جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ندا ہے قلب کی، خامے کی کوئی آہ نہیں

کلام: کاشف شکیل14 فروری، 20201,579قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہماری ان کی کئی دن سے رسم و راہ نہیں
یہ اور بات ہے ان سی کسی کی چاہ نہیں
شکستہ حال کیا ہم کو عشق نے ورنہ
ہمارے جیسا زمانے میں کوئی شاہ نہیں
مذاقِ عشق ہے حاصل مگر یہ کہتے ہیں
"گناہ عشق سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں"
ہمارے حال پہ خوش ہو نہ تالیاں پیٹو
اکھاڑہ عشق کا کوئی تماشہ گاہ نہیں
وہی نگاہیں وہی خال و خد وہی لب بھی
تمھارے مثل مگر ان میں کوئی ماہ نہیں
اگرچہ لفظ شکستہ ہیں تیرے اے کاشف!
ندا ہے قلب کی، خامے کی کوئی آہ نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ندا ہے قلب کی، خامے کی کوئی آہ نہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر