عطر بھی آخرکار بدبودار نکلا۔عطر فروش اجمل نے آج ایسی گندھ پھیلائی ہے جس کی شدت سے ہر مسلمان تکلیف میں مبتلا ہے۔تین طلاق جیسی بدعت کے طفیل حلالہ جیسی حرام کاری میں ایسے لوگ ہی ملوث ہیں۔انھیں خوشبو سے کیا واسطہ۔
اسلام اللہ کا دین ہے اور اس کو بعینہ ماننے والے وہ لوگ ہیں جو دنیا میں کہیں سلفی اور کہیں اہل حدیث کے نام سے جانے جاتے ہیں۔اس بات کا اعتراف بیشتر انصاف پسند احناف بھی کرتے ہیں۔جو اللہ کی عبادت میں شرک کے مرتکب ہیں انھیں نہ دین کی سمجھ ہے نہ دین داروں سے محبت۔ایسے لوگ دین والوں کی دشمنی میں اللہ کی عبادت کے لیے بنائی ہوئی مسجد ڈھانے میں بھی جری واقع ہوئے ہیں۔پورے ہندوستان میں ایک دو نہیں سیکڑوں ایسے واقعات ہیں جب انھوں نے اپنے ہی دینی بھائیوں سے مار پیٹ کی،
تاریخ کا یہ کتنا عجیب موڑ ہے جب ہمارے ملک کی مدعو قوم قرآن پڑھ کر طلاق کا مسئلہ سمجھنے کی کوشش کررہی ہے اور یہ بدر الدین اجمل جیسے بدنصیب لوگ جنھیں نہ قرآن سمجھنے کی توفیق مل رہی ہے اور نہ معاملات میں انصاف کی بات کرنے کی۔یہ صرف ایک سلفی کے لیے سنگین معاملہ نہیں ہے بلکہ تمام ہندوستانی مسلمانوں کی عزت،
جس جگہ سرعام بدر الدین اجمل نے اتنا بڑا جھوٹ بولا ہے اگر اسی جگہ معافی نہیں مانگی تو سمجھو سارے ہندوستانی مسلمان زندہ نہیں ہیں مرچکے ہیں۔
مسلمانوں کے تمام حساس اداروں بالخصوص سلفیان ہند کی نمائندہ تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث اور تمام صوبائی جمعیتوں کو مل کر جتنی جلدی ممکن ہو اس شخص سے ابھی آن ریکارڈ معافی منگوانا چاہیے اور کل بھی وہ اپنی بات سے رجوع کرے اور معافی مانگے جہاں اس نے یہ بات کہی ہے۔صحافی کو کتے کا بچہ کہا تو وہیں معافی منگوالی۔کیا سلفی صحافیوں سے بھی گئے گزرے ہیں کہ اب تک سورہے ہیں؟
پارلیمنٹ میں بدرالدین اجمل کا بیان:
"سلفی،
"آج پورے ہندوستان میں جو دہشت گردی ہورہی ہے،





