قرآن پاک نے بارہا سیر و سیاحت اور سفر کی ترغیب دی ہے۔اللہ نے مناظر قدرت سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے والوں کو اپنے پاک کلام میں سراہا ہے۔دراصل مناظر فطرت کو اگر اچھا ناظر مل جائے تو وہ اس کی آنکھوں کے راستے سے دل میں اتر جاتے ہیں۔اب اگر یہ ناظر قوت اظہار میں عمدگی کا حامل ہو تو اپنے الفاظ سے مناظر تخلیق کرکے سفرنامے کی شکل میں قاری کو مستفید کرتا ہے۔
سفرنامے کی روایت بہت قدیم ہے اور متبرک بھی۔قرآن پاک نے سیدنا نوح اور سیدنا موسی علیہما السلام کا سفرنامہ درج کیا ہے۔بائبل سفرناموں سے بھری ہوئی ہے۔خود ہمارے پیغمبر دنیا کے سب سے بڑے ادیب اور فصیح شخص جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر معراج سے بہرہ مند ہوئے تو اس کے احوال امت کے حوالے فرمائے۔آپ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سفر طائف کا واقعہ،
اردو زبان میں سفرنامے کو فنی حیثیت حاصل ہے۔سفرنامے میں سفرنامہ نگار اپنے سفر کے مشاہدات،
آپ کا سفرنامہ شام، قاہرہ اور یوروپ علمی و ادبی مواد سے لبریز جداگانہ اسلوب کا حامل ہے۔
آپ کے سفرنامے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی معقولیت پسند طبیعت جذبات کو عقل سے الگ نہیں ہونے دیتی۔آپ جہاں اعلی درجے کی جمالیاتی حس رکھتے ہیں وہیں جذبات کو عقل پر غالب نہیں آنے دیتے۔اپنی پسندیدگی کو محض اپنے دل سے اٹھنے والی آواز نہیں بتاتے بلکہ اس کا معقول سبب بھی بتاتے ہیں۔
تاریخی مقامات سے گزرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ آپ یہاں کے مسافر نہیں بلکہ رہنما ہیں۔ایک ہی جگہ پر مختلف زاویے سے بحث کرتے ہیں۔آپ کی اسلامی،
آپ کی یاد داشت کا کمال یہ ہے کہ بائیس سالہ قبل کے سفر کی جزئیات اس طرح بیان کرتے ہیں گویا اسے دیکھ رہے ہوں:
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
آپ کے سفرنامے میں منظر کشی کمال کی ہے۔ایک اقتباس ملاحظہ کریں:
"رات کے اندھیرے میں نیل کے پل پر کھڑے ہوکر تھوڑی دیر میں نے نگاہ دوڑائی صرف جل تھل پانی دکھ رہا تھا اور نیل کے دونوں کناروں پر آباد عمارتوں کی روشنیوں کا عکس نیل کے منظر کو مزید دلکش و جاذب نظر بنائے ہوئے تھا گویا نیلے آسمان کے چمکتے ستارے اتر کر نیل کی مچھلیوں کے سروں پہ آ بیٹھے ہوں اور جانے کی جلدی میں پانی کی تہ میں بیٹھی مچھلیوں کو اشاروں میں کچھ کہہ رہے ہوں جس کی وجہ سے پانی میں ارتعاش سا پیدا ہورہا تھا۔خیر تھوڑی دیر بعد ٹیکسی ایک ہوٹل کے پورچ میں آن کھڑی ہوئی۔ہوٹل کا نام تھا الفراعنہ۔"
آپ جمالیات کے بیان میں اس قدر آگے نہیں جاتے جہاں حقیقتوں کی زمین ختم ہو کر تصورات کا سمندر آ جاتا ہے۔ہر سکے کے دونوں رخ دیکھتے ہیں اور جہاں خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں وہیں تلخ حقائق کے اظہار میں بڑے بے باک نظر آتے ہیں۔مثلا ذیل کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
"ظاہر ہے جس شہر میں حریت ذات کے نام پر نشہ کرنے کی قانونی اجازت ہو وہاں کیا کیا مراعات نہ حاصل ہوں گی بس تصور کیجیے اور حقیقی دنیا سے ورچول دنیا کا سفر کیجیے وہاں کی دنیا بخوبی سمجھ جائیں گے،
ایک خوبی جو بہت کم ادباء کے یہاں نظر آتی ہے وہ مناظر کو زبان دینے کی ہے۔آپ کے سفرنامے کا یہ حصہ دیکھیں کہ کس قدر مختصر الفاظ میں آپ نے ابوالہول کے بارے میں قاری کو ایک زبردست تاثر دیا ہے:
"ابوالہول واقعتا عجائب روزگار میں سے ہے میں اسے دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ایسا لگا جیسے وہ اپنی زبان حال سے اعلان کر رہا ہو کہ میں لازوال ہوں میں نا قابل تسخیر ہوں مجھے جاودانی حاصل ہے میں رہتی دنیا تک بے مثال ہوں۔"
اس اقتباس کے بعد آپ نے ابوالہول کے سلسلے میں جو علمی و تاریخی گفتگو کی ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔اپنے سفرنامے میں آپ محض سفرنامہ نگار نظر نہیں آتے بلکہ ساتھ میں ایک مؤرخ اور تجزیہ نگار بھی نظر آتے ہیں۔جرمنی کے نام کے حوالے سے لکھتے ہیں۔"دراصل جرمنی کو جرمن زبان میں Deutschland،
آپ نہ صرف اردو ادب کے ماہر ہیں بلکہ انگریزی اور عربی ادب کا بھی اچھا درک رکھتے ہیں اس لیے چلتے چلتے یورپین اور عربی ادباء پر بہت خوبصورت کلام کرتے ہیں۔سفرنامہ جرمنی میں آپ نے گوئٹے کا بہت شاندار ذکر کیا ہے۔اپنے سفرنامے کے ذریعے قاری کو محض سیر و تفریح نہیں کرائی بلکہ اپنے درد مند دل سے ایک فکر بھی پروسی ہے۔مثلا آپ رقم طراز ہیں:
"ہندوستان کو قدرت نے بے پناہ آبی وسائل سے مالامال کیا ہے۔شمال سے جنوب اور مغرب سے مشرق تک اس ملک میں کئی ندیاں بہتی ہیں۔ہندوستان کے بیشتر شہر انہی ندیوں پر آباد ہیں لیکن ان کا مقصد صرف اتنا ہے کہ انھیں شہر کی تمام غلاظتوں اور آلائشوں سے پاٹ کر متعفن کردیا جائے۔نجانے کیا وجہ ہے بھارت واسیوں کو صفائی سے جنم کا بیر ہے شاید قدرت نے انھیں ذوق جمال سے ہی محروم رکھا ہے۔اس کے برعکس دنیا کے دوسرے ممالک ایسی ندیوں کو نعمت سمجھ کر ان کی صفائی ستھرائی پر بہت دھیان دیتے ہیں،
میں آخر میں مولانا رفیق احمد رئیس سلفی (علیگڑھ) کا تبصرہ نقل کر کے اپنی بات ختم کرنا چاہوں گا۔آپ فرماتے ہیں:
"اس طرح کے علمی سفرنامے تنقیدی بصیرت،
ریاض صاحب نہ صرف مختلف ممالک کے مسافر رہے ہیں بلکہ انھوں نے وہاں ایک مدت بھی گزاری ہے۔فی الحال سعودی سفارتخانے سے وابستہ ہیں اور ممبئی یونیورسٹی میں ایڈوانس ڈپلومہ کے پروفیسر۔اس لحاظ سے آپ کا یہ سفرنامہ آپ کے تجربات کا نچوڑ ہے۔
دعا ہے کہ اللہ ریاض مبارک صاحب سے مزید علمی و ادبی کام لے اور صحت و عافیت کے ساتھ ان کی عمر دراز فرمائے۔آمین





