفع الیدین اور آمین بالجہر بھی سنا ہے التزام سے کرتے تھے،لیکن مستشرقین اور غیر مسلم مشنریوں اور سماجیوں سے مرعوب تھے۔وہ اسلامی حقائق کی وضاحت میں تقلیدی افکار و نظریات کے پابند تو نہ تھے،لیکن معجزات اور بعض دوسرے مسائل میں ان کی آزادی آوارگی کی حد تک تھی،اس لیے وہ غیر مقلد تو ہوں گے،لیکن وہ اور ان کے ہم خیال ساتھی اہل حدیث نہیں تھے۔

غالباً وہ بھی اس لقب کو پسند نہیں کرتے تھے اور اہلِ حدیث نے بھی ان کو کبھی نہیں اپنایا،بلکہ ''إشاعۃ السنۃ''،''ضیاء السنۃ'' اور اخبار ''اہل حدیث'' میں ان کے خیالات پر مسلسل تنقید ہوتی رہی۔اس سے قبل حضرت مولانا سید محمد صدیق حسن خان رحمہ اللہ نے اپنی متعدد تالیفات (مثلاً: حدیث الغاشیہ،وحجج الکرامہ) میں بھی موصوف کی گم راہیوں اور کج رویوں پر آگاہ کر دیا تھا۔

2۔مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو بریلوی حنفی ظاہر کرتے تھے،لیکن حقیقت میں وہ حنفی بھی نہ تھے،اہل حدیث تو کیا ہوئے،البتہ غیر مقلد ہو سکتے ہیں،کیونکہ وہ نہ فقہ حنفی کے پابند تھے نہ وہ صحابہ اور تابعین،ائمہ سلف کی روش پر چلنا پسند کرتے تھے۔تنقیدِ حدیث کے متعلق وہ ائمہ حدیث کی بجائے اپنی ذات کو معیار سمجھتے ہیں،اس لیے ترکِ تقلید کے باوجود اہلِ حدیث نہیں ہیں۔

3۔مولوی عبداﷲ چکڑالوی سنا ہے پہلے رسمی حنفی تھے،پھر ترکِ تقلید کے ساتھ حدیث کی طرف جھکے،لیکن انھیں جلد ہی معلوم ہوا کہ ان کا مزاج حدیث پر مطمئن نہیں ہو گا۔

سنا ہے طبیعت میں غلو اور تقشف تھا اور ذہین بھی نہیں تھے۔ایسے آدمی کے لیے اہلِ حدیث ہونا ممکن ہی نہ تھا،چنانچہ وہ اور مولوی حشمت علی،مولوی رمضان گوجرانوالہ،رشید احمد وغیرہم،گجرات،ملتان اور ڈیرہ غازی خاں کے منکرینِ حدیث،اور ہمارے ہم عصر غلام احمد پرویز؛یہ حضرات آوارہ مزاجی کے لحاظ سے صرف غیر مقلد ہو سکتے ہیں،بلکہ نفسِ اسلام کی پابندی سے بھی کافی حد تک آزاد ہیں۔اس لیے وہ احادیث اور ائمہ سلف کی پابندی خود ہی پسند نہیں کرتے،بلکہ قرآن کی مرمت اور ترمیم بھی اپنی خواہش سے فرماتے ہیں۔ہم بھی انھیں غیر مقلد سمجھنے کے باوجود اہلِ حدیث نہیں سمجھتے۔انکارِ حدیث کے بعد اہل حدیث ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

4۔ہمارے پرانے ساتھی حکیم عبدالرحیم اشرف صاحب لائل پوری جماعتِ اسلامی سے علیحدگی کے بعد ''اہل حدیث'' سے بھی الگ ہو رہے ہیں اور مروجہ تقلیدی مسالک سے بھی ان کا کچھ نمایاں تعلق معلوم نہیں ہوتا۔وہ آج کل تقریباً ملائے اعلیٰ کے قریب تشریف رکھتے ہیں۔وہ کسی ہائی قسم کے اسلام کی دعوت دیتے ہیں یا دینا چاہتے ہیں جو موجودہ اسلام پسند اور دین پرور جماعتوں میں نظر نہیں آرہا،اس لیے وہ اصل اسلام کے لیے آج کل کافی پریشان ہیں۔ﷲ تعالیٰ ان کی راہنمائی فرمائے۔

ان کے انداز سے معلوم ہوتا ہے وہ اہل حدیث سے کافی چڑے ہوئے ہیں اور اس غریب جماعت سے خاص طور پر آج کل ناراض ہیں،لیکن ہمیں ان سے کوئی بحث نہیں،البتہ خطرہ ضرور ہے،ان کی اس تلقین سے نہ مقلد پیدا ہوں گے نہ اہل حدیث،البتہ غیر مقلد شاید پیدا ہو جائیں۔ہماری دانست میں وہ اب بھی اہل حدیث ہیں،لیکن وہ فرماتے ہیں: ''میں نہیں۔''ہم انھیں مجبور نہیں کرتے،البتہ اتنا عرض کرنا چاہتے ہیں کہ تفریق عنوان سے نہیں ہوتی،معنون سے ہوتی ہے اور یہ تفریق غالباً آپ کی موجودہ دعوت میں بھی موجود ہے۔

5۔ہمارے ایک مخلص اور پرانے رفیق گجرات میں تشریف رکھتے ہیں،وہ اپنے اسم گرامی کے ساتھ ہمیشہ ''اثری'' لکھا کرتے تھے۔توحید و سنت کی حمایت میں بڑی موثر تقریریں فرماتے تھے۔اہلِ حدیث مجالس میں بڑے شوق سے شامل ہوتے تھے۔کچھ عرصے سے انھیں جدت پسندی کا عارضہ ہوا۔

بعض غیر معروف مسائل میں انھوں نے تفرد ظاہر فرمایا۔عوام نے ان پر خاموشی کا اظہار کیا۔اب انھوں نے بعض متواتر اور منصوص مسائل میں جمہور ائمہ اہل حدیث اور اکابر اہلِ سنت کے خلاف راہِ ''اجتہاد'' اختیار فرمائی اور محنت کر کے حضرت مسیح کا باپ تلاش کر لیا۔

احباب نے کئی دفعہ مطالبہ کیا کہ جماعت اس کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرے۔میں سمجھتا ہوں یہ شخصی تفردات کتنے ہی گمراہ کن کیوں نہ ہوں،اس سے کوئی جماعتی مسئلہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ایسے حضرات غیر مقلد تو کہلا سکتے ہیں لیکن اہل حدیث قطعاً نہیں ہو سکتے۔

متعارف اور مسلمہ مسائل سے اگر انحراف کی کبھی ضرورت محسوس ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ کتاب و سنت سے تمسک کیا جائے اور اس کے لیے بھی طریقہ سلف یعنی صحابہ وتابعین و تبع تابعین کا اختیار کیا جائے،جیسا کہ حضرت امام احمد نے اپنے ایک شاگرد کو لکھا تھا:

''أصول السنۃ عندنا التمسک بما کان علیہ أصحاب رسول اﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم،والاقتداء بھم وترک البدع... وترک الجلوس مع أھل الأھواء ... والسنۃ تفسر القرآن،وھي دلائل القرآن... ومن لم یعرف تفسیر الحدیث ویبلغہ عقلہ،فقد کفی ذلک،وأحکم لہ فعلیہ بالإیمان بہ والتسلیم لہ'' (طبقات الحنابلۃ: 1/ 241)

شاہ ولی ﷲ نے اس جماعت کا تعارف ان لفظوں سے دیا ہے:

''ھم الآخذون في العقیدۃ والعمل جمیعا بما ظھر من الکتاب والسنۃ،وجری علیہ جمھور الصحابۃ والتابعین.'' الخ

ہر آدمی جو چاہے اس کا نام ''تحقیق'' رکھ لے تو ساری دنیا کے اہلِ بدعت اور ملاحدہ اربابِ تحقیق قرار پائیں گے۔

اپنے رفقاء اور مخالفین؛دونوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ترکِ تقلید دوسری چیز ہے اور اہلِ حدیث دوسری چیز،انھیں مرادف اور ہم معنی نہیں سمجھنا چاہیے"۔انتہی کلامہ

(تحریک آزادی فکر از شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ،ص: 186-189 طبعہ مکتبۃ الفہیم)

شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی مذکورہ عبارت سے غیر مقلد ہونے کی گمراہی کتنی عظیم گمراہی ہے روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے۔

بر صغیر کے مقلدین کو دیکھ کر بعض حضرات کو تعجب ہو سکتا ہے کہ کوئی ان سے بھی بڑا گمراہ کیسے ہو سکتا ہے۔تو جان لینا چاہیے کہ بر صغیر کے مقلدین کی گمراہی فتنۂ تقلید تک محصور نہیں ہے۔یہاں کے مقلدین صرف فقہی مسائل میں مقلد ہیں،اور بس۔جہاں تک اعتقادی ومنہجی مسائل کی بات ہے تو ان مسائل میں ان کے یہاں بھی فکری آوارگی اور علمائے سلف سے بیزاری کی انتہا ہے۔یہ صرف فروعات فقہیه میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مقلد ہیں،لیکن اعتقادی مسائل میں اشاعرہ،ماتریدیہ،صوفیا اور روافض کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ان کے یہاں اگر حلول واتحاد،تاویلِ صفاتِ باری تعالی،قبر پرستی وغیرہ کی بیماریاں ہمیں نظر آتی ہیں تو اس کا سبب تقلید نہیں فکری آوارگی اور علمائے سلف سے بیزاری ہے۔یہ اپنے آپ کو مقلد تو کہتے ہیں لیکن عید میلاد النبی اور محرم کے تعزیہ کے جواز کے لیے ایسے ایسے دلائل پیش کرتے ہیں جو متقدمین علمائے احناف کے وہم وگمان میں بھی نہیں آیا ہوگا۔اس موقع پر ان کے یہاں مذہب حنفی کی تقلید کا نام ونشان تک نظر نہیں آتا۔یہاں وہ خالص غیر مقلد بن جاتے ہیں۔اگر وہ مذہب حنفی کے فُل مقلد ہوتے تو کم از کم ان بدعتوں سے بچ جاتے۔لیکن افسوس کہ انھوں نے فقہی ابواب میں تقلید کی برائی اور اعتقادی ابواب میں غیر مقلدیت کی بیماری دونوں کو جمع کر لیا اور گمراہی کی انتہا پر پہنچ گئے۔

اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کے منہج کی اتباع کی توفیق عطا فرمائی جس سے ہم تقلید اور غیر مقلدیت دونوں فتنوں سے محفوظ رہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مقلد بنام غیر مقلد: بڑا گمراہ کون؟ - دی فری لانسر | دی فری لانسر