اسلامی تاریخ میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو وہ منفرد اور امتیازی مقام حاصل ہے جو کسی دوسری جماعت کو نصیب نہیں ہوا۔یہ وہ مقدس نفوس ہیں جنھیں خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی صحبت،تربیت اور رہنمائی کا شرف حاصل ہوا۔ان کی زندگی ایمان،اخلاص،ایثار،وفاداری اور عملی استقامت کا ایسا روشن نمونہ ہے جس نے انسانی تاریخ کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا۔دعوتِ اسلام کے ابتدائی اور نہایت کٹھن مراحل میں انھوں نے جس عزم،صبر اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا،وہ تاریخ کے سنہری اوراق میں محفوظ ہیں۔
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے محض اسلام کو قبول ہی نہیں کیا بلکہ اپنے جان و مال،اہل و عیال اور ہر قسم کے دنیوی مفادات کو دینِ اسلام کی سربلندی پر قربان کر دیا۔ہجرت،غزوات،تبلیغ،تعلیم اور اعلاء کلمۃ اللہ کے ہر مشکل ترین مرحلے میں ان کی بے مثال قربانیاں اور غیر متزلزل وفاداری قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔انھی کی انتھک جدوجہد،علمی امانت اور عملی دیانت کے نتیجے میں قرآنِ کریم،سنتِ نبوی اور اسلامی تعلیمات بعد کی نسلوں تک محفوظ انداز میں منتقل ہوئیں۔
اسلامی عقیدے میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا احترام بنیادی حیثیت رکھتا ہے،کیونکہ وہ دینِ اسلام کے اولین حامل،رسول اکرمﷺ کے براہِ راست تربیت یافتہ شاگرد اور امتِ مسلمہ کے لیے بہترین عملی نمونہ ہیں۔ان کی سیرت میں ایمان،تقویٰ،عدل،شجاعت،صبر،اخوت،ایثار اور حسنِ اخلاق جیسی اعلیٰ صفات بدرجۂ اتم موجود ہیں،جو ہر دور کے مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی علوم میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات کا مطالعہ صرف تاریخی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ دینی،اخلاقی،علمی اور فکری اعتبار سے بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔
زیرِ نظر مضمون میں کتاب و سنت اور اقوالِ سلف کی روشنی میں اختصار کے ساتھ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل و مناقب کو حیطۂ تحریر میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
فضائل صحابہ سے متعلق تین قرآنی آیات:
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺ کی صحبت اور معیت کا شرف عطا فرما کر انھیں ایسی عظیم صفات سے نوازا جو ان کے بلند مقام کی دلیل ہیں۔ان کے دل ایمان و اخلاص سے معمور تھے،وہ دین کے دشمنوں کے مقابلے میں مضبوط اور اہلِ ایمان کے لیے سراپا رحمت و محبت تھے۔ان کی زندگیاں عبادت،خشوع،تقویٰ اور رضائے الٰہی کی جستجو سے عبارت تھیں۔اللہ تعالیٰ نے سابقہ آسمانی کتابوں میں بھی ان کی صفات اور مثال کا ذکر فرمایا۔قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ان کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کیا،جو ان کے فضل و شرف کی واضح دلیل ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا﴾
محمد اللہ کے رسول ہیں،اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں۔تو انھیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں،اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں۔ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے۔ان کی یہی مثال تورات میں ہے،اور ان کی مثال انجیل میں ہے،مثل اس کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا،پھر وہ موٹا ہو گیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہو گیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے،جو کاشت کاروں کو خوش کرتی ہے،ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔(الفتح: 29)
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں مہاجرین و انصار کو خصوصی مقام حاصل ہے۔مہاجرین نے دینِ اسلام کی خاطر اپنے گھروں،مال و اسباب اور وطن کو چھوڑ کر عظیم قربانیاں پیش کیں،جبکہ انصار نے رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین کی نصرت و مدد کر کے ایثار،محبت اور اخوت کی بے مثال تاریخ رقم کی۔اللہ تعالیٰ نے ان اولین اہلِ ایمان کی خدمات اور اخلاص کو شرفِ قبولیت عطا فرمایا اور ان کے لیے اپنی رضا اور دائمی کامیابی کا اعلان فرمایا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾
اور مہاجرین و انصار میں سے سبقت لے جانے والے پہلے لوگ اور وہ لوگ جنھوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی،اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے،اور اللہ نے ان کے لیے ایسی جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں،وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔یہی بڑی کامیابی ہے۔(التوبۃ: 100)
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أخبَرَ اللهُ العَظيمُ أنَّه قَد رَضِيَ عنِ السَّابِقينَ الأوَّلينَ مِنَ المُهاجِرينَ والأنصارِ والَّذينَ اتَّبَعوهم بإحسانٍ: فيا وَيلَ مَن أبغَضَهُم أو سَبَّهم أو أبغَضَ أو سَبَّ بَعضَهُم!
اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ مہاجرین و انصار میں سے سبقت لے جانے والے اولین لوگوں اور ان کی نیک طریقے سے پیروی کرنے والوں سے راضی ہو گیا ہے۔پس اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جو ان سے بغض رکھے،انھیں برا بھلا کہے،یا ان میں سے کسی ایک سے بغض رکھے یا زبان طعن و تشنیع دراز کرے۔(تفسير ابن كثير: 4/ 203)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ عظیم شرف حاصل تھا کہ وہ براہِ راست رسول اللہ ﷺ کی صحبت،تربیت اور رہنمائی سے فیض یاب ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا فرمائی اور انھیں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و تعظیم کا مقام عطا کیا۔ان کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ وہ اپنی خواہشات پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو مقدم رکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ﴾
اور جان لو کہ تمھارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں،اگر وہ بہت سے معاملات میں تمھاری بات مان لیں تو تم خود مشقت میں پڑ جاؤ،لیکن اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کر دیا،اور تمھارے لیے کفر،فسق اور نافرمانی کو ناپسندیدہ بنا دیا۔یہی لوگ راہِ راست پر چلنے والے ہیں۔(الحجرات:7)
علامہ رحمت الله ہندی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
الصَّحابةُ كانوا مُحِبِّي الإيمانِ كارِهي الكُفرِ والفِسْقِ والعِصيانِ،وكانوا راشِدينَ،فاعتِقادُ ضِدِّ هَذِه الأشياءِ في حَقِّهِم خَطَأٌ
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایمان سے محبت کرنے والے،کفر،فسق اور نافرمانی سے نفرت رکھنے والے تھے،اور وہ ہدایت یافتہ اور راہِ راست پر قائم تھے۔لہٰذا ان کے بارے میں ان صفات کے خلاف کوئی عقیدہ رکھنا غلط ہے۔(إظهار الحق: 3/ 935)
فضائل صحابہ سے متعلق تین حدیثیں:
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صَلَّينا المَغرِبَ مع رَسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم،ثُمَّ قُلنا: لو جَلَسنا حتَّى نُصَلِّيَ معهُ العِشاءَ،قال: فجَلَسنا،"فخَرَجَ علينا،فقال: ما زِلتُم هاهنا؟ قُلنا: يا رَسولَ اللهِ،صَلَّينا معكَ المَغرِبَ،ثُمَّ قُلنا: نَجلِسُ حتَّى نُصَلِّيَ معكَ العِشاءَ،قال: أحسَنتُم-أو أصَبتُم-قال: فرَفَعَ رَأسَه إلى ڈر ذ السَّماءِ،وكانَ كَثيرًا ممَّا يَرفَعُ رَأسَه إلى السَّماءِ،فقال: النُّجومُ أمَنةٌ للسَّماءِ،فإذا ذَهَبَتِ النُّجومُ أتى السَّماءَ ما توعَدُ،وأنا أمَنةٌ لأصحابي،فإذا ذَهَبتُ أتى أصحابي ما يوعَدونَ،وأصحابي أمَنةٌ لأُمَّتي،فإذا ذَهَبَ أصحابي أتى أُمَّتي ما يوعَدونَ.
ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی،پھر ہم نے کہا: اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ آپ کے ساتھ عشا کی نماز پڑھیں ( تو بہتر ہو گا) کہا: تو ہم بیٹھے رہے،پھر آپ ﷺ باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا:’’ تم اب تک یہیں بیٹھے رہے ہو؟‘‘ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی،پھر ہم نے سوچا کہ ہم یہیں بیٹھے رہتے ہیں حتی کہ آپ کے ساتھ عشا کی نماز پڑھ لیں،آپ نے فرمایا:’’ تم نے اچھا کیا،یا ( فرمایا: ) تم نے صحیح کیا۔‘‘پھر آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور آپ اکثر آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے،آپ نے فرمایا:’’ ستارے آسمان کے لیے امان ( اور سلامتی کی ضمانت ) ہیں اور جب ستارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان پر ( پھٹنے اور ٹکڑے ہونے کا ) وہ مرحلہ آ جائے جس کی اسے خبر کر دی گئی ہے۔اور میں اپنے صحابہ کے لیے امان ہوں۔جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر وہ ( فتنے ) آ جائیں گے جن سے ان کو ڈرایا گیا ہے اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں۔جب وہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ ( فتنے ) آ جائیں گے جن سے اس کو ڈرایا گیا ہے۔( مسلم: 2531)
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مَعنى الحَديثِ أنَّ النُّجومَ ما دامَت باقيةً فالسَّماءُ باقيةٌ،فإذا انكَدَرَتِ النُّجومُ وتَناثَرَت في القيامةِ وهَنَتِ السَّماءُ فانفَطَرَت وانشَقَّت وذَهَبَت،وقَولُهُ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: ((وأنا أَمَنةٌ لِأصحابي فإذا ذَهَبْتُ أتى أصحابي ما يُوعَدونَ)) أي: مِنَ الفِتَنِ والحُروبِ وارتِدادِ مَنِ ارتَدَّ مِنَ الأعرابِ واختِلافِ القُلوبِ ونَحوِ ذلك مِمَّا أَنذَرَ به صَريحًا،وقَد وقَعَ كُلُّ ذلك. قَولُهُ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: ((وأصحابي أَمَنةٌ لِأمَّتي،فإذا ذَهَبَ أصحابي أتى أمَّتِي ما يُوعَدونَ)) مَعناهُ من ظُهورِ البِدَعِ والحَوادِثِ في الدِّين والفِتَنِ فيه،وطُلوعِ قَرنِ الشَّيطانِ،وظُهورِ الرُّومِ وغَيرِهِم عليهِم،وانتِهاكِ المَدينةِ ومَكةَ،وغَيرِ ذلك،وهَذِه كُلُّها من مُعجِزاتِه صلَّى اللهُ عليه وسلَّم
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ستارے باقی ہیں،آسمان بھی قائم ہے۔پھر جب قیامت کے دن ستارے بے نور ہو کر بکھر جائیں گے تو آسمان بھی کمزور ہو کر پھٹ جائے گا،شق ہو جائے گا اور اس کی موجودہ ہیئت ختم ہو جائے گی۔
اور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان: 'میں اپنے صحابہ کے لیے باعثِ امان ہوں،پس جب میں دنیا سے چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ چیزیں آ جائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے'،کا مطلب یہ ہے کہ ان پر وہ فتنے،جنگیں،بعض بدویوں کا مرتد ہو جانا،دلوں میں اختلاف پیدا ہونا اور اس طرح کے دوسرے حالات پیش آئیں گے جن کی نبی ﷺ نے واضح طور پر خبر دی تھی۔چنانچہ یہ سب واقعات پیش آئے۔اور آپ ﷺ کے اس فرمان: 'اور میرے صحابہ میری امت کے لیے باعثِ امان ہیں،پھر جب میرے صحابہ دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو میری امت پر وہ چیزیں آ جائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے'،کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد دین میں بدعات اور نئے نئے فتنے ظاہر ہوں گے،دینی خرابیاں پیدا ہوں گی،شیطان کے اثرات اور اس کے لشکر مضبوط ہوں گے،رومیوں اور دیگر دشمنوں کا غلبہ ہوگا،مدینہ اور مکہ کی حرمت پامال کی جائے گی،اور اس کے علاوہ بھی بہت سے فتنے رونما ہوں گے۔یہ تمام امور نبی اکرم ﷺ کی نبوت کی سچی نشانیاں اور آپ ﷺ کے معجزات میں سے ہیں،کیونکہ آپ ﷺ نے پہلے ہی ان کی خبر دے دی تھی۔(شرح مسلم: 16/ 83)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
يَأتي زَمانٌ يَغزو فِئامٌ مِنَ النَّاسِ،فيُقالُ: فيكُم مَن صَحِبَ النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم؟ فيُقالُ: نَعَم،فيُفتَحُ عليه،ثُمَّ يَأتي زَمانٌ،فيُقالُ: فيكُم مَن صَحِبَ أصحابَ النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم؟ فيُقالُ: نَعَم،فيُفتَحُ،ثُمَّ يَأتي زَمانٌ فيُقالُ: فيكُم مَن صَحِبَ صاحِبَ أصحابِ النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم؟ فيُقالُ: نَعَم،فيُفتَحُ.
ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کا ایک لشکر جہاد کے لیے نکلے گا۔ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جسے رسول اللہ ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں۔چنانچہ ان کی برکت سے انھیں فتح عطا کر دی جائے گی۔پھر ایک اور زمانہ آئے گا،تو پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی صحبت پائی ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں۔تب بھی انھیں فتح نصیب ہوگی۔پھر ایک اور زمانہ آئے گا،تو پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے صحابۂ کرام کے شاگرد (تابعین) کی صحبت پائی ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں۔چنانچہ ان کے سبب بھی انھیں فتح عطا کر دی جائے گی۔( صحیح البخاری:2897)
ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يُفتَحُ لهم لِفَضلِهِم،ثُمَّ يُفتَحُ لِلتَّابِعينَ لِفَضلِهِم،ثُمَّ يُفتَحُ لِتابِعيهِم لِفَضلِهِم،وأوجَبَ الفَضلَ لِثَلاثةِ القُرونِ،ولَم يَذكُرِ الرَّابِعَ،ولَم يَذكُرْ فَضلًا،فالنَّصرُ فيهِم أقَلُّ
صحابۂ کرام کی موجودگی کی برکت اور ان کی فضیلت کی وجہ سے مسلمانوں کو فتح عطا کی جاتی تھی،پھر تابعین کی فضیلت کی بنا پر فتح نصیب ہوتی تھی،اور پھر تبع تابعین کی فضیلت کے سبب فتح حاصل ہوتی تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ فضیلت خاص طور پر ابتدائی تین زمانوں (تین بہترین نسلوں) کے لیے ثابت ہے۔چوتھی نسل کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی ایسی فضیلت بیان کی گئی،اس لیے ان کے دور میں اللہ کی نصرت و فتح پہلے کی نسبت کم ہوگی۔(شرح صحيح البخاري: 5/ 91)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا:
أيُّ النَّاسِ خَيرٌ؟ قال: ((قَرْني،ثُمَّ الَّذينَ يَلُونَهم،ثُمَّ الَّذينَ يَلُونَهم،ثُمَّ يَجيءُ قَومٌ تَبدُرُ شَهادةُ أحَدِهِم يَمينَهُ،وتَبْدُرُ يَمينُهُ شَهادَتَه
لوگوں میں سب سے بہتر کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر میرے زمانے کے لوگ (یعنی صحابۂ کرام) ہیں،پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے (تابعین)،پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے (تبع تابعین)۔اس کے بعد ایسے لوگ آئیں گے کہ ان میں سے کسی کی گواہی اس کی قسم سے پہلے آ جائے گی،اور کسی کی قسم اس کی گواہی سے پہلے۔(مسلم: 2533)
علامہ ابو العباس قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يَعني: أنَّ هَذِه القُرونَ الثَّلاثةَ أفضَلُ مِمَّا بَعدَها إلى يَومِ القيامةِ،وهَذِه القُرونُ في أنفُسِها مُتَفاضِلةٌ،فأفضَلُها: الأوَّلُ،ثُمَّ الَّذي بَعدَهُ،ثُمَّ الَّذي بَعدَهُ. هَذا ظاهِرُ الحَديثِ. فأمَّا أفضَليَّةُ الصَّحابةِ،وهمُ القَرنُ الأوَّلُ عَلى مَن بَعدَهم،فلا تَخفى... وأمَّا أفضَليَّةُ مَن بَعدَهم بَعضِهم عَلى بَعضٍ،فبِحَسَبِ قُربِهِم مِنَ القَرنِ الأوَّلِ،وبِحَسَبِ ما ظَهَرَ عَلى أيديهِم من إعلاءِ كلِمةِ الدِّين،ونَشْرِ العِلمِ،وفَتحِ الأمصارِ،وإخمادِ كَلِمةِ الكُفرِ،ولا خَفاءَ أنَّ الَّذي كانَ من ذلك في قَرنِ التَّابِعين كانَ أكثَرَ وأغلَبَ مِمَّا كانَ في أتباعِهِم،وكَذلك الأمرُ في الَّذينَ بَعدَهم،ثُمَّ بَعدَ هَذا غَلَبَتِ الشُّرورُ،وارتُكِبَتِ الأمورُ
یعنی اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ تینوں ابتدائی زمانے (صحابہ،تابعین اور تبع تابعین) قیامت تک آنے والی تمام نسلوں سے افضل ہیں۔البتہ ان تینوں زمانوں کے درمیان بھی فضیلت کے درجات ہیں؛سب سے افضل پہلا زمانہ،یعنی صحابۂ کرام کا ہے،پھر تابعین کا،اور پھر تبع تابعین کا۔یہی حدیث کا ظاہر مفہوم ہے۔جہاں تک صحابۂ کرام،یعنی پہلی نسل،کی بعد والوں پر فضیلت کا تعلق ہے،تو وہ بالکل واضح اور مسلم ہے۔البتہ تابعین اور تبع تابعین کی آپس کی فضیلت کا معیار یہ ہے کہ وہ پہلی نسل (صحابۂ کرام) سے جتنا زیادہ قریب ہوں،اور ان کے ہاتھوں دین کی سربلندی،علم کی اشاعت،شہروں کی فتوحات اور کفر کی طاقت کے خاتمے کا کام جتنا زیادہ انجام پایا ہو،اتنی ہی ان کی فضیلت زیادہ ہوگی۔(المفهم:6/ 486)
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ خدمات تابعین کے دور میں تبع تابعین کے دور کی نسبت زیادہ نمایاں اور وسیع پیمانے پر انجام پائیں،اور اسی طرح تبع تابعین کا دور بھی اپنے بعد آنے والوں سے بہتر تھا۔پھر اس کے بعد برائیاں غالب آنا شروع ہو گئیں اور لوگوں میں طرح طرح کی خرابیاں اور ناپسندیدہ امور پھیل گئے۔
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الِاعتِبارُ بالقُرونِ الثَّلاثةِ بجُمهورِ أهلِ القَرنِ،وهم وسَطُهُ،وجُمهورُ الصَّحابةِ انقَرَضوا بانقِراضِ خِلافةِ الخُلَفاءِ الأربَعةِ،حَتَّى إنَّهُ لم يَكُنْ بَقي من أهلِ بَدرٍ إلَّا نَفرٌ قَليلٌ،وجُمهورُ التَّابِعين بإحسانٍ انقَرَضوا في أواخِرِ عَصرِ أصاغِرِ الصَّحابةِ في إمارةِ ابنِ الزُّبيرِ وعَبدِ المِلكِ،وجُمهورُ تابِعِي التَّابِعينَ في أواخِرِ الدَّولةِ الأُمَويَّةِ وأوائِلِ الدَّولةِ العَبَّاسيَّةِ
ابتدائی تین بہترین زمانوں کا اعتبار ان زمانوں کے غالب اور اکثریتی اہلِ خیر کے لحاظ سے ہے،کیونکہ یہی ان زمانوں کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں۔صحابۂ کرام کی اکثریت خلفائے راشدین کے دورِ خلافت کے اختتام تک دنیا سے رخصت ہو چکی تھی،یہاں تک کہ اہلِ بدر میں سے بھی صرف چند افراد باقی رہ گئے تھے۔اسی طرح تابعین کی اکثریت،جو احسان کے ساتھ ان کے نقشِ قدم پر چلنے والی تھی،صغارِ صحابہ کے آخری دور،یعنی حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ اور عبدالملک بن مروان کی حکومت کے زمانے میں وفات پا چکی تھی۔اور تبع تابعین کی اکثریت بھی بنو امیہ کی حکومت کے آخری دور اور بنو عباس کی حکومت کے ابتدائی زمانے تک دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔(مجموع الفتاوی:10/357)
فضائل صحابہ سے متعلق تین اقوال سلف:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
إنَّ اللهَ نظَرَ في قلوبِ العِبادِ؛فوجَدَ قلبَ محمَّدٍ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ خيرَ قلوبِ العِبادِ،فاصطَفاه لنفْسِه،فابْتعَثَه برِسالتِه،ثُمَّ نظَرَ في قلوبِ العِبادِ بعدَ قلبِ محمَّدٍ؛فوجَدَ قلوبَ أصحابِه خيرَ قلوبِ العِبادِ،فجعَلَهم وُزَراءَ نبيِّه،يُقاتِلونَ على دينِه،فما رَأى المُسلمونَ حَسنًا؛فهو عندَ اللهِ حَسنٌ،وما رأَوا سيِّئًا؛فهو عندَ اللهِ سيِّئٌ(أخرجه أحمد: 3600،حسَّن إسناده شعيب الأرناؤوط)
بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی تو حضرت محمد ﷺ کا دل تمام بندوں کے دلوں میں سب سے بہتر پایا،چنانچہ اللہ نے آپ ﷺ کو اپنی رسالت کے لیے منتخب فرما لیا۔پھر آپ ﷺ کے دل کے بعد دوبارہ بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی تو آپ کے صحابہ کے دل تمام بندوں کے دلوں میں سب سے بہتر پائے،اس لیے انھیں اپنے نبی ﷺ کا رفیق و مددگار بنایا،جو اس کے دین کی خاطر جہاد کرتے رہے۔لہٰذا جس چیز کو مسلمان (یعنی صحابۂ کرام) اچھا سمجھیں،وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے،اور جس چیز کو وہ برا سمجھیں،وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قَد أثنى اللهُ تبارك وتعالى عَلى أصحابِ رَسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم في القُرآنِ والتَّوراةِ والإنجيلِ،وسَبَقَ لهم عَلى لِسانِ رَسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم مِنَ الفَضلِ ما ليسَ لِأحَدٍ بَعدَهم،فرَحمَهمُ اللهُ وهَنَّاهم بما آتاهُم من ذلك ببُلوغِ أعلى مَنازِلِ الصِّدِّيقينَ والشُّهَداءِ والصَّالِحين؛هم أدَّوا إلَينا سُنَنَ رَسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم،وشاهَدوهُ والوَحيُ يَنزِلُ عليه،فعَلِموا ما أرادَ رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم عامًّا وخاصًّا،وعَزمًا وإرشادًا،وعَرَفوا من سُنَّتِه ما عَرَفْنا وجَهِلْنا
اللہ تعالیٰ نے قرآن،تورات اور انجیل میں رسول اللہ ﷺ کے صحابۂ کرام کی تعریف و توصیف فرمائی ہے،اور رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے بھی ان کے ایسے فضائل بیان ہوئے ہیں جو ان کے بعد کسی اور کو حاصل نہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور انھیں ان عظیم نعمتوں پر مبارک باد دے جن کی بدولت وہ صدیقین،شہدا اور صالحین کے بلند ترین درجات پر فائز ہوئے۔انھی صحابۂ کرام نے رسول اللہ ﷺ کی سنت ہم تک پہنچائی۔انھوں نے آپ ﷺ کو اس حال میں دیکھا جب آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی،اس لیے وہ آپ ﷺ کے ارشادات کا عمومی اور خصوصی مفہوم،قطعی حکم اور محض رہنمائی کے طور پر دی گئی ہدایات،سب کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔نیز وہ آپ ﷺ کی سنت کے ایسے پہلوؤں سے بھی واقف تھے جن میں سے کچھ ہمیں معلوم ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن سے ہم ناواقف ہیں۔(مناقب الشافعي للبيهقي:1/442)
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنت کی حفاظت اور اس کی روایت و اشاعت کے بارے میں فرماتے ہیں:
صَحابَتُهُ الحَواريُّونَ الَّذينَ وعَوها وأدَّوْها ناصِحينَ مُحْسِنينَ،حَتَّى كَمَلَ بما نَقَلوهُ الدِّينُ،وثَبتَت بهِم حُجَّةُ اللهِ تعالى عَلى المُسْلِمينَ،فهم خَيرُ القُرونِ،وخَيرُ أمَّةٍ أُخرِجَت لِلنَّاسِ،ثبتت عَدَالةُ جَميعِهِم بثَناءِ اللهِ عَزَّ وجَلَّ عليهِم وثَناءِ رَسولِه عليه السَّلامُ،ولا أعدَلَ مِمَّنِ ارتَضاه اللهُ لِصُحبةِ نَبيِّه ونُصرَتِهِ،ولا تَزكيةَ أفضَلُ من ذلك،ولا تَعديلَ أكمَلُ منه
رسول اللہ ﷺ کے صحابہ وہ مخلص رفقا تھے جنھوں نے آپ ﷺ کی سنت کو پوری طرح سمجھا،اسے محفوظ رکھا اور خیرخواہی اور امانت کے ساتھ آگے پہنچایا۔انھی کے ذریعے دین اپنی تکمیل کو پہنچا اور مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی۔یہی لوگ تمام زمانوں میں سب سے بہترین نسل ہیں اور وہی بہترین امت ہیں جو لوگوں کی ہدایت کے لیے پیدا کی گئی۔اللہ تعالیٰ کی ان پر تعریف و توصیف اور اس کے رسول ﷺ کی گواہی کی بنا پر تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت (ثقاہت اور دیانت) قطعی طور پر ثابت ہے۔اس شخص سے بڑھ کر عادل کون ہو سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی صحبت اور ان کی نصرت کے لیے منتخب فرمایا ہو؟ اور اس سے بڑھ کر کوئی تزکیہ،کوئی تعریف اور کوئی معتبر سندِ عدالت نہیں ہو سکتی۔"(الاستيعاب:1/ 1)
مذکورہ بالا سطور میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل ومناقب سے متعلق چند قرآنی آیات،احادیث نبویہ اور اقوال سلف بطور مشتے نمونہ ازخروارے ضبطِ کتابت میں لائے گئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پورا قرآن اور ذخیرۂ احادیث ان کی تعریف وتوصیف اور مدح وستائش سے مملو ہیں۔صحابۂ کرام وہ برگزیدہ اور پاکیزہ شخصیات ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت محمدﷺ کی صحبت،تربیت اور نصرت کے لیے منتخب فرمایا۔قرآنِ مجید نے ان کے ایمان،اخلاص،تقویٰ،ایثار،جہاد اور رضائے الٰہی کے حصول کی گواہی دی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے متعدداحادیث میں ان کے مقام و مرتبہ،فضیلت اور امت میں ان کی منفرد حیثیت کو واضح فرمایا ہے۔ائمۂ سلف اور محدثین نے بھی اس حقیقت پر اتفاق کیا ہے کہ صحابۂ کرام امتِ مسلمہ کی بہترین نسل ہیں اور ان کے بعد آنے والوں کے لیے ہدایت،علم اور عمل کا سب سے روشن نمونہ ہیں۔"
صحابۂ کرام کی فضیلت بیان کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کو معیارِ ہدایت قرار دیتے ہوئے فرمایا:
﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا﴾
یعنی اگر وہ اسی طرح ایمان لے آئیں جیسے تم (صحابۂ کرام) ایمان لائے ہو تو یقیناً ہدایت پا جائیں گے۔(البقرة: 137)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام کا ایمان،ان کا فہمِ دین اور ان کا طرزِ عمل قیامت تک آنے والی امت کے لیے معیار اور نمونۂ ہدایت ہے۔اس لیے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عقیدہ،عبادت،اخلاق اور معاملات میں ان کے نقشِ قدم کی پیروی کرے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام کے ادب و احترام کی خصوصی تاکید کرتے ہوئے فرمایا:
«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي،فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ،لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا،مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ،وَلَا نَصِيفَهُ»
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو وہ میرے کسی صحابی کے ایک مُدّ بلکہ آدھے مُدّ کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔(صحیح البخاری: 3673،صحیح مسلم: 2540)
یہ حدیث اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ صحابۂ کرام کا مقام و مرتبہ ایسا بلند ہے کہ بعد میں آنے والا کوئی بھی شخص اپنی پوری زندگی کی عبادت،زہد و تقویٰ اور مالی قربانی کے ذریعے ان کی گردِ پا کو بھی نہیں پہنچ سکتا،کیونکہ انھیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت،وحی کے نزول کا مشاہدہ اور دین کی ابتدائی خدمت کا وہ شرف حاصل ہے جو کسی اور کو نصیب نہیں۔
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے قلبی محبت رکھے،ان کا ادب و احترام کرے،ان کے بارے میں حسنِ ظن قائم رکھے،ان کی سیرت و کردار کا مطالعہ کرے اور اپنے عقیدے،عبادات،اخلاق اور معاملات میں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرے۔یہی وہ مقدس جماعت ہے جس نے اپنی بے مثال قربانیوں،علمی امانت اور عملی دیانت کے ذریعے قرآنِ کریم،سنتِ نبوی ﷺ اور دینِ اسلام کو محفوظ صورت میں امت تک پہنچایا۔ان کی محبت ایمان کا تقاضا،ان کا احترام دین کا شعار اور ان کی پیروی دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے سچی محبت،ان کے ادب و احترام اور زندگی کے تمام مراحل میں اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔آمین