جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مسجد اقصی اور قبة الصخره

تحریر: ذکاء اللہ عبیداللہ9 اپریل، 20201,757قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مسجد اقصی اور قبة الصخره
فل اسکرین دیکھیں

فلسطین کرہ ارضی پر واحد ایسا زمینی ٹکڑا ہے جو تینوں آسمانی مذہب (اسلام،یہودیت اور نصرانیت) میں مقدس تسلیم کیا جاتا ہے۔صلیبی اور صیہونی طاقتیں ہمہ وقت اپنی دسیسہ کاریوں اور سازشوں سے اس پر قابض ہونے کی تاک میں تھیں (افسوس آج مسلمانوں کا تاریخی اور ثقافتی شہر ماسونی قوتوں کے زیر نگیں ہے) جس کی بڑی وجہ مسجد اقصی تھی۔یہ مسلمانوں کا قبلہ اول تھا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہیں معراج اور انبیا کی امامت کا شرف حاصل ہوا تھا،جب کہ قبة الصخره Dome of the Roke (زرد گنبد) یہ ایک پتھر ہے "630ء میں خلیفہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کو فتح کرنے کے بعد اس علاقہ کو صاف کیا اور چٹان واضح ہوئی۔جب کہ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان نے 685ءاور 691ء کے درمیان کثیر سرمائے سے چٹان کے اوپر گنبد تعمیر کرایا۔۔۔یہ ہشت پہلو عمارت پچھلی تیرہ صدیوں سے دنیا کی خوبصورت ترین عمارتوں میں شمار ہو رہی ہے۔یہودی عقیدے کے مطابق اس چٹان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی قربانی دی (یہ قول نقل اور عقل دونوں اعتبار سے بے بنیاد اور غیر قابل قبول ہے ) ایک اور یہودی عقیدے کے مطابق اس چٹان پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہیکل تعمیر کیا تھا (اس کی خیالی تصویر گوگل پر دیکھی جا سکتی ہے) جس میں تابوت سکینہ رکھا گیا تھا"۔

تابوت سکینہ بنی اسرائیل کا وہ صندوق ہے جس میں انبیا کے تبرکات تھے(Wikipedia. org.)

اس تابوت سکینہ کو یہود اپنی جنگوں میں بطور تبرک لے جایا کرتے تھے اور اس عمل کو فتح و نصرت کا پیش خیمہ خیال کرتے تھے۔مذکورہ اہمیتوں کے پیش نظر یہودی قبةالصخره کی دیوار پکڑ کر گریہ و زاری کرتے ہیں۔

ہندوستان میں ایک عام مسلمان قبة الصخره کو ہی مسجد اقصی گمان کرتا ہے حالانکہ جو اہمیت اسلام کی نظر میں مسجد اقصی کی ہے وہ قبة الصخره کی نہیں۔جس طرح مسجد حرم میں کعبہ ایک خاص مسجد ہے اور اس کی اپنی تاریخ ہے اسی طرح حرم اقصی( احاطہ اقصی نہ کی اصطلاحی حرم مراد ہے) میں کعبہ کی طرح مسجد اقصی ہے۔حرم اقصی میں بھی مختلف مقامات ہیں "قبة الصخره،مصلی المروانی(مسجد مروانی) مصلی القبلی(مسجد اقصی) اور حائط البراق(کتاب: انقلاب شام،ابو تراب ندوی)

آج عام کیلینڈروں میں بآسانی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جس میں قبة الصخره کی تصویر پرنٹ ہوتی ہے اور اس کے کسی حاشیہ پر موٹے حروف میں مسجد اقصی یا بیت المقدس لکھا ہوتا ہے اس دقیق فرق کی اصلاح بے حد ضروری ہے۔

اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے۔آمین

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

ش
شعیب اختر
15 اپریل، 2020
جو صحیح ھے اسی چیز کو اپناو کیونکہ غلط غلط ھوتا اسلے کچھ بھی کرنے سے پہلے عالم دین سے مشورہ لے قران و حدیث کے مطابق پھر وہ عمل کریں۔۔ یا اللہ ھم تمام مسلمانوں کو صحیح علم نافع دے آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مسجد اقصی اور قبة الصخره - دی فری لانسر | دی فری لانسر