انسان کو راہ راست سے بھٹکانے کے شیطان کے مختلف حربے ہوتے ہیں۔شیطان ہر ایک کو ایک ہی طریقے سے بھٹکانے کی کوشش نہیں کرتا۔علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے تلبیس ابلیس میں ان کے بہت سارے راستوں کی نشاندہی کی ہے۔اگر کسی کو سود،
انہی خفیہ راہوں میں سے ایک مہلک راہ الحادی ذہنیت کی طرف مسلمانوں کو مائل کرنا ہے۔چنانچہ اسلوب کی سحر انگیزی سے ان کے جذبات پر چوٹ کرتا ہے۔انھیں بھاوناؤں میں بہاتا ہے اور مختلف راستوں سے کسی اہم اسلامی عبادت کے مقابلے دوسرے نیک اعمال کو مزین کرکے پیش کرتا ہے۔اس سے اس کا اصل مقصد اس نیک عمل کی طرف ترغیب دلانا نہیں ہوتا بلکہ اسلامی شعائر سے دور کرنا ہوتا ہے۔لیکن چونکہ یہ دھیما زہر ہوتا ہے اس لیے بظاہر اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی لاشعوری طور پر اس کے شکار بن جاتے ہیں اور انھیں احساس تک نہیں ہوتا کہ جانے انجانے میں ہم الحادی ذہنیت کی کٹھ پتلی بن رہے ہیں۔
عید الاضحی کا موسم آتے ہی اسی طرح کی الحادی ذہنیت کے شکار لوگوں کی یہ نصیحت آپ نے بارہا سنی ہوگی کہ ایک جانور قربان کرکے دو چار دنوں میں اس کا گوشت کھاکر اور کھلا کر ختم کر دینے سے کہیں زیادہ نیکی کا کام ہے غریبوں مسکینوں اور بے سہارا لوگوں کے لیے سال بھر کے کھانے پینے کا انتظام کردیا جائے۔ایسے موقع پر انھیں یہ فقراء ومساکین شدت سے یاد آتے ہیں۔اور ان کی فقیری دور کرنے کا اس سے بہتر کوئی راستہ انھیں دکھائی نہیں دیتا۔
لیکن فقراء ومساکین کے غموں تلے دبے ہوئے انہی غمگساروں کو آپ پائیں گے کہ رمضان المبارک میں زکات اور صدقہ فطر کی تقسیم کے وقت ان کی غریب نوازی کہیں رخصت ہوجاتی ہے۔اس وقت انھیں ان کی غریبی نہیں بلکہ قوم کی تنزلی،
ایک بار تو ہمارے گمانی علاقے میں ایک تحریک تک چلائی گئی کہ ”فقراء ومساکین کا تعاون کرنا بند کرو“،
کئی سال پہلے کی بات ہے میں رمضان کے آخری عشرے میں اپنے ایک قریبی رشتے دار کے پاس گیا ہوا تھا۔اسی الحادی ذہنیت کے شکار ایک صاحب ملے،
میں نے کہا: سب سے پہلے اپنے ذہن سے اس بات کو نکال دیں کہ یہ آپ کا مال ہے۔در حقیقت انہی فقراء کا یہ حق ہے،
خلاصہ یہ کہ قربانی کے وقت فقیروں کے مسیحا نظر آنے والے اور زکات وصدقات کے وقت ان کے دشمن نظر آنے والے در حقیقت اسی الحادی ذہنیت کے شکار ہوتے ہیں۔انھیں فقراء کی فقیری یا قوم کی تنزلی سے زیادہ اسلامی شعائر سے پریشانی ہوتی ہے۔اور ان کی چال میں کچھ سادہ لوح علما بھی لا شعوری طور پر پھنس جاتے ہیں اور ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں۔یقینا ان کی نیت اچھی ہوسکتی ہے لیکن طریقہ کار اسی الحادی ذہنیت کی مدد کرنے والا ہوتا ہے۔
یہاں تک کہ ترقی کرتے کرتے بعض یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ پانچ وقت کی نماز وقت کا ضیاع لگتا ہے،
چنانچہ آئے دن ایسی خبریں ہم پڑھتے ہی رہتے ہیں۔ابھی حال ہی میں ایک بنگلہ دیشی مسلم وزیر کا حج کے موقع پر ایک بیان آیا تھا کہ ملک کے لاکھوں لوگ تقریبا ایک ڈیڑھ مہینے کے لیے اپنے تمام کاموں سے دور رہ کر اپنا اور ملک کا نقصان کر رہے ہیں۔
اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے عمرے متاثر ہیں،
آخر ایسے موقع پر ہمیں اسلامی شعائر پر خرچ ہونے والے پیسے ہی کیوں نظر آنے لگتے ہیں؟
کوئی یہ مشورہ کیوں نہیں دیتا کہ اپنی زمین جائداد،
آخر وطن عزیز سے مسلمانوں کی کتنی فیصد تعداد ہر سال حج کرنے جاتی ہے؟ دو فیصد سے بھی کم۔اور اپنے علاقے میں تو ایک فیصد سے بھی کم۔حالانکہ اس سے کہیں بڑی تعداد ایسے مالداروں کی ہوتی ہے جن پر حج فرض ہے لیکن انھیں اس کی فکر ہی نہیں۔
جو ایک ڈیڑھ فیصد حج کرنے والے ہوتے ہیں عموما وہ پہلے سے ہی صدقات وخیرات میں دوسروں سے کہیں آگے ہوتے ہیں۔اس کے باوجود غرباء وفقراء کی مدد کے لیے سب سے پہلے حج پر خرچ ہونے والے پیسے ہی ہمیں کیوں نظر آنے لگتے ہیں؟

دراصل وہی الحادی ذہنیت یہاں کارفرما ہوتی ہے اور ہم لاشعوری طور پر اس کے شکار ہو جاتے ہیں۔ورنہ آپ غور کریں کہ پوری دنیا میں روزانہ بھوک سے مرنے والوں کی تعداد کتنی ہے!! ایک رپورٹ کے مطابق روزانہ بھوک سے مرنے والوں کی تعداد سولہ ہزار ہے،
انسان پہلے کہاں خرچ کرے؟ حج پر یا آل واولاد،
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ






