جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اتیت کی چاشنی

تحریر: ابوالمیزان6 اپریل، 20191,362قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

تاریخ دو طرح سے یاد رکھی جاتی ہے۔اور وہی دونوں طور طرز فکر اور رنگ عمل درشاتے ہیں۔اور انہی دونوں باتوں سے متعلقہ قوم کی دشا اور دشا معلوم ہوتی ہے۔

تاریخ ریفرینس کے لیے ہو تو صحت کی علامت ہے اور اگر اس کی حیثیت صرف بیانیے کی ہوجائے تو بیماری ہے۔ایسا اتیت جس کے دردانگیز بیان میں چاشنی ملے وہ یا تو فیبریکیٹیڈ ہے یا پھر آلہ سماعت میں ہی کوئی خرابی ہوگی۔

جس کے باپ دادا پھٹے حال ہوں اس کا بچپن بھی سنجیدگی کا شکار ہوجاتا ہے،جوانی تو خیر وقت سے بہت پہلے آجاتی ہے۔ایسی سچویشن میں وقت بھٹی بن جاتا ہے اور لوہا کندن۔لیکن اگر باپ دادا خوش حال ہوں تو اولاد کو فنون لطیفہ،عاشقی اور سیر و تفریح کی سوجھتی ہے۔

وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران:140)

یہ عمومی صورت حال ہے مگر ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ نوح علیہ السلام کے گھر کنعان پیدا ہو اور ابراہیم علیہ السلام آزر کے یہاں جنم لیں۔پوروائی اور پچھوا ہی نہیں چلتی ہیں ہوائیں۔ہوا کبھی اتر اور کبھی دکھن سے بھی چلتی ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے یہاں یوسف علیہ السلام پیدا ہوتے ہیں اور زکریا علیہ السلام کے گھر یحییٰ علیہ السلام۔

فکر و نظر اور ایمان و عمل کی بات ہے کہ دن رات کیسے گزریں گے اور کیریکٹر کیسا ڈیولپ ہوگا۔

اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا (الدھر:3)

ہر سوچ،ہر لفظ اور ہر عمل علم و یقین کا اظہار ہوتا ہے۔سوچ،لفظ اور عمل میں تضاد ہو تو نفاق ہوتا ہے۔ایمان اور کفر کی راہیں تو بڑی روشن ہیں۔شک،دھوکہ،بیماری،فساد،عیاری اور مفاد پرستی کی راہ نفاق تک لے جاتی ہے۔اور نفاق دن اجالے کچھ دکھائی نہ دینا ہے،بہرا گونگا اندھا ہوجانا ہے۔

بچے تو بڑوں کو دیکھ دیکھ کر سیکھتے ہیں اور جوان بوڑھوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔لال خون کی بھی ایک ویلیڈٹی ہوتی ہے،پرانا ہوتا ہے تو گاڑھا بھی ہوجاتا ہے اور ڈارک بھی۔لیکویڈٹی کا بھی ایک دور ہوتا ہے،خون کب کہاں کس نس میں چپک کر جم جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔آکسیجن کی بھی ایک لہر ہوتی ہے،سانسیں کب گلے میں اٹکنے لگیں یہ قادر مطلق کو ہی پتہ ہے۔

اتیت عبرت ہو چاشنی نہیں،تاریخ سبق ہو پناہ گاہ نہیں۔پدرم سلطان بود کی گردان سے حال نہیں بدلتا نہ مستقبل کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔فرق پڑنا چاہیے،سوچ ایسی ہو۔سمت غلط ہو تو سفر منزل تک نہیں لے جاتا۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

A
Abdul Rehman
7 اپریل، 2019
Artical adhoora hai

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

وفا

کوئی حسن ظن انتہائی خوشگوار حقیقت میں تبدیل ہوجائے تو صرف حیرت ہی نہیں ہوتی، بڑی مسرت بھی ہوتی ہے۔ وہ گھڑی بھی ایسی تھی کہ آنسو چھلک پڑے، خوشی کے آنسو۔حقیقت کے مشاہدے میں ذرا سا وقت گزرا تھا کہ اس کوالٹی کی تصدیق بھی ہوگئی جس کے بغیر کوئی تعلق نہیں سنبھلتا۔ پیچھے […]

منظر نما
1,51826 جنوری، 2025
اتیت کی چاشنی - دی فری لانسر | دی فری لانسر