جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اسلام میں بھاوناؤں کی اہمیت

تحریر: کاشف شکیل18 نومبر، 20182,131قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۴ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

انسان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے اس کو لفظ کہتے ہیں۔لفظ کی دو قسمیں ہیں:

1- مہمل: جس کا کوئی معنی نہ ہو

2- موضوع: جو معنی رکھتا ہو

انسان کے ذہن میں ایک معنی ہوتا ہے جس کو مخاطب تک پہنچانے کے لیے وہ کچھ الفاظ کا سہارا لیتا ہے،لیکن بسا اوقات الفاظ معانی کا مکمل ساتھ نہیں دے پاتے اس لیے کہ کچھ جذبات الفاظ سے بلند تر ہوتے ہیں،اس حیثیت سے کہ وہ اتنے لطیف ہوتے ہیں کہ وہ لفظوں کا پیراہن پہننے سے انکار کردیتے ہیں یا صورت حال اتنی نازک ہوتی ہے کہ لفظوں کے انتخاب کا موقع ہی نہیں ملتا۔ایسی صورت میں مخاطب اگر قرائن،کامن سینس (عام شعور)،صورتحال اور خود قائل کو مدنظر نہ رکھے تو سارا معاملہ ہی بگڑ جانے کا اندیشہ ہے:

"تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا

لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی"

ایسی صورت میں ہماری ذمہ داری ہے کہ بات کا بتنگڑ نہ بنائیں،حرفیت پسندی یا ظاہر پرستی کے بجائے جذبات کی سچائی پیش نظر رکھیں۔

اسلام میں جذبات (Emotions)،احساسات (Feelings) اور نیتوں (Intentions) ہی کی اہمیت ہے۔

بخاری کی پہلی حدیث:

"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ،وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى"

(یعنی عمل کا دارومدار نیتوں پر ہے) اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

علماء نے اس حدیث کو دین کی اساس قرار دیا ہے،نیز اللہ نے خود کو حرف شناس یا لفظ داں کہنے کے بجائے علیم بذات الصدور کہا ہے،جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کے یہاں دل کے اندر بسنے والے معانی کی اہمیت ہے نہ کہ ان کو درشانے والے الفاظ کی۔

قربانی کے سلسلے میں اللہ نے کہا:

’’ لن ینال اللہ لحومھا ولادماءھا ولکن ینالہ التقوی منکم‘‘

یعنی اللہ کو تمھاری قربانیوں کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا بلکہ تمھارے دل کی کیفیت (تقوی) پہنچتی ہے۔

مذکورہ بالا نصوص جہاں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام میں معانی کو مبانی پر فوقیت حاصل ہے وہیں وہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ اسلام میں اصل مطلوب یہی دلی کیفیت ہے۔ایمان سراسر اسی دلی کیفیت کا نام ہے،حرفیت پسندی اسلام میں بالکل نہیں ہے،حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی چٹیل میدان میں اپنی سواری کے ساتھ ہوتا ہے پھر اچانک اس کی سواری غائب ہوجاتی ہے اور اس کی سواری پر ہی اس کے خورد و نوش کا سارا سامان رہتا ہے،تلاش بسیار کے بعد بھی اس کو وہ سواری نہیں ملتی اور وہ اس سے بالکل مایوس ہوجاتا ہے اور موت کو اپنا مقدر سمجھ کر ایک درخت کے نیچے آکر سوجاتا ہے،اس دوران اس کی سواری سارے غذائی سامان سمیت اس کے پاس کھڑی ہوجاتی ہے تو وہ اس کی لگام پکڑ کر مارے خوشی سے کہتا ہے:

’’اللھم أنت عبدی وأنا ربک‘‘ (صحیح مسلم:2747)

یعنی اے اللہ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا پالنہار ہوں۔خوشی کے عالم میں اس نے جملے کو الٹ دیا ہے یعنی اللہ کو بندہ اور خود کو رب کہا ہے مگر اللہ اس سے ناراض نہیں ہوتا اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ محض میرے بندے کے الفاظ ہیں،جذبات اس کے برعکس ہیں۔لہٰذا ضروری ہے کہ دو لوگ آپس میں کسی بھی قسم کا رشتہ رکھتے ہوں الفاظ کے دام میں کبھی نہ پھنسیں اس لیے کہ

الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا

غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے؟

جس کی نگاہ گوہر پر ہوتی ہے وہ کبھی صدف کی بناوٹ اور اس کے نقش وعکس کے پیچھے خود کو ہلکان نہیں کرتا ہے۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اسلام میں بھاوناؤں کی اہمیت - دی فری لانسر | دی فری لانسر