عالمی مہلک وبا جس تیزی سے پوری دنیا بالخصوص ہندوستان میں پھیلتی جارہی ہے یہ بہت بڑی پریشانی کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔
معیشت کا نقصان،
اس حقیقت سے ہم سب آگاہ و باخبر ہیں کہ یہ وبا مخفی طریقہ سے بدن میں سرایت کرکے چند دنوں بعد اپنا اثر دکھاتی ہے اس کے بعد چلتے پھرتے انسان کو محو فراش کرنے کے ساتھ گردو نواح کے باشندوں کو بھی اپنے زد میں لے لیتی ہے۔
اسی طرح اس حقیقت سے بھی آگاہی ضروری ہے کہ اس بیماری کی روک تھام میں ساری دنیا کی محیر العقول ایجادات وانکشافات ناکافی و مجبور محض ہیں۔بڑے بڑے سائنس دان،
وہ امریکہ جو اپنی برق رفتار ترقی،
ما بعد کرونا امریکہ کے پاس سپر پاور کی کرسی رہی گے یا نہیں؟ کیا اس وبا کے بعد دنیا کے سامنے ایک نیا معاشی نظام ابھر کے سامنے آئے گا؟ وغیرہ۔ماہرین اس تعلق سے بہت ساری باتیں کہہ رہے ہیں۔
بہر کیف معاملہ جو بھی ہو ہمیں فی الحال اس مہلک وبا سے حتی الامکان بچنے کی بھر پور کوشش کرنی ہوگی اس لیے کہ جان ہے صحت و تندرستی ہے تو جہان ہے۔
اس تعلق سے کی جانے والی احتیاطی تدابیر جس سطح پر بھی ہو چاہے گاؤں،
پیش آمدہ خطرات،
اس مہا ماری میں بھی کچھ لوگ جذبہ خدمت خلق سے سرشار سینوں کو طنز و تنقید کے نشتروں سے چھلنی کرنے کا بیہودہ کام کیے جارہے ہیں جبکہ وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان کی آیت انھیں دعوت فکر وعمل دینے کے ساتھ ایسوں کی معیت ورفاقت میں چلنے کی ترغیب اور ان کے عمل میں کجی تلاشنے کی ترہیب کررہی ہے۔
اللہ ہم سب کو اس مہلک بیماری سے محفوظ رکھے۔ریاکاری،





